کسی کا ٹوئیٹ ری ٹوئیٹ کرنے کی ذمہ داری میرے اکاؤنٹ کی نہیں!
Black are my Clothes, Black is my Grab. Full of Failings am I, people call me Sage.
BABA FARID
مجھے آج تک وہ گھڑی یاد ہے جب ریڈیو پہ بعد از دوپہر یہ خبر نشر ہوی۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اور میں اپنے گاؤں کے معزز استاد جو کسی دوسرے ضلع میں تعینات تھے اور گرمیوں کی چھٹیوں میں گاؤں آے ہوے تھے ، کے پاس مودب بیٹھا سبق پڑھ رہا تھا۔ اچانک خبر شائع ہوی اور استاد صاحب بہت پریشان ہو گئے اور مجھے کہا کہ بھاگ کر جاؤ اور اپنے والد صاحب کو بتاو ۔
میرے والد صاحب نے تحصیل بھر میں ایم حمزہ مرحوم کے ساتھ مل کر محترمہ کی انتخابی مہم چلای تھی۔ میں نے جا کر والد صاحب کو بتایا تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
بھراوا بڑے یاراں متراں دا ترلا ماریا بھی میرے نال سہاگا پھرا دیو لیکن کوئی کم نی آیا آخر تے ایس بَگلے دا ترلا پایا تے ایہہ سہاگے تے بیٹھا 😁
#Punjab#Punjabi
ایرانی میڈیا کہہ رہا ہے کہ بحرین اور کویت نے مل کر ہماری آج بجائی ہے
عرب ممالک پچھلے پانچ مہینوں سے خاموش تھے پلٹ کر جواب نہیں دیتے تھے کہ اسرائیل کی سازش آپس میں لڑوانے والی کامیاب ہو جائے گی آخر پاسدران نے اپنا کام کر دکھایا ہے
قطر سعودیہ نے بھی ٹھوکنا شروع کیا تو بچنا کچھ نہیں ان احسان فراموشوں کی زمین پر
شاباش بحرین شاباش کویت 🙌🏻🙌🏻
آپ کی حکومت اور وزیر اعلی تھا ساڑھے تین سال،بلدیاتی حکومتیں آتے ہی وقت سے پہلے آپ لوگوں نے فارغ کردیں،یہ آپکا وژن تھا،آپ نے کیا بنایا تھا،عوام کو پاگل بنانے کے علاوہ؟؟آپکا وزیر اعلی آخری دم تک “ٹرین “ہی ہوتا رہا
فٹ بال کے فین بہت جنونی ہوتے کرکٹ کے فین سے کئی گنا زیادہ اب مراکو ہارا اور اس کے جذباتی فین نے لندن میں یہ حال کیا ۔ اکثر میچوں کے بعد بھی لڑائی ہو جاتی ہے جبکہ میچ ہوا بھی یہاں سے ہزاروں میل دور ہے
مھے ایسا لگتا ھے کہ کیوں کہ ھمارا ملک کسی عوامی تحریک کے بغیر ایک قسم کی دستوری کاوش یا شاید انگریز انڈیا کو شمالی حملہ آوروں سے پروٹیکٹ کرنے کو ایک بفر سٹیٹ کے طور بنا گیا، اس لیے اس ملک سے عوام کا وہ تعلق نا بن سکا جو دوسرے ملکوں میں بن جاتا ھے -
میرے اس خیال کی کچھ وجہ ھے، ملک 1971 میں دولخت ھوا تو جو صدمہ ھونا چاھیے تھا نا ھوا، بلکہ یہ سننے کو ملنے لگا کہ بنگالی بوجھ تھے اچھا ھوا نکل گۓ -
اب پھر ملک تباھی کے کنارے پہنچ چکا ھے، بلوچستان تو نجانے کس مقام تک پہنچا اور کے پی کے میں بھی کیا ٹھیک ہے لیکن عوام میں وہ بےچینی اور اضطراب نھیں جو ضروری ھونا چاھیے تھا۔۔۔ایک بے حسی کی کیفیت ھے-
اگر خدا نا کرے ان پالیسیوں کے چلتے ملک کی وحدت کو کوی نقصان پہنچتا بھی ھے تو چند دن میں لوگ بھول بھال جایں گے۔۔۔جیسے 1971 میں 16 دسمبر کے چند دن بعد بھٹو کی رات گۓ ایک تقریر سے عوام مطمٰن بھی ھو گئی تھی۔۔۔کہ اب نیا پاکستان بنے گا۔۔۔ اورچند دن بعد کرسمس نائٹ ھمارے پنچ ستارہ ھوٹلوں میں منای گئی، اور پھر کچھ دن بعد نۓ سال کی خوشیاں بھی منا لیں تھیں۔۔۔
کلپ آد دی ڈے،کمال کردیا نصر اللہ ملک صاحب نے۔
عمران خان جب وزیر آعظم بنا تو اس کے اثاثے تین کروڑ اور جب اثاثہ جات دو سال بعد بتائے تو 33 کروڑ ھوچکے تھے،عمران خان کی کرپشن پر نصر اللہ ملک کی باتیں سنیں اور شکل دیکھیں رانا ایثار نامی ٹاؤٹ کی۔
اندازہ کریں امپورٹڈ چپس ، نیوٹریلا اور بچوں کے کھانے کا سامان جعلی بنا کر امپوتٹڈ کہہ کر بیچتے ہیں
یہ بچوں کی جان سے کھیلنا ہے آپ بھی بچوں کو ان چیزوں سے دور کیجئے گھر میں بنا سادہ ناشتہ اور فروٹ وغیرہ پر لگائیں
یہ زہر بچوں کو مار رہا ہے
گڈ ورک 👏👏👏
فٹ بال ایک بہت ٹف گیم ہے یہ ہالینڈ کا پرانا انٹرویو ہے اور بتا رہا کہ اس کی ڈارک سائیڈ ہے جو انجری ہے اور کہہ رہا میں ابھی اپنی پیک پرفارمنس سے سات سال دور ہوں میں نے پچھلے سیزن میں 57 گیم کھیلے
فٹ بال بہترین فزیکل فٹنس مانگتا ہے اور بہت ڈیمانڈ نگ ہے
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے صدر افضل بٹ نے پبلک فورم پر انکشاف کیا ہے کہ: "پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے ایکشن کمیٹی سے نمٹنے کے لیے وہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی تیاریاں کر لی ہیں جو بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں کر رہی ہے"۔
ایک ذمہ دار صحافی اور ملک کی سب سے بڑی صحافتی تنظیم کا سربراہ اگر پبلک فورم پر اتنی بڑی بات کہہ رہا ہے، تو یقیناً اس کے پیچھے مستند معلومات ہونگی۔ اور یقینا خود سیکیورٹی ادارے بھی اس بات کو پبلک کرنے اور "مقبوضہ کشمیر جیسے ایکشن" کے لیے ماحول سازگار بنانے کی خاطر اس بیانیے کو عام کرنے پر آمادہ ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں طاقت کے بل بوتے پر فیصلے کرنے کا تہیہ کر لیں، تو عام شہری یا دلیل کی آوازیں بندوق کی نالی کو نہیں روک سکتیں۔ طاقت کے سامنے دلیل کی اہمیت ہمیشہ ثانوی رہ جاتی ہے۔
اس لیے یہاں گفتگو کا مقصد صرف اس حقیقت کو واضع کرنا ہے کہ "مقبوضہ کشمیر جیسے ایکشن" کے نتائج بھی مقبوضہ کشمیر جیسے ہی نکلیں گے۔
ریاستی پالیسی سازوں کو تاریخ کا ایک اہم ورق یاد دلانا ضروری ہے۔ وادی کشمیر 1947 میں عمومی طور پر نیشنل کانفرنس کی وجہ سے بھارت نوازی میں بہت آگے تھی۔ مجموعی طور پر 1950 سے لے کر 1980ء کی دہائی تک پورا مقبوضہ کشمیر ایک مکمل پرامن علاقہ تھا، جہاں بھارتی فلموں کی شوٹنگز عروج پر تھیں اور سیاحت وہاں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔ سیاسی منظرنامہ یہ تھا کہ سید علی گیلانی اور سید صلاح الدین جیسے کٹر رہنما بھی، بادلِ ناخواستہ ہی سہی، لیکن بھارتی آئین کے تحت وفاداری کا حلف نامہ (Affidavit) جمع کروا کر مقامی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیتے تھے۔ وادی میں مصلحت پسندی کا راج تھا اور آزادی کی باتیں عملاً محض ایک فکری عیاشی ہی تھیں۔
لیکن پھر 1987-88ء کا سال آیا، جب انتخابی دھاندلی کے خلاف کشمیریوں نے ایک پرامن سیاسی تحریک شروع کی۔
تو تب نئی دہلی کے مقتدر حلقوں نے اس سیاسی احتجاج کو دلیل اور مذاکرات کے بجائے بندوق اور ریاستی طاقت سے کچلنے کا فیصلہ کیا۔ اس ایک غلط فیصلے نے پوری وادی کا رخ موڑ دیا۔
پھر آج چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے بڑا ملٹری زون (Militarized Zone) ہے۔ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سیاہ ریکارڈ بھارت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بن کر چمک رہا ہے۔ وہاں امن و امان اور نام نہاد "نارملسی" کا لوٹنا شاید اب بھی کئی عشروں کے فاصلے پر ہے۔ لیکن سب سے بڑا نقصان، جو بھارت کبھی پورا نہیں کر سکتا، وہ یہ ہے کہ کشمیر کے عوام ذہنی، فکری اور جذباتی طور پر بھارتی ریاست سے کئی نوری سال کے فاصلے پر جا چکے ہیں۔ اس دوری اور نفرت کی واپسی کا کوئی امکان اگلی کئی نسلوں تک دکھائی نہیں دیتا۔
ریاستی طاقت سے وقتی طور پر سڑکیں سنسان کی جا سکتی ہیں، احتجاج کچلے جا سکتے ہیں اور قیادت کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا سکتا ہے، لیکن دلوں میں پیدا ہونے والی خلیج کو کسی گولی سے نہیں بھرا جا سکتا۔
اگر پاکستان کے سیکیورٹی ادارے واقعی "مقبوضہ کشمیر والا راستہ" اپنانے کا حتمی فیصلہ کر چکے ہیں، تو انہیں یہ سوچ کر اور ان نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو کر ایکشن کا آغاز کرنا چاہیے کہ تاریخ کا قانون اٹل ہے۔
سیدھا سا اصول ہے: بیری کے بیج بو کر کبھی آم کی فصل حاصل نہیں کی جا سکتی۔ جو بوؤ گے، وہی کاٹو گے۔
#مہتاب_عزیز
ناروے کے فٹ بالر نے دنیا کو اپنی طاقت سے حیران کیا تو ایکسپرٹ نے اس کو مائیکروسکوپ کے نیچے رکھ لیا اس کی گفتگو لازمی سنیں یہ ہیلتھ ایکسپرٹ ہے یہ آپ کو بہت اہم انفارمیشن دے رہا لائف سٹائل بارے سادہ خوراک بارے اسے سنیں سمجھیں اور بچوں کو دیں
سلمیٰ بٹ صاحبہ بہت عمدہ کام کر رہی ہیں چیک کریں مشہور بیکری کے مصالحہ جات میں فنگس اور سسری پھر رہی تھی ایکسپائر چیزیں تھیں ہر سال بہت لوگ پیٹ کی بیماریوں سے مر جاتے جن میں بچے بھی شامل ہیں یہ اتنا بڑا ہیلتھ رسک ہے
ایک گزارش ہے کہ ان کے نام ضرور بتایا کریں یہ عوام کا حق وہ جان سکیں کہ کونسا برانڈ کیا کھلا رہا ہے
کائنات کا سب سے بڑا ظلم کسی کا روزگار تباہ کرنا ہے آپ کے بچے تو لاکھوں ڈالر کے کاروبار اور فراڈ کر رہے جبکہ غریب کی ریڑھی بھی آپ سے برداشت نہی ہے اور پھر یہ اراکین اسمبلی اپنے لیے مفت کی مراعات بھی مانگ لیتے ہیں
غریب کو مزدوری بھی نہی کرتے دیتے ہیں