Thank you Mr Prime Minister. You have truly outshined everyone your dedication and hard work speak for themselves. Wishing you all the best in everything you do for Pakistan🧿🇵🇰 @CMShehbaz@PakPMO
"پاکستان دنیا کا نیا سفارتی دارالحکومت ہے"
الجزیرہ نیوز
سنہ 1979 کا سال تھا جب ایران کی عوام نے نعرہ لگایا "مرگ بر امریکہ" 47 سال ہوگئے مگر یہ نعرہ رکا نہیں پہلی نسل نے دوسری کو منتقل کیا اور دوسری نسل نے تیسری نسل کو منتقل کیا ایران اسی زور و شور سے اس نعرے پہ کاربند یے
انقلاب ایران کے کچھ ہی سالوں بعد امریکہ نے ایران کو "شیطانی ریاست" پکارنا شروع کردیا اور اسے سبق سکھانے کی دھمکیاں دیتا رہا جو اس وقت کے صدر جمی کارٹر سے صدر ریگن ریگن سے بش سینیئر بش سے کلنٹن، کلنٹن سے بش جونیئر، بش جونئر سے براک اوبامہ، اوبامہ سے ٹرمپ، ٹرمپ سے بائیڈن اور بائیڈ سے پھر ٹرمپ تک جاری رہیں،
1979 سے لیکر 2025 تک امریکہ نے ایران پہ سخت ترین پابندیاں لگوائیں گوریلا کارروائیاں ہوئیں جبکہ درمیان میں 02 جولائ 1988 کا دن ایک دردناک لمحہ بن کے دنیا کے سامنے آیا جب ایران ایئر کے مسافر طیارے ایئر بس A300 فلائٹ نمبر IR-655 کو خلیج فارس کے اوپر امریکی بحری جہاز سے فائر کئے گئے میزائل سے نشانہ بنایا گیا جہاز فضاء میں تباہ ہوگیا اور مسافر و عملے سمیت تمام 290 افراد چشم زدن میں لقمہ اجل بن گئے اس واقعے نے دنیا کو ہلا دیا تھا کچھ خبریں یہ بھی چلیں کہ جہاز کو ٹام کیٹ نے فضاء میں نشانہ بنایا تھا (F-14 ٹام کیٹ اس وقت امریکی نیوی کا مایہ ناز فائیٹر جیٹ تھا)
وقت گزرتا رہا دشمنی بڑھتی رہی پھر جون 2025 اگیا 13 جون کو اسرائیل کی معیت میں امریکہ نے ایران پہ فضائ حملہ کردیا جنگی طیارے میزائل و ڈرونز استعمال ہوئے یہ جنگ 12 روز یعنی 24 جون تک چلی، پھر 2026 آیا اور ایران کے لئے انتہائی تباہ کن پیغام لایا 28 فروری 2026 کو ایران پہ امریکہ نے اسرائیل کی معیت میں تباہ کن حملہ کردیا اور انکے رہبر سپریم کمانڈر علی خامنائی کو شہید کردیا بعد کے حملوں میں متعدد سیاسی و عسکری شخصیات سمیت ایک بڑی نامور شخصیت علی لاریجانی کو بھی حملے میں شہید کردیا گیا خامنائ کی شہادت کے بعد یہ ایران کا دوسرا بڑا نقصان تھا، اس جنگ میں تہران پہ حملے ہوئے اصفہان، بندرعباس، بو شہر، کرمان، تبریز، شیراز اور ایران کے مقدس شہر قم پہ حملے ہوئے ایران کا بے تحاشہ جانی و مالی نقصان ہوا بچوں کے اسکول کو تباہ کیا گیا سیکڑوں معصوم پھول خاک و خون میں لتھڑ گئے، جنگ کو ڈیڑھ ماہ ہوچکا تھا کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں امریکہ کی طرف سے خطرناک ترین حملے میں ایرانی نسل ختم کرنے کا عندیہ دے دیا گیا یہ وقت تھا جب ایران و امریکہ کی نفرت 47 سالہ دشمنی میں نقطہ عروج پہ پہنچ چکی تھی،،
ایسے میں جنگ کے شروع دن سے جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والے ملک پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے راتیں جاگ کے امریکہ و ایرانی قیادت کو فوری جنگ بندی پہ راضی کیا اس دوران پاکستان نے چین روس سعودی عربیہ ترکیہ قطر کویت بحرین عرب امارات مصر و دیگر ممالک سے مسلسل رابطہ رکھا اور 7 اور 8 اپریل کی درمیانی رات دنیا کو خوشخبری ملی کہ اس خوفناک جنگ کو عارضی طور پہ روک دیا گیا ہے اور ایران و امریکہ بات چیت کریں گے یہ ناممکن کام پاکستان نے کر دکھایا مذاکرات کی میزبانی کا بیڑا اٹھایا اور دنیا نے دیکھا کہ 11 اپریل کو دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت پہ مشتمل وفود اسلام اباد اترے اور 47 سال سے ایک دوسرے کے سخت ترین دشمنوں کو پاکستان نے ایک میز پہ بٹھا دیا۔۔۔۔۔ ایک دوسرے کی شکل نہ دیکھنے کے رواداروں نے نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی معیت میں 21 گھنٹے کے طویل مذاکرات کئے ایک دوسرے کی بات سنی اور اس امید کے ساتھ اٹھے کہ اگلی بیٹھک میں بنیادی نکات پہ اتفاق ہوجائے گا۔۔۔۔
انگریزی لفظ bottom line کے مطابق۔۔۔۔۔
"پاکستان نے ایران و امریکہ کو مذاکرات کے لئے ایک میز پہ بٹھا دیا۔۔۔۔۔"
پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد♥️
شاہ روان 12.4.2026