اکثر لوگ حیرت میں ہیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ سب کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ پاکستان میں ایف بی آر سب سے طاقتور ادارہ ہے جو بغیر عدالتی حکم آپ کی جائداد ضبط کرسکتا ہے، آپ کا اکاؤنٹ فریز کرسکتا ہے اور جتنے چاہے پیسے نکلوا سکتا ہے۔ کوئی بنک انکار نہیں کرسکتا۔
@Doctorkhan6666 Important point which bank did this. Better to highlight bank who does not abide basic fundamental right of Account Holder. Once FBR doesn't have power how bank legal department allowed such debit.
@motasim@AmerSharifOFCL currently @FBRSpokesperson circulating notices to all brokerage house to report Non Resident Pakistani under CRS (Common Reporting Standard). when filing there is no concept to get passport status based on NICOP. Brokerage house to get details including TIN and Country Stay.
@Wajahat_PTI_ Don't forget @NawazSharifMNS in televised address to the nation critized Hub Power on such lucrative rates. If I am not wrong in April month 1998 NS had blamed @MediaCellPPP right after this address India exploded Atomic blasts so this issue become backbencher.
Customer buys share of bank principal plus KIBOR based interest, this is Islamic bank and risk sharing, no difference between Islamic and conventional banking, method of madness is same KIBOR
Diminishing Musharakah is a Shariah-compliant financing model where ownership is shared between the bank and the customer. Over time, the customer gradually buys out the bank’s share, eventually becoming the sole owner. This transparent approach ensures fair risk-sharing in financial transactions.
جس نے حضرت یوسف کو عزیز مصر کو بیچا اسکو بیچنے کے بعد ادراک ہوا واپسی کا مطالبہ کیا عزیز مصر نے منع کردیا پھر ایک بات کی ایک دفعہ یوسف سے ملا دیں جب حضرت یوسف سے ملا تو معلوم ہوا کہ حضرت یعقوب کی اولاد ہیں پھر اخری دم تک مصر میں رہا جب حضرت یوسف عزیز مصر بنے تو کابینہ کا حصہ تھا
جب اہل قافلہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں سے نکالا تو انہیں مال قرار دے کر اپنے پاس چھپا لیا۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً
اور انہوں نے ان کو مال سمجھ کر چھپا لیا۔ (سورت یوسف: 19)
تاکہ ان کے ذریعے مصر جا کر نفع کمائیں ، کچھ پیسے ہاتھ آ جائیں گے۔
انہیں خبر نہ تھی کہ ان کے پاس اللہ تعالی کی کتنی اہم نعمت موجود ہے ، ایسی نعمت کہ جس نے پورے مصر کو مشکل وقت میں سنبھالنا تھا، جسے کائنات کا آدھا حُسن عطا کیا گیا ، جس کے قصے کو احسن القصص کہا گیا۔ اتنی بڑی نعمت کے پاس ہونے کے باوجود انہوں نے پیسوں کو ترجیح دے، درہم و دنانیر کے بندے بن گئے، حضرت یوسف علیہ السلام کو ایک کموڈٹی سمجھنے لگے جو در اصل کیپٹلزم ہے کہ ہر چیز( خواہ وہ کائنات کا قیمتی ترین انسان ہی کیوں نہ ہو) کو پیسے کی آنکھ سے دیکھنا ہے، اور سستے داموں بیچنا ہے۔
وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍۚ-وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠
اور انہوں نے یوسف کو بہت ہی کم قیمت پر بیچ ڈالا یعنی گنتی کے چند درہم کے عوض۔ اور وہ لوگ کچھ ان کے قدر دان تو تھے ہی نہیں۔ (سورت یوسف: 20)
اہل قافلہ نے نعمت کی قدر نہیں کی۔ اور یہی نا قدری ہم بھی اپنے پاس موجود نعمتوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
ضمیر جیسی خوبصورت نعمت کو تھوڑے سے پیسوں کی خاطر بیچ ڈالتے ہیں۔
وقت جیسی بیش قیمت نعمت کو ریلز اور شارٹس کی بے مقصد اسکرولنگ میں گھنٹوں کے حساب سے خرچ کر دیتے ہیں۔
حیا جو ایمان کا اہم ترین شعبہ ہے، چند فالوورز اور وائرل ہو جانے کے چکر میں نیلام کر دیتے ہیں۔
علم جیسی روشنی کو دل زندہ کرنے کے بجائے صرف ڈگری اور نوکری کے ترازو میں تول کر بے نور کر دیتے ہیں۔
چھوٹی چھوٹی باتوں پر سالہا سال کی دوستی ختم کر دیتے ہیں۔
چند روپیوں یا زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی خاطر بھائیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔
وراثت میں حصہ مانگنے یا بیٹے بیٹی کا رشتہ نہ دینے پر بہنوں سے رشتے ناتے توڑ ڈالتے ہیں۔
گلی محلے یا سوشل میڈیا کے کسی عام سے بندے کے ساتھ تقابل کر کر کے اپنا ذہنی سکون غارت کر دیتے ہیں۔
مضر خوراک کھا کر اور بے فائدہ جاگ کر نیند کو خراب کر دیتے ہیں۔
اس طرح کی سینکڑوں نعمتیں ہیں جن کی ہم دن رات نا قدری کرتے ہیں ۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس کچھ نہ کچھ یوسف ہوتا ہے۔ اور اکثر ہم اپنے یوسف کی قدر نہیں کر پاتے۔
اپنے یوسف کو عزیز مصر کی طرح سنبھال کر رکھو جس نے بیوی سے کہا تھا:
أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَىٰ أَن يَنفَعَنَا
اس کو عزت سے رکھنا، مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے گا۔ (سورت یوسف: 21)
آخر حضرت یوسف علیہ السلام نے اسے فائدہ پہنچایا۔
اگر اپنے یوسف پر شکر اور اس کا اکرام کرو گے تو ضرور ایک دن وہ تمہیں مشکلوں سے نکالے گا۔ چاہے دنیا میں ہو یا آخرت میں ۔
ضمیر ، ایمان، حیاء، وقت، صلاحیت، صحت، صفات حسنہ، علم اور رشتوں کو کبھی سستے داموں نہ بیچا کریں۔ ورنہ یا دنیا برباد کر دیں گے یا آخرت۔
ربِ محبت تمہارے یوسف میں برکت ڈالے۔ آمین
محمد اکبر
#موناسکندر
میں نے یزید کو گالی دی ابن زیاد کو برا بھلا کہا ، شمر پر لعن طعن کی۔ ایک بزرگ کہیں سے نمودار ہوا اور اس نے مجھے اٹھا کر ٹائم ٹریول کروا دیا۔ چند لمحے بعد میں61 ھجری کی کربلا میں کھڑا تھا۔ میں نے مڑ کر پیچھے اس بزرگ کی طرف دیکھا اور کہا، یہ کیا مذاق اے؟"
بزرگ نے مجھے زور دار تھپڑ رسید کیا اور کہا کہ ہر دور کے اپنے اپنے یزید، ابن زیاد اور شمر ہوتے ہیں توں اپنے دور کے یزید ابن زیاد اور شمر کو گالی نکال، پھر تیرا ایمان مضبوط ہوگا۔
1385 سال پرانے یزید ابن زیاد اور شمر کو گالی نکالنا اسلئے آسان ہے کیونکہ وہ سب مر کھپ چکے ہیں۔
اپنے دور کے یزید ، ابنِ زیاد اور شمر کے روبرو تو تم سب کی سانس حلق میں اٹک جاتی ہے ۔
ہر دور میں یزید ہوتے ہیں۔۔۔۔
دور باطل میں حق پرستوں کی۔
بات رہتی ھے سر نہیں رہتے۔۔۔۔
@shahzadparcha کھیل ہی بانڈڈ پٹرولیم میں ہے موسمی اثرات سے اس میں گین اتا ہے جو کہ بیت اچھا گین بنتا ہے میں پٹرولیم کمپنی میں ڈایکٹر رہ چکا ہوں OCAC کا پلیٹ فارم کرپشن کا گڑہ ہے درآمدات کی اجازت وہاں سے ائی تھی لیکن فارمولہ ہے لیکن کرپشن کی وجہ کوئی نظم نہیں لوکل ریفائنری سے نہیں خریدتے ہیں
@majidsnizami ثاقب نثار کا کوئی ثانی نہیں لیاری ایکسپریس وے کا 4 کلو میٹر کا حصہ جو 12 سال سے نہیں بنا تھا وہ بنایا ڈیم پر عوام میں شعور بیدار کیا اگر حکومت سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرتی اور عمران خان کا ڈیم بنانے کی کوشش کو جاری رکھتی تو اج دیامیر،داسو ڈیم بن چکا ہوتا عوام عذاب سے بچ جاتی
حسین رضي الله عنه ظالم مسلمان حکمرانوں کے لئے ایٹم بم ہیں، یزید کا گناہ شرابی ہونا یا کوئی اور گناہ نہیں تھا، یہ بہت چھوٹے گناہ ہیں، یزید کا سب سے بڑا گناہ غیرقانونی طور پر اقتدار پر قابض ہونا تھا۔ اللہ مولانا اسحاق کی قبر کو روشن کرے اور ایسی کلیرٹی ہم سب کو عطا کرے۔ آمین
مطلب ان کو چھ مہینے کی ایکسٹرا تنخواہ مفت میں دے دی کیا ان کی کارکردگی سے قرضے اتر گئے یا خزانہ بہت بھر گیا کہ یوں بانٹنے لگ گے ہیں ؟
عجیب ڈرامہ ہے ججوں نے اپنی تنخواہیں بڑھا لیں وزیروں نے اپنی چھ سو فیصد بڑھا لی تھیں پھر ججوں نے عدالتی عملے کی تنخواہ بھی بڑھا دی
جب عام سرکاری ملزمان یا پینشنر کی بات آ جائے کہتے خزانہ میں پیسہ نہی ہے