پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
جب آپنے رجیم چینج کاساتھ دیا،ہم پشتون اسکےخلاف تھے۔جب آپ دہشتگردوں کویہاں لارہےتھےہم اس دہشت گردی کےخلاف تھےجب آپ جہادی تیار کررہےتھےہم ان جہادیوں کےخلاف کھڑےتھےہم ہراُس پالیسی کےخلاف ہیں جسکےذریعےآپ نےہم پردہشت گردی مسلط کی اور آج بھی آپ جو آپریشنز کررہے ہیں ہم انکےبھی خلاف ہیں
The governor's rule and Emergency in Khyber Pakhtunkhwa don't surprise me.
These are the different tactics state use to crush the democratic rights of people.
So the question is, what is the way forward?
#GovernorRule#Emergency#KhyberPakhtunkhwa
2/2The 18th Amendment, judicial independence and Pashtun rights must be safeguarded. The 26th and 27th Amendments have raised serious concerns in this regard. It is regrettable that the PPP, despite its democratic legacy, has backed this step.
1/1/ PkNAP condemns the imposition of Governor’s Rule in Khyber Pashtunkhwa as undemocratic, a disregard for the people’s mandate, and an attempt to control the province’s resources. We demand its immediate withdrawal and the restoration of the elected government.
President of NDM, Mohsin Dawar, has strongly rejected the imposition of emergency and Governor’s Rule in Pakhtunkhwa. Such an undemocratic and unconstitutional move cannot be justified, and NDM will strongly oppose it.
@mazdaki@Khushal_Khattak
Shamshad Mehsud, Director of Pakistan’s Election Commission, was targeted by the Taliban in Tank. Pakhtunkhwa continues to suffer under de facto Taliban rule, while mainstream Pakistan remains silent.
افغانوں/پشتونوں کو بار بار ’’انڈین ایجنٹ‘‘ قرار دے کر بدنام کرنا، جبکہ ایک مسلم ہمسایہ ملک افغانستان کو امریکی مفادات اور احکامات کی عینک سے دشمن سمجھنا، ایک سنگین تضاد ہے۔
دوسری جانب اسی بھارت کے ساتھ سرحد پر تفریحی سرگرمیاں، تعلقات اور بھارتی فوجیوں کو سلیوٹ یہ دوہرا معیار کئی
ظالم جابر اور وخشی ریاست پاکستان نے شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کے گاؤں ناونہ میں کواڈ کاپٹر ڈرون سے بم گرا کر نتیجے میں8معصوم بچے شدید زخمی ہوئے ہیں زخمی بچوں کو علاج کے لیے میرعلی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔زخمی بچوں کے لیے مختلف بلڈ گروپس کی اشد ضرورت ہے @a_siab@Adv_dawar
مراد سعید، نہ تو ہماری حافظہ اتنی کمزور ہے کہ اتنی جلدی آپ کا کردار بھول جائیں،وہی کردار جو آپ نے اسمبلی کے فلور پر ہماری قیادت کے خلاف اور اس پوری دہشتگردی کے حق میں مقتدرہ کے لیے ادا کیا۔ اب ایک ٹویٹ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گویا آپ بڑے اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں۔
آج پورے وزیرستان میں کرفیو نافذ تھی اور کل بھی پورے وزیرستان میں کرفیو نافذ ہو گی پھر یہ قافلہ کونسے روڈ سے جائے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ وزیرستان میں بے شمار چیک پوسٹیں ہے کیا ان کو نظر نہیں اتا ۔۔؟
@KhawajaMAsif