چوروں کے مطابق عمران خان IMF کو الیکشن آڈٹ کیلئےخط لکھنا ملک سے غداری ہے جبکہ عوام کے بھاری مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنا، جعلی فارم 47 پر حکومت بنانا اور اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر ہاری ہوئی سیٹوں پر حلف اٹھانا.اس طرح کرسی پر بیٹھ کر پھر اپنے مخالفین پر ظلم و ستم ڈالا عین عبادت ہے
عمران خان نے مجھے ملاقات میں بتایا کہ مجھے جیل میں کوئی سلام کا جواب بھی نہیں دیتا اور کسی کو مجھ سے سلام کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے، بیرسٹر سلمان صفدر
Posted By Admin
190 ملین پاؤنڈ کیس میں آج ڈرامائی ماحول بن گیا
سلمان صفدر نے جب کہا کہ مجھے ابھی اپیلوں پر دلائل کے لئے ہدایات نہیں ہیں تو چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے بنچ نے نیب کو اپیلوں پر دلائل شروع کرنے کا کہہ دیا
پھر بیرسٹر گوہر نے روسٹرم پر آکر کہا دو ہفتوں کا وقت دے دیں ساتھ لطیف کھوسہ نے بھی یہی استدعا کر دی
قریب تھا دلائل نیب شروع کر دیتا
عدالت نے لطیف کھوسہ کی جانب سے انڈر ٹیکنگ لکھ لی کہ دو ہفتوں بعد دلائل دیں گے پھر سماعت دو ہفتوں بعد ملتوی کر دی
ہم نے ناکہ گا رکھا ہے آپ آگے نہیں جا سکتے پولیس کی شاہد خاقان عباسی سے گفتگو
شاہد خاقان عباسی اور محمود خان اچکزئی علامہ ناصر عباس پولیس سے روکے جانے پر بات کر رہے ہیں
ہم آزادکشمیر میں جا کر بات کرنا چاہتے ہیں کہ احتجاج کیوں ہے ۔ شاہد خاقان عباسی
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی و سینٹ کو روک کوئی مثبت پیغام نہیں دیا جا رہا ۔ شاہد خاقان عباسی
ہم بات چیت کے ارادے سے کشمیر جا رہے ہیں ہماری سوچ مثبت ہے۔ محمود خان اچکزئی
اگر مطالبات جائز ہوئے تو سنیں گے ورنہ انہیں نثںت مشورہ ہی دینگے ۔ محمود خان اچکزئی
پاکستان کی مرکزی قیادت کو کشمیر جانے سے روک کر منفی تاثر گیا ہے۔ علامہ ناصر عباس
پولیس کہتی ہے اوپر سے حکم آیا ہے افسوس کہ ہم کشمیر بھی نہیں جا سکتے۔ علامہ ناصر عباس
اگر گاڑی نہیں جانے دیتے تو ہم پیدل کشمیر چلت جاتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کی پولیس سے گفتگو
پاکستان کی مرکزی قیادت کو کشمیر جانے سے روکنے پر بھارت سب سے زیادہ خوش ہوگا۔ شاہد خاقان عباسی
ہم یہاں دھرنا دینگے جب تک ہمیں کشمیر جانے نہیں دیا جاتا۔ شاہد خاقان عباسی
ہم تو اظہار یکجتی کرنے جارہے تھے لیکن پولیس نے کشمیر جانے سے روک دیا۔ محمود خان اچکزئی
پنجاب میں مارشل لائی قانون کے حوالے سے تازہ اپڈیٹ یہ ہے کہ بل پیش کرنے والے ن لیگی ایم پی اے خالد رانجھا کا کہنا ہے یہ بل انکا نہیں بلکہ پنجاب حکومت کا ہے اور قانون وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی مشاورت سے لایا گیا ہے
جبکہ اہم قانون سازی پر اسپیکر آفس کو بھی آگاہ نہیں کیا گیا تھا
ن لیگ کو ہی پیکا قانون لانے کا اعزاز حاصل ہے اب تو ماشااللہ لگ رہا پنجاب میں سیدھا مارشل لاء لگانے کا ہی فیصلہ ہے کیونکہ مارشل لاء میں شخصی آزادی یا بنیادی انسانی حقوق نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔
میں جناب عمر نذیر کشمیری صاحب، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور تمام کشمیری عوام کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:
فوری طور پر انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے۔
خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیائے زندگی کی بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائی جائے۔
آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیاں فوری بحال کی جائیں۔
فورسز کو واپس بلایا جائے۔
تمام مقدمات اور سروں کی مقرر کردہ قیمتیں واپس لی جائیں۔
تمام معاملات مذاکرات، مکالمے اور باہمی مفاہمت کے ذریعے حل کیے جائیں
پنجاب حکومت کی نیا قانون لانے کی تیاری
انتظامیہ محض ایک انٹیلیجنس کمیٹی کی بنیاد پر کسی بھی شخص کے بینک اکاؤنٹس منجمد، جائیداد/فون ضبط کر سکتی ہے، سوشل میڈیا موجودگی ختم اور الیکٹرانک نگرانی میں رکھ سکتی ہے۔ یہ سب باقاعدہ سزا سے پہلے ہو گا۔ ڈان
https://t.co/1CbFVMVJIJ
اڈیالہ جیل میں بیمار قیدی کے ساتھ جیل حکام نے کیا کیا عجیب داستان سامنے آئی ہے پڑھیں سر پکڑ لیں گے
قیدی نے طبی بنیادوں پر ضمانت کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا کہ اس کا علاج جیل میں نہیں ہو سکتا اسے ضمانت دی جائے تاکہ وہ علاج کرا سکے اس پر پہلی سماعت 8 دوسری 15 تیسری آج 24 جون کو ہوئی
جیل حکام سے میڈیکل رپورٹ منگوانے کے لیے اسلام آباد کو سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کو شوکاز نوٹس جاری کرنا پڑا پھر میڈیکل رپورٹ سامنے آئی آج عدالت میں پیش کی گئی جس میں بڑا انکشاف ہوا کہ 14 مئی کو دو ڈاکٹرز نے تجویز کیا تھا کہ قیدی کی حالت خطرے میں ہے اس کو پمز منتقل کریں آج پھر جسٹس خادم حسین سومرو نے جیل حکام سے پوچھا آپ نے پھر کیا کیا ؟
اڈیالہ جیل حکام نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ 14 مئی کے ڈاکٹرز کے مشورے کے مطابق ہم نے قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کے لئے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کو لکھ دیا عدالت نے پوچھا ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کیا کہا پھر ؟ جیل حکام نے کہا جواب کا انتظار ہے عدالت نے کہا آپ کو پتہ ہے 14 مئی کے بعد آج کیا تاریخ ہو گئی ہے ؟ ڈاکٹرز نے لکھا تھا قیدی کے آنکھ اور کان کو شدید مسئلہ ہے اگر قیدی کو کچھ ہو گیا تو ایف آئی آر آپ لوگ پر ہو گی اس کا کوئی جواب جیل حکام کے پاس نہیں تھا پھر عدالت نے کہا ہوم ڈیپارٹمنٹ سے رپورٹ لیکر عدالت کو بتائیں سماعت ملتوی ہو گئی قیدی ادھر کا ادھر رہ گیا
مطلب 14 مئی ڈاکٹرز نے مشورہ دیا قیدی کو ہسپتال منتقل کریں جیل حکام آج 24 جون کو ابھی ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے جواب کے انتظار میں بیٹھے ہیں ویسے حد ہی ہو گئی ہے انسانیت بھی کہیں گم ہو چکی ہے