عالمی منڈی میں تیل 72 ڈالر فی بیرل ہے اس حساب سے پاکستان میں لیوی اور باقی ٹیکسز ڈال کر قیمت 234 ہونی چاہیئے.
لیکن قیمت 297 روپے ہے یعنی 63 روپے فی لیٹر کا ڈاکہ جاری ہے
اس حساب سے 1.84 ارب روپے یومیہ بدمعاشی سے بنائے جا رہے ہیں.. لیکن اگر احتجاج کرو گے تو کُتے چھوڑے جائیں گے.
ایل پی جی ہی قیمت فی کلو 241ہے جبکہ مارکیٹ میں 420 سے 500تک بک رہی ہے حکومت کی کوئی اتھارٹی نہی ہے بس ان سے غریب کی ریڑھی تڑوا لو یا موٹر سائیکل والوں کے چالان کروا لو باقی مافیا ان کی پہنچ سے باہر ہیں
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کےلیے جو 838 ارب رکھے گئے ان پیسوں سے دیامر بھاشہ ڈیم مکمل ہوسکتے ہیں۔یہ ڈیمز بننے سے بجلی سستی ہونی تھی،انڈسٹری چل پڑنی تھی،تجارت بڑھنی تھی،زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھنے،بڑے بڑے بلز سے عوام کی جان چھوٹنی تھی،لیکن کیا کریں قوم کو بھکاری بنائے رکھنا ہے۔
پٹرول کے بڑھتے ہی TCs .MNP.LEPEARD اور DEWOO کارگو نے اپنے کوریئر کے چارجز بڑھا دیئے تھے جو کہ ڈیڑھ سو سے دو سو روپے سے زیادہ تھے
اب جبکہ پٹرول سستا ہوچکا ہے لیکن TCS نے چارجز کم نہیں کیئے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باوجود پاکستان میں قیمتیں برقرار
اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا حکومتی فیصلے پر اظہار افسوس، قیمتوں میں فوری کمی کا مطالبہ
جب قیمتیں بڑھانی تھیں تو دلیل تھی: "خام تیل مہنگا ہو گیا ہے۔"
اب قیمتیں کم کرنے کا وقت آیا تو دلیل بدل گئی: "ریفائن شدہ تیل مہنگا ہے۔"
دلیلیں بدلتی رہتی ہیں، مگر عوام سے وصولی کا سلسلہ نہیں بدلتا۔
عوام سوال پوچھے تو جواب چارٹ بدل کر دے دیا جاتا ہے 😡😡
ہم نے پی ٹی آئی کی طرح پٹرول کی قیمتوں پر ملک کو دیوالیہ نہیں کیا، نہ ہی دیوالیہ کرکے سائفر کا لفافہ نکالا ,ہم نے اس ملک کی معیشت کو درست راستے پر گامزن کیا ہے،مریم اورنگزیب
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پٹرول سو،سوا سو لیٹر ہونا چاہیے،قوم deserve کرتی ہے،لیکن یہ تاثر غلط ہے کہ شہبازشریف کسی پرائیویٹ کمپنیوں کے پریشر میں آگئے ہیں ایسا نہ پہلے کبھی ہوا ہے اور نہ اب ہوگا،پٹرول کی قیمتیں بین الاقوامی آئل مارکیٹ کے تحت ہی کم ہوتی ہیں،اُسی کے تحت عوام کو ضرورت سے زیادہ ریلیف انشاءاللہ ضرور ملے گا
سب کو توقع تھی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جنگ سے پہلے والی قیمتوں پر آ جائیں گی مگر ایسا نہیں ہوا۔علی پرویز ملک ، عطا تارڑ اور ٹیکنیکل لوگوں کی مجھ سے بات ہوئی انہوں نے کہا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھ کر حکومت کی جانب سے کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔تنقید یہ ہو رہی کہ جب جنگ لگی تو پٹرولیم مصنوعات کے چار ہفتے تک کے ذخائر موجود تھے مگر حکومت نے فوری قیمتیں بڑھا دی تھیں۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بین الاقوامی منڈی کے مطابق مقرر کی گئی ہیں، جبکہ حکومت نے مالی دباؤ برداشت کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ریلیف عوام تک منتقل کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام پر اضافی بوجھ نہ ڈالنے کے لیے پٹرولیم لیوی بھی محدود رکھی گئی۔
یہ محض اتفاق ہے یا پھر سوچی سمجھی منصوبہ بندی اور سازش ہے،، جب سے PIA عارف حبیب اینڈ کمپنی کو فروخت کی گئی ہے اس کے بعد جیٹ فیول سستا اور پیٹرول مہنگا ہے، اب حکومت نے جیٹ فیول 231 روپے لیٹر کردیا ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت 300 روپے ہے۔
عالمی مارکیٹ میں پیٹرول سستا ۔۔ پاکستان میں قیمتیں برقرار۔۔ ہار گئے عوام جیت گئے پیٹرول مارکیٹنگ کمپنیز کے مالکان؟۔ کرن ناز نے وزیراعظم کو اپوزیشن والا شہباز شریف یاد دلا دیا
#SamaaTV#DoTokwithKiranNaz#KiranNaz@kirannaz_KN
پیٹرول/ڈیزل/تیل کمپنیوں نے خبریں چلوائی کہ حکومت نے گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں کمی کا جو فیصلہ کیا تھا وہ یکطرفہ اور قائم شدہ عمل سے متضاد تھا جس سے تیل کمپنیوں کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ مارکیٹنگ کمپنیوں کے ایک نامعلوم عہدیدار کی جانب سے میڈیا میں یہ بیان جون 22 کو جاری کیا گیا تھا جب اس ہفتے کے لئے قیمتوں کے اعلان کی تیاری ہورہی تھی۔ کئی وزراء نے تیل کی قیمتوں میں کمی کا عندیہ دیا تھا کیونکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل کم ہورہی ہیں۔ لیکن کل قیمتیں کم نہ کرنے سے لوگ مایوس ہوئے ہیں۔ ہر شعبے میں مافیا بہت مظبوط ہے اور فیصلوں پر ان کا اثر ہوتا ہے۔ جب عوام تیل کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج کرتے ہیں جب تیل کی کمپنیاں خوش ہوتے ہیں تو جب ابھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں تو ان کو اعتراض کیوں؟
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 170 روپے سے 200 روپے فی لیٹر تک ہونی چاہئیں۔ لاہور ہائیکورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہ کرنے کیخلاف درخواست دائر کردی گئی۔
متفق درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے سربراہ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عالمی منڈی میں تیل سستا جبکہ پاکستان میں پیٹرول تقریباً 300 روپے فی لیٹر ہے، خام تیل 70 ڈالر فی بیرل ہے، پاکستان میں پیٹرول کی قیمت عالمی معیار سے بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت 170 سے 190 روپے اور ڈیزل کی 180 سے 200 روپے فی لیٹر ہونی چاہئے، پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی کا نفاذ عوامی استحصال ہے۔
استدعا کی گئی کہ قیمتوں کا تعین شفاف، قانونی اور آئینی اصولوں کے مطابق کیا جائے، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے دباؤ پر عوام کو عالمی قیمتوں میں کمی کے فائدے سے نہیں روکا جاسکتا۔
#SamaaTV #Pakistan #PetrolPrice #PetroleumPrices #OilPrices #LHC