Political Science Student, Writer, Poet, Traveler, so on. No Politics without Imran Khan. I took interest in Pakistan with Khan and it will end with Khan.
سانحہ ساہیوال آئی ایس آئی کا انٹیلی جنس فیلئیر تھا۔ عاصم منیر اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھا۔ تب بھی آئی ایس آئی کی پالیسی یہی دیکھے بغیر بھون دو تھی۔ سی سی ڈی بھی اسی ذہنیت اور شہباز شریف کے پولیس مقابلوں والی سوچ کا تسلسل ہے۔ نیفے میں پستول چلنے کی خوشیاں منانے والے بھی چکوال میں معصوم بچی کے شہادت میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ کسی کا جرم کتنا ہی گھناونا کیوں نہ ہو ، بغیر ٹرائل کے سزا دینا اس سے بڑا جرم ہے اور معاشرے میں تباہی کا سبب ہے۔
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
ہم سب اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اتنے کشمیریوں کے خون بہہ جانے کے باوجود کہیں ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے سو بندہ بھی نہیں نکلا۔ یہی سکھایا تھا ہمیں خان صاحب نے؟
افسوس
پاک فوج کے افسران و جوانان شہید بھی جنتی بھی۔ ڈی چوک میں ، مریدکے ، کوٹلی ، راولا کوٹ میں گولی چلانے والی ، عمران خان کو اغواء کرنے والی ، اسکی بینائی چھیننے والی فوج جہمنی ، دوزخی، مردود۔
اب ٹھیک ہے؟
کشمیری رہنما بھی چاہتے تو پی ٹی آئی قیادت کی طرح ٹرک کی بتیوں کے پیچھے لگا کا وقت گزارتے رہتے، کبھی جلسہ کرلیتے تو کبھی ہومیوپیتھک احتجاج کی کال دے دیتے
لیکن نہیں !! انھوں نے ایک ہی دفعہ اپنی جانیں داو پر لگا کر حقیقی مزاحمت کی کال دے دی ، عمران خان نے بھی ہمیشہ اسی سٹائل میں مزاحمت کی ہے، لیکن نجانے تحریک انصاف کی قیادت کن راستوں پر گامزن ہے، آخر کب یہ اپنی اصلی طاقت پہچانیں گے اور کب یہ آگے بڑھیں گے
سوال: عمران خان کی رہائی کا کیا بنا؟
بشری بی بی کی رہائی کا کیا بنا؟
جواب: رابطے چل رہے ہیں
بات ہو رہی ہی
پسِ پردہ بہت کچھ ہو رہا ہے
بی بی ایک دو مہینے میں آ جائیں گی اور عمران خان اگست ستمبر تک۔
بھئ واہ👏🏻👏🏻
یہ جو پچھلے تین سالوں میں الیکشن چوری پر چوری ہوا ہے ، ترمیم پر ترمیم ہوئی ہے اور اب اگلی ہونیوالی ہے اس کے بعد بھی یہ تسلی باقی ہے کہ ساڈی گَل ہو رئی ہے۔
واہ۔تالیاں۔
مظفرآباد اے پی سی صرف اس مشاورت پر ہوٸی کہ ہمیں کیسے کچلا جاٸے۔اس میں آٸی ایس آٸی کے بریگیڈٸیر نے کہا میں ان کے ساتھ وہ حال کروں گا جو ڈی چوک میں کیا تھا۔عمر نزیر کشمیری
عمران خان کو عوام نے وزیراعظم بنایا تھا۔ 2018 الیکشن میں RTS System بٹھا کر عمران خان کی 32 سیٹیں کم کی گئی تھی۔ عمران خان کسی کے کندھوں پر وزیراعظم نہیں بنا۔ اچکزئی صاحب اس بابت اپنے موقف کو برائے کرم درست کرلیں۔
🚨آرمی چیف اور وزیر اعظم آپ دنیا میں امن کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہو جو کھیل 5 جون سے 10 جون تک تم نے کشمیر میں کھیلا اس کی مثال تو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھی نہیں ملتی
انھوں نے بھی کبھی پرامن مظاہرین پر ہسپتال میں جا کر ظلم نہیں کیا، یہ سیاہ دھبہ تمھارے ماتھوں پر لگ گیا ہے،
عمر نظیر کشمیری
جگہ جگہ رپورٹ ہورہا ہے کہ کوٹلی میں راولا کوٹ میں فوج نے ہسپتال پہنچنے والی لاشیں تحویل میں لینے کی کوشش کی۔ یعنی یہ لاشیں غائب کرنا چاہتے تھے۔ یعنی یہ لاشیں غائب کرتے رہے ہیں۔ یعنی یہ وہی ہیں۔ مریدکے سے لاشیں غائب کرنے والے۔ ڈی چوک سے لاشیں غائب کرنے والے۔ یہ وہی ہیں۔
گرنے والے ہیلی کاپٹر میں بیس رینجرز اہلکار موجود تھے۔ کوٹلی ، راولا کوٹ میں فائرنگ بھی رینجرز نے کی۔ طرفین جمل اور صفین کے فریقین نہیں کہ ہم خاموش رہیں۔ یا تو یہ رینجرز شہید ہیں یا وہ نہتے شہید ہیں جن پر احتجاج کرتے ہوئے گولیاں چلائی گئیں۔
سہیل آفریدی وہ بادام ہے جو فوج نے کچہ ہی توڑ لیا ہے۔ سہیل آفریدی کو بتایا گیا ہے کہ وفاق سے مکمل تعاون کی صورت میں تحریک انصاف کو “ سپیس “ ملے گی۔ محسن نقوی سے ہونے والی خفیہ ملاقاتوں میں یہی طے پایا ہے۔ سہیل آفریدی کو سبز باغ یہ دکھایا گیا ہے کہ عمران خان “ سپیس “ جیسی نعمت ملنے پر خوشی سے پاگل ہوجائیں گے اور سہیل آفریدی کو اس عظیم کارنامے پر اپنا جانشین نامزد کردیں گے۔ فوج بھی مکمل تعاون کے بدلے عمران خان کو سہیل آفریدی کی سفارش کردے گی۔
اس سلسلے میں محمود اچکزئی , بیرسٹر گوہر وغیرہ بھی ضمانتیں دینے اور سہیل آفریدی کو یقین دہانیاں کروانے میں شامل ہیں۔ صدیق جان بھائی اور ان کا اسلام آبادی صحافتی ٹولہ و آئی ایس پی آر اپنے اثاثوں کی مدد سے اور اندر کی خبر والے نیٹ ورک کے ذریعے عمران خان کی رہائی ، سابق آرمی چیف سے ملاقات ، عمران خان قومی حکومت پر رضا مند اور وغیرہ وغیرہ والی خبریں تواتر سے چلا رہا ہے ، تاکہ سہیل آفریدی کو اور یوتھیوں کو یہ تاثر ملتا رہے کہ واقعی کچھ نا کچھ ہورہا ہے۔
تیسرا فیکٹر یہ ہے کہ سہیل آفریدی کو “ ناراض اراکین “ والی جھلکیاں بھی دکھائی جارہی ہیں ، نومئی اور دیگر کیسز پہلے سے موجود ہیں اور دس بیس سال کی قید ، وزارت اعلی کا چھن جانا وہ خوف ہے جو ساتھ ساتھ دکھایا جارہا ہے۔ وزارت اعلی جاتی دیکھ کر علی امین گنڈاپور علیمہ خانم کو ایم آئی کی ایجنٹ کہنے پر اتر آیا تھا سہیل آفریدی بھی اسی ہی کیفیت کا شکار ہوسکتا ہے۔
فوج کسی نا کسی بہانے سے وقت لیتی جاتی ہے اور اس امید میں ہے کہ کوئی معجزہ ہوگا اور ملکی معاشی و سیاسی حالات بدل جائیں گے۔ اگر چار دن اچھے لگ جائیں جیسے بھارت سے جھڑپوں اور ٹرمپ کی پوسٹس کے دوران ہوا تو اوقات سے باہر ہوجاتے ہیں ، کوئی مشکل آپڑے ، تیل مہنگا ہوجائے ، نئے ٹیکس لگانے ہوں اور احتجاج شروع ہوجائیں جیسا کہ آجکل ہورہا ہے تو ٹھنڈی ہوائیں چلانا شروع کردیتے ہیں۔
فوج کی موجودہ پالیسیز کے ہوتے ہوئے ملکی حالات بہتر ہونے والے نہیں۔ عمران خان کی رہائی موجودہ نظام اور اسکے بینفشریز کی موت ہے۔ کچھ وقت بعد جب سہیل آفریدی پر سوشل میڈیا اور عوام کا دباؤ زیادہ آئے گا اور فوج حسب سابق ، حسب توقع “ سپیس “ نہیں دے گی تو پھر سہیل آفریدی کو اندازہ ہوگا کہ انکے ساتھ ہاتھ ہوا ہے۔ سہیل آفریدی کا ڈنگ مکمل نکل چکا ہے۔ عوامی پذیرائی ختم ہوچکی ہے ۔ فوج سہیل آفریدی کو یوتھیوں کے آگے پھینک دے گی ، ویسے ہی جیسے گنڈاپور کو استعمال کرکے پھینک دیا تھا۔ یوتھیے ا س کچے بادام کو چکھے بغیر پھینک دیں گے۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔
عاصم منیر کے آرمی چیف بننے سے لیکر اب تک تین ہزار سیکیورٹی فورسز کے اہلکار جان سے جا چکے ، صرف مئی کے مہینے میں پانچ چھ درجن دہشتگردی کے واقعات ہوئے ، بلوچستان میں ریاستی رٹ ختم ہوچکی ہے ، بھارت پاکستانی دریاؤں پر ڈیم بنائے جارہا ہے۔
اس شرمناک صورتحال میں کشمیریوں کو پاک فوج کے فضائل گنوانے والوں کو تھوڑی سی شرم آنی چاہیے۔
کشمیر کاز کے سب سے بڑے فریق کشمیری خود ہیں۔ اگر وہ بارہ نشستیں نہیں چاہتے تو نہیں چاہتے۔ کسی دوسرے یا تیسرے فریق کو انہیں ان نشستوں پر ڈکٹیشن دینے کا کوئی حق نہیں۔