ایک وقت آئے گا جب یہ کافر لوگ بڑی تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔
(اے پیغمبرﷺ!) انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو کہ یہ خوب کھالیں، مزے اُڑالیں، اور خیالی اُمیدیں انہیں غفلت میں ڈالے رکھیں، کیونکہ عنقریب اُنہیں پتہ چل جائے گا کہ حقیقت کیا تھی ۔
﴿سورۃ الحجر، ۲-۳﴾
پیارے حبیب کریم ﷺ نے فرمایا:
جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس پر اس کا رزق کشادہ کیا جائے یا اس کے چھوڑے ہوئے کو مؤخر کیا جائے (خود اس کی اور اس کی چھوڑی ہوئی اشیاء، اعمال اور اولاد کی عمر لمبی ہو) وہ صلہ رحمی کرے۔
(صحيح مسلم - 6523)
اور ہر شخص (کے عمل) کا انجام ہم نے اُس کے اپنے گلے سے چمٹا دیا ہے، اور قیامت کے دن ہم (اُس کا) اعمال نامہ ایک تحریر کی شکل میں نکال کر اُس کے سامنے کردیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا۔
(سورۃ الاسراء، ۱۳)
یہ وہ لوگ ہیں جو اِیمان لائے ہیں، اور جن کے دِل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو کہ صرف اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جس سے دِلوں کو اِطمینان نصیب ہوتا ہے۔
﴿سورۃ الرعد، ۲۸﴾
حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لئے رسول اللہ (ﷺ) کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اُس شخص کے لئے جو اللہ سے اور یومِ آخرت سے اُمید رکھتا ہو، اور کثرت سے اللہ کا ذِکر کرتا ہو۔
﴿سورۃ الاحزاب ، ۲۱﴾
اے ایمان والو ! جب جمعہ کےدن نماز کےلیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارےلیےبہتر ہے،اگر تم سمجھو۔
پھر جب نماز پوری ہوجائےتو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کافضل تلاش کرو،اور اللہ کو کثرت سےیاد کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔
﴿الجمعہ۔۹،۱۰﴾
یہ وہ لوگ ہیں جو اِیمان لائے ہیں، اور جن کے دِل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو کہ صرف اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جس سے دِلوں کو اِطمینان نصیب ہوتا ہے۔
﴿سورۃ الرعد، ۲۸﴾
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ انھوں نے فرمایا : کچھ دعائیں ایسی ہیں جنھیں رسول اللہ ﷺ کبھی نہیں چھوڑتے تھے ۔ آپ ﷺفرمایا کرتے تھے :
’’ اے اللہ ! میں فکر ‘ غم ‘ عجز ‘ سستی ‘ بخل ‘ بزدلی اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔‘‘
(سنن نسائی،۵۴۵۱)
(اے پیغمبر ﷺ! ان سے) کہو : ذرا یہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تم پر رات کو ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک مسلط رکھے تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لے کر آئے ؟ بھلا کیا تم سنتے نہیں ہو ؟
(سورة القصص ، ٧١)
اور اپنے رَبّ کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دِل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
﴿سورۃ الاعراف، ۲۰۵﴾
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی ( بھی ) منزل پر اترا اور اس نے یہ کلمات کہے:
أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
تو اس شخص کو اس منزل سے چلے جانے تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔
صحیح مسلم جلد ٦ حدیث ٦٨٧٨
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ انھوں نے فرمایا : کچھ دعائیں ایسی ہیں جنھیں رسول اللہ ﷺ کبھی نہیں چھوڑتے تھے ۔ آپ ﷺفرمایا کرتے تھے :
’’ اے اللہ ! میں فکر ‘ غم ‘ عجز ‘ سستی ‘ بخل ‘ بزدلی اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔‘‘
(سنن نسائی،۵۴۵۱)
اور کیا تم اس بات سے بھی بے فکر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ اُسی (سمندر) میں لے جائے، پھر تم پر ہوا کا طوفان بھیج کر تمہاری ناشکری کی سزا میں تمہیں غرق کرڈالے، پھر تمہیں کوئی نہ ملے جو اس معاملے میں ہمارا پیچھا کرسکے؟
﴿سورۃ الاسراء، ۶۹﴾
رسول اللہﷺکی دعا:
اے اللہ! میں تجھ سے جنت کاطالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی جو جنت سے قریب کر دے،اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے جو جہنم سےقریب کر دے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر وہ حکم جس کا تو نےمیرےلیے فیصلہ کیاہے بہتر کر دے۔
(ابن ماجہ،۳۸۴۶)
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
"تحفوں کی تقسیم میں اپنے اولاد کے درمیان برابری کرو،اگر میں کسی کو کسی پر فضیلت دیتا تو میں بیٹیوں کو بیٹوں پر فضیلت دیتا۔"
[طبرانی،حدیث:11997]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص جائز طریقے سے مال حاصل کرتا ہے اسے اس میں برکت ہوتی ہے اور جو شخص ناجائز طریقے سے مال حاصل کرتا ہے اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی کھاتا رہتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔
{سنن ابن ماجہ۔۳۹۹۵}
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد دس دس مرتبہ یہ کلمات کہے تو :
لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اللہ سبحانه اس کی حفاظت کے لیے فرشتے بھیجے گا
👇
اے ایمان والو !
اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مومن ہو تو سود کا جو حصہ بھی ( کسی کے ذمے ) باقی رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو ۔پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی طرف سے اعلان جنگ سن لو ۔
﴿سورۃ البقرۃ،۲۷۸-۲۷۹﴾