BREAKING: Kentucky voting machines are REFUSING to let voters select Donald Trump’s name, automatically selecting Kamala Harris instead. https://t.co/iAayuxKEnG
رشید نے سچ کہا تھا کہ
اللّٰہ نہ کرے یہ خاتون مریم نواز کبھی اس ملک کی حکمران ہوں، ورنہ یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہے گا
واقعی آج یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہا
ریپ کو ڈیفینڈ کررہی
خود آرڈر دے رہی طلبا طالبات کو اٹھوا لو فلانے پر مقدمہ کردو
اسلام آباد احتجاج کے دوران اگر کوئی نقصان ہوا تو زمہ دار حکومت ہو گی کیونکہ جن کے پاس طاقت ہو ذمے دار بھی وہی ہوتے ہیں،
آپ عمران خان سے ہماری ملاقات کروا دیں ہم احتجاج کی کال واپس لے لیں گے، شیخ وقاص اکرم
https://t.co/XnXOWN3hA4
"مسلم لیگ نون کی حکومت تھی جب 1992 میں ایک قانون پاس کیا گیا کہ جتنا مرضی ڈالر لے جائیں، آپ کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ اس کے بعد ڈالر باہر جانا شروع ہو گیا، اور یہ دھندہ 26 سال تک چلتا رہا۔ نون لیگ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ انہوں نے لوڈشیڈنگ ختم کی، حقیقت میں یہ تباہی بھی پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ آئی پی پیز کو ان دونوں پارٹیوں نے مسلط کیا۔ اور یہ جو سولہ مہینے کی بات کرتے ہیں، وہی سولہ مہینے جنہوں نے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا۔ لوگ روٹی کے لیے ترس گئے۔
عمران خان کے 3.5 سال میں سے 2.5 سال تو کووڈ کا دور تھا، اور دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے بہترین حکمت عملی اپنائی۔ اس وقت کوئی بھوکا نہیں مر رہا تھا، پاکستان کو بہتر انداز میں چلایا گیا۔ 50 سال کسی نے ڈیم کا نام نہیں لیا، یہ عمران خان تھا جس نے ڈیم شروع کروایا۔ یہ عمران خان تھا جس نے ہر آدمی کو صحت کارڈ کے ذریعے دس لاکھ روپے کی سہولت دی۔ اقوام متحدہ میں جو اس نے تقریریں کیں، ان پر مسلمانوں کو فخر ہوا، وہ عرب دنیا کا ہیرو بن گیا۔ اور یہاں اسے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن وہ مسلسل ہیرو بن رہا ہے۔ اس کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کے دلوں کو نہیں بدلا جا سکتا۔"
#پاکستان_مانگے_کپتان
دھندہ ہے پر گندہ ہے😭#PunjabPolice کی اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق توہین کے کاروبار جیسے غلیظ دھندے کی کہانی سنیں @lok_sujag
کی رپورٹ میں 👇خدارا ان ظالموں کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ حکمرانوں کو ہوش آے😭
غریبو !
ادھر آؤ بات سنو۔ ادھر پاس بیٹھ جاؤ۔ صرف غریبوں کے بچے آئیں۔ امیروں کے بچوں کو اجازت نہیں۔ اس ملک کے مسئلے غریبوں کے بچوں کے مسئلے ہیں۔ امیروں کے مسئلے ہی کچھ اور ہیں۔
غریب کے بچو۔ جو کچھ آج دیکھ رہے ہو یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ مقبول لوگ جیلوں میں رہے ہیں۔ آئین آمروں کا کھلونا رہا ہے۔ عدلیہ انتظامیہ اشرافیہ کے مہرے رہے ہیں ۔ یہ اس ملک کی قسمت ہے۔ یہ تمہاری بدقسمتی ہے۔
غریب کے بچو کوئی سٹڈی ویزہ لگوا لو۔ کوئی ورک پرمٹ لے لو۔ کسی پکے پاسپورٹ والی لڑکی سے شادی کرلو۔ ڈنکی والے ایک ایجنٹ کا نمبر ہے میرے پاس وہ لے لو ڈنکی لگا جاؤ۔ مشرق وسطی ہی چلے جاؤ۔ کچھ سال محنت مزدوری کرو۔ وہاں سے آگے نکلنے کی کوشش جاری رکھو۔
غریب کے بچو! بڑے شہروں میں پانچ مرلے کے گھر کی قیمت کم از کم سوا کروڑ روپیہ ہے۔ ہم پچاس ساٹھ ہزار لاکھ دو لاکھ کمانے والے ساری زندگی اتنے پیسے نہیں جوڑ سکتے۔ غریب کے بچو ! درمیانے درجے کے سکولوں کی ماہانہ فیس دس ہزار ہوچکی ہے۔ ہم اپنے بچوں کو اچھی تعلیم نہیں دلوا سکتے۔
غریب کے بچو ! ہماری خواہشیں تو دور حسرتیں بھی پوری نہیں ہوا کرتیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم کبھی کبھار بھی پسند کے ریسٹورنٹ سے مرضی کا کھانا نہیں کھا سکتے۔ پسند کے کپڑے اور جوتے نہیں خرید سکتے۔ اپنے بچوں کو مہنگے کھلونے نہیں لے کر دے سکتے۔
غریب کے بچو ! جب ہم سنتے ہیں کہ فلاں جاننے والے کو جس کا باپ بااثر تھا اسے سرکاری نوکری مل گئی تو ہمارا دل دکھتا ہے۔ غریب کے بچو ! جب ہم سنتے ہیں کہ فلاں جاننے والا گریڈ چودہ میں پولیسیا ہے اور مہینے کا بیس تیس لاکھ حرام کماتا ہے تو بھی ہمارا دل دکھتا ہے۔
غریب کے بچو! ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ ہم سبھی ملک چھوڑ کر فرار نہیں ہوسکتے۔ کچھ لوگ تو رہ ہی جائیں گے۔ غریب کے بچو ہم میں سے جو فرار ہوجائیں گے انکے بھی کچھ بہن بھائی دوست رشتہ دار یہیں رہ جائیں گے۔ غریب کے بچو باہر جا کر بھی ہمارا دل یہیں اٹکا رہے گا۔
غریب کے بچو ! ہم حق حلال میں ، انصاف ، میرٹ ، برابری میں پھنسے رہتے ہیں۔ غریب کے بچو! ہم حرام کما نہیں سکتے۔ ہم چاہتے ہیں کوئی بھی حرام نہ کمائے۔ ہماری داد رسی بھی میرٹ پر ہو۔ ہمیں نوکری بھی میرٹ پر ملے۔ ہمارے معاشرے میں کسی کی مشکل کو رشوت کی آسانی کے پہیے نہ لگیں۔
غریب کے بچو ! ہمیں خواب دیکھتے رہنا ہے۔ برابری اور انصاف کا خواب۔ روٹی کپڑا اور مکان کا خواب۔ عزت نفس کا خواب۔ساری عمر۔اس امید پر کہ کب خواب سچا ہوجائے۔ غریب کے بچو ! امیر کے بچے تمہارے خوابوں سے ڈرتے ہیں۔ غریب کے بچو ! امیروں کے بچوں کو ڈرانے والے خواب دیکھتے رہنا۔