اطالوی جج نے سزائے موت سنانے سے پہلے عمر مختار سے پوچھا:
— کیا تم نے اطالوی ریاست کے خلاف جنگ کی؟
عمر مختار: ہاں۔
— کیا تم نے لوگوں کو اطالوی ریاست کے خلاف لڑنے پر اُکسایا؟
عمر مختار: ہاں۔
— تم نے اٹلی کے خلاف کتنے سال جنگ لڑی؟
عمر مختار: تقریباً 20 سال۔
— کیا تمہیں اپنے کیے پر افسوس ہے؟
عمر مختار: نہیں۔
— کیا تم جانتے ہو کہ تمہیں پھانسی دی جائے گی؟
عمر مختار: ہاں۔
جج حیرت سے بولا:
— تم جیسے شخص کے لیے ایسا انجام بہت افسوسناک ہے...
یہ سن کر عمر مختار نے جواب دیا:
— اس کے برعکس! یہ تو میری زندگی کے اختتام کا سب سے خوبصورت طریقہ ہے۔
جج نے کہا کہ اگر وہ ایک تحریری اعلان لکھ دیں جس میں مجاہدین کو جہاد روکنے کا حکم ہو، تو اسے معاف کرکے جلا وطن کر دیا جائے گا۔ اس پر عمر مختار نے اپنے مشہور الفاظ کہے:
"یہ انگلیاں، جو ہر نماز میں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، کبھی کوئی جھوٹی بات نہیں لکھ سکتیں! ہ�� ہتھیار نہیں ڈالتے؛ یا تو ہم کامیاب ہوتے ہیں یا شہید۔ اور اگر ہم شہید بھی ہو جائیں تو بھی ہم جیت جاتے ہیں اور تم ہار جاتے ہو۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ تم یہ حقیقت صرف اپنی موت کے وقت سمجھو گے، اور اُس وقت سمجھنا تمہارے کسی کام نہیں آئے گا!"
@Hammad_Azhar@rogueonomist govt has imposed 48% duty on batteries, Pakistanis battery import jumped 68% in 2025.... govt can give some relief to the public by removing this duty on battery storage.