آئینی عدالت کے ججز اس وقت دھڑا دھڑ اپنے فیصلوں کے زریعے عدالتی اختیارات کو ختم کرتے جا رہے ہیں۔ جس کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتیں گی ۔یقین جانئیے مظبوط پاکستان کیلئے مظبوط عدالت اور مظبوط ججز لازم ہیں ۔ورنہ ملک ،آئین،انصاف سب صرف مذاق بن کر رہ جائے گا ۔
میں آپ کو بتاؤں عمران خان صاحب کے پاس جو پلان لے کے گئے تھے، میں ساتھ تھا اس میں۔ عمران خان صاحب نے اس سے پہلے کہ یہ لوگ، پانچ چھ لوگ تھے ہم۔ سلمان اکرم راجہ صاحب تھے، علی امین گنڈاپور صاحب تھے، صاحبزادہ حامد رضا میرا بھائی جو بے گناہ جیل میں ہے، تو خان صاحب نے بیٹھتے ہی کہا، "میں نے، پہلے میری بات سنو، میں نے بنی گالا نہیں جانا ہے۔"
"میں نے کوئی کمپرومائز نہیں کرنا ہے۔ میرے ساتھ والے لوگ جو ایک جملہ لکھ کے دے دیتے باہر آ جاتے۔ وہ جیل میں رہیں اور میں جنابِ والا ڈیل کر کے تو جا کے ادھر بیٹھ جاؤں؟ میں نہیں جاؤں گا۔ اور یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔" "میں پہلے وقت نہیں ہوتا تھا، قرآن پڑھتا ہوں تو پہلے ایک ترجمہ ابھی میرے پاس کئی ترجمے ہیں یا تفسیریں ہیں، مجھے اب صحیح یاد نہیں ہے۔" چار پانچ کی انہوں نے بات کی تھی۔ "دعا کرتا ہوں، پہلے نماز جلدی جلدی پڑھتا تھا، اب اطمینان سے نماز پڑھتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں۔ یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔
قائد حزب اختلاف سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس
وفاقی وزرا ریاست کے حامی سیاستدانوں کی مولانا فضل الرحمان کے بیان کے خلاف تمام نیوز چینلوں پر گھنٹوں کی براہ راست کوریج کے بعد بھی سوشل میڈیا پر مولانا فضل الرحمان کے خلاف ایک بھی ٹرینڈ نہ بنا سکے اربوں کا بجٹ سوشل میڈیا پر لگانے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے آخر فائدے لینے والوں کی یہ کھیپ ریاست کا بئانئے کو بنانے میں کیوں ناکام ہورہی ہے اور مذہبی سیاسی جماعت کا سوشل میڈیا پر اس طرح ٹرینڈ بنانا حیرت انگیز بھی ہے وفاقی وزرا حکومت کے حامی ریاست کے تابعدار اینکروں اور صحافیوں کو تمغے بانٹنے والے تمام ادارے سوشل میڈیا پر ناکام کیوں نظر آرہے ہیں سسٹم میں کہیں نہ کہیں تو خرابی ہے
@MohsinHijazee سفائر والے ہیں ،رزاق داؤد ہیں، جہانگیر ترین ہے، ندیم بابر ہے ، میاں منشاء ہے، ماسٹر ٹائل والے ہیں ،حکومت پنجاب کے بھی ہیں ، حکومت پاکستان کے بھی ہیں، کچھ غیر ملکی کمپنیوں کے ہیں۔
سی پیک والے بجلی گھروں میں کوئی 25 فیصد حصہ تو چین کا ہے باقی 75 فیصد دوسرے سرمایہ کاروں کا ہے۔ اب یہ دوسرے سرمایہ کار کون ہیں جن کو قطرہ تیل پھونکے بغیر ایک ایک ماہ کی دس دس ارب روپے ادائیگی ہو رہی ہے۔
یہ کوئی "میسنا" نہیں بتا رہا۔
نہ انقلابی صحافی نہ جمہوری صحافی۔
@iffiViews یہ آیا ہی اس لیے تھا کہ اپنے کرتوتوں کو اسلامی لباس میں لپیٹ کر احتساب سے بچ جائے ۔۔ مولانا نے تو صرف اسے قبول کرلیا ۔۔اس کی کرتوتوں پر پردہ نہیں ڈالا ۔۔اس نے جو کیا ا سکا مولانا سے کیا لینا دینا
وزیراعلی کے ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر یار محمد نیازی اور کروڑوں روپے کا صحافتی سیاحتی دورہ۔
اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخواہ حکومت اسلام آباد اور پنجاب سے صحافیوں کو 5 روزہ دورے پر ناردرن ایریاز کے وزٹ پر لے کر جارہی ہے۔ جہاں صحافیوں کی رہائش کا انتظام فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رکھا گیا ہے۔
پہلا دن بشام : Hilton Hotel
دوسرا دن پارس: Fairy land hotel
تیسرا دن پارس: Fairy Land hotel
چوتھا دن : Nathia Gali Stay
پانچواں دن: Abottabad stay
اصل سوال یہ بنتا ہے کہ کیا یار محمد نیازی صاحب نے کبھی یہ زحمت کی کہ خود اور پشاور کے صحافیوں کو منگل والے دن اڈیالہ جیل لے کر آئیں اور انہیں وہاں کے زمینی حقائق پر آگاہی دیں۔
یا پھر جن صحافیوں کو اسلام آباد یا پنجاب سے لے کر جارہے ہیں انہیں آپریشن والی جگہ یا وادی تیرہ کا بھی ایک وزٹ کروانا چاہیے۔
ملک کو جرنیلوں نے توڑا ہے فوج نے بلوچستان مشرقی پاکستان کو تباہ کیا یہ قومی مجرم ہیں جرنیل وزیراعظم ہاؤس کی گیٹ پھلانگتے ہیں آئین توڑتے ہیں TV اسٹیشنوں پر قبضہ کرتے اپنی مرضی کی عدالتیں لگاتے آئین و قانون میں ترامیم کرتے ہیں خواجہ آصف
قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف یہ چارج شیٹ میں نے اسوقت لکھی جب موصوف ابھی چیف جسٹس تھے اور آئینی عدالت کی سربراہی پر نگاہیں لگا رکھی تھیں یہ چارج شیٹ دراصل میرے اپنے بھی خلاف تھی کیونکہ میں نے ماضی میں انکی بے جا حمایت کی تھی اور اپنی اس حماقت پر افسوس ظاہر کیا https://t.co/yrhlqHqHjy