نتائج روک کر اہم منصوبہ بندی جاری
کہاں کیا کرنا ہے؟ نتائج کس حد تک تبدیل کرنے ہیں؟ حکومت میں کسکا کتنا حصہ ہوگا؟ اہم ترین فیصلے۔ عوام نے ووٹ کی طاقت سے پورے نظام کو مشکل میں ڈال دیا۔
If the #PakistanArmy steals this election the people of their country may never forgive them. And if they don't and allow #ImranKhanPTI and independents to take their democratic victory then its the biggest knock to their shadowy authority in decades. Either way they lose.
Despite every possible method employed to undermine the will of the people, our people have spoken via #MassiveTurnout for vote today. As we have repeatedly stated, "no force can defeat an idea whose time has come."
It is now critical to guard the vote by getting Form 45.
ایک انسان کا یقین اس کا ایمان کتنی قسمتیں بدل سکتا ہے؟
ایک شخص تھا جو ایک ہاری ہوئ ٹیم کو لے کر کہہ رہا تھا ہم جیتیں گے۔ کیسے؟
کس بنیاد پر کوئ مانتا۔۔؟
پھر وہ جیت گیا۔
ایک شخص تھا کہ جس کو ہر شخص نے کہا تمہارا خواب تعبیر نہیں ہوسکتا۔ کوئ جمع، تفریق، کوئ دلیل کوئ منطق نہیں کہ جو اس کو ممکنات میں بتا سکے۔۔ اس نے تعبیر کھڑی کرکے دکھائ۔ ایک بار نہیں تین بار۔ ہر مخالف، ہر ناقد کی آنکھوں کے سامنے۔ ہر اوچھے ہتکھنڈے، ہر منصوبے کے برخلاف۔ اس نے اپنی تعبیر تعمیر تو کیا کی، اس کی تعمیر اللہ کی قدرت سے کتنوں کی سانسوں کا وسیلہ بنی۔
سوچتا ہوں یہ کیسا ایمان ہے؟
۷۵ سالوں کا تجربہ تھا منصوبہ سازوں کا۔ کتنے بڑے نام زیر کیے؟ کون کون راندۂ درگاہ ہوکے بے نام و نشاں ہوا، اور باقی رہا تو کرنے والوں کا نام۔۔ دیدۂ بینا ہو تو کہے کہ بطورِ عبرت رہا، مگر عبرت حاصل کس نے کی؟ ہر ایک کے بعد دوسرے کا وہی طریق۔ سبق سیکھا تو ایک کہ ہم جو چاہیں سو کریں!
اور سو کیا۔ خاک ہوگئے وہ کہ جنہوں نے للکارنے کی ہمت کی۔ کرنے والے تو عبرت نا سیکھیں کہ حشر کس نے دیکھا ہے مگر جہانِ فانی تو نظروں کے سامنے ہے کہ جہاں تمہیں مثال بنا ڈالا۔۔ پھر کون لڑے اور کتنا لڑے۔ بس جو مِل رہا ہے صبر شُکر سے۔ جُھک کر سمیٹ لو۔ قوم سے کیا لین دین اپنی تو سنوار لو جو سر تسلیم خم کر کے سنور رہی ہے۔
مگر ایک شخص اور اس کا ایمان!
“سادہ، خوش فہم، ٹکے ٹکے کے لوگوں سے بھی دھوکا کھا جاتا ہے”۔آج دانتوں میں انگلیاں دبائے کھڑے ہیں سب ذی عقل، چالاک، فہمیدہ۔۔ جہاں دیدہ۔۔
اس کی سادگی ربِ کامل پر بھروسہ اور خوش فہمی اس کا ایماں نکلی۔
اور ایک دنیا کے جو اس کے مدار میں گھوم رہی ہے کہ “کی محمد (ص) سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں۔۔ یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں”۔
سوچتا ہوں وہ جو اپنے سامنے پھیلے سمندر کو دیکھ کر آسمان تکتا تھا، تو آنکھوں کے کنارے سے شُکر قطرہ قطرہ بہہ نکلتا کوئ اُسے جا کر بتاتا بھی ہوگا کہ اس سادہ دل کا ایمان کیسے زمینی حقائق سے نبرد آزما ہے؟
کیا وہ جانتا ہوگا کہ اس کی خوش فہمی حقیقت بن کر راستوں میں رقصاں ہے؟
یہ کہ اس کی نیک نیتی ایک ملت کا جنون بن گئی ہے؟
سوچتا ہوں وہ “مردہ قوم”، وہ “خود غرض”، “بزدل”، “کسی کے لیے نا کھڑی ہونے والی” قوم کہ جس کی “بے عملی” کی آڑ میں کتنوں نے کتنوں کا لہو بیچا۔
کتنی وفاداریوں کی قیمتیں لگیں۔
کتنے نا خدا خدا بن بیٹھے؛ وہی، آج اُس کی قوم بن کر کیا سے کیا ہوگئی ہے؟
کوئ تو جاکر اُسے بھی بتا آئے۔
کوئ اُسے تو خبر کرے اُس کا خواب تعبیر کی منزل پر کھڑا حقیقت پسندوں کا مونہہ چڑا رہا ہے۔
جس کی تصویر پر پابندی ہے وہ آنکھوں میں بس رہا ہے۔
جس کے نام پر قدغن ہے اس کا ذکر اٹھی ہتھیلیوں پر آل اولاد سے پہلے دہرایا جارہا ہے۔
جس کا نشاں گم کرنا تھا آج ہر نشان اس کا ہے۔
جس کو راندۂ درگاہ کرنا تھا آج تخت و تاج کو غرور بس اس کی نسبت سے ہے
آج وہ ریاست ہے اور ہر طاقت تماشائ۔
سوچتا ہوں ایک شخص کا ایمان کتنی تقدیریں بدل دیتا ہے۔
کیسے ریوڑوں کو لشکر بنا دیتا ہے۔
جیسے آج آپ کے احساسات ہیں ۹ اپریل کی رات ہمارے بھی تھے۔ ہم نہیں جانتے تھے قوم کیا سوچ رہی ہے ہم نے جو سُنا تھا پچھلے اودوار کے بارے میں ہمیں ویسے ہی ردعمل کی توقع تھی۔ جو منظر آپ ٹی وی پر دیکھ کر ٹوٹے تھے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے تھے۔ ہمارے سامنے وہ اٹھا تھا اور خالی ہاتھ وزیر اعظم ہاؤس سے نکل گیا تھا۔ ہم دل شکستہ خود سے نظریں نا ملا پارہے تھے۔ پھر کیا ہوا؟ کیا ۹ اپریل کو عمران خان ہارا تھا یا ۹ اپریل کو عمران خان کی اب تلک کی سب سے بڑی فتح ہوئ تھی؟
آپ نے لکھی تھی عمران خان کی جیت کی عبارت۔ وہ یونہی آپ کے حوالے اپنی جنگ نہیں کرکے گیا۔ وہ ہمیشہ سے جانتا تھا کہ جس دن اللہ نے آپ کے دل اس کی جانب موڑے دنیا کی کوئ طاقت اس کو شکست نہیں دے سکے گی۔ اس کی جنگ کبھی بھی اقتدار کے لیے نہیں تھی۔ اس کی جنگ اقتدار کی ہوتی تو وہ پانچ مہینے سے ایک تنگ و تاریک کال کوٹھری میں اپنے تقوی کی ڈھال تلے نہ بیٹھا ہوتا۔ اس کی جنگ محظ طاقت کے حصول کی ہوتی تو وہ گولیاں کھا کر مسکراتے ہوئے آپ کا حوصلہ نہ بحال کرتا۔ اس کی جنگ وزیر اعظم کی کرسی کے لیے ہوتی تو اُس کرسی کو دوام دینے والے سارے مہرے اس کی آنکھوں کے سامنے ۹ اپریل کو سجنے والی بساط پر پڑے تھے اور ایک عرصے تک پڑے رہے تھے۔۔ اس کی جنگ کا مقصد ہمیشہ سے آپ کو ایک عظیم قوم بنانا تھا۔ وہ جس دن دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر لا الہ الا للہ کہہ رہا تھا اسی منبر پر کھڑے کھڑے اس کے پیروں سے سانپ لپٹنے لگے تھے۔ پھر بھی اس کی للکار سست نہیں پڑی۔ وہ جب مغرب کی جمہور پسندی کے نقاب نوچ رہا تھا، تو اُن کے خون آشام دانتوں کو اس نے اپنی شہہ رگ پر تب ہی محسوس کرلیا تھا مگر اس نے آپ کا سر نیچا نہیں ہونے دیا۔ وہ جب اپنے نبی پاک (ص) کی حُرمت کے لیے آواز اٹھا رہا تھا تو بھی جانتا تھا کہ وہ آتشِ نمرود میں کود رہا ہے لیکن وہ مانتا تھا کہ اولادِ ابراہیم (ع) کو بس یہی شیوہ دیتا ہے۔ اور تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ وقت کے یزید کتنے ہی طاقتور ہوں حسین (رض) کی للکار ان کی تلواروں سے زیادہ زور آور رہتی ہے۔ اُس کی جیت تو اُسی دن ہوگئ تھی جس دن آپ نے کوفی بننے سے انکار کردیا تھا۔ اب اپنی جیت کو امر آپ نے اُس للکار سے کرنا ہے جس کا درس حسین (رض) اپنے خون سے لکھ گئے ہیں۔ جو پیادے آج آپ کے سامنے ناخدا بنے بیٹھے ہیں ان میں کسی کا قد نہیں اُس کو شکست دینے کا۔ اُس کا مقابلہ خدائ کے دعویداروں سے ہے اور اِس مقابلے میں اُس کا ہتھیار آپ ہیں؛ خلقِ خدا۔ جہاں ابھی تک آپ کے قدم نہیں ڈگمگائے ویسے ہی اب آپ کی آواز نہیں کمزور پڑنی چاہئے۔ گلی، مُحلے، چوک، چوراہے میں آپ کی للکار گونجنی چاہئے۔ ہر دیوار، ہر مکان، ہر چوبارے پہ آپ کی پُکار نشر ہونی چاہئے۔ یہ ہم پر اُس آدمی کا قرض ہے جس نے تخت و تاج ٹھکرائے ہمارا سودا نہیں کیا۔ جس نے خنجر سہے، تیر کھائے ہم پر آنچ نہیں آنے دی۔ جس نے خود کو تاراج کردیا ہماری نسلوں کی آبادی کی خاطر۔ جو کشمیر سے لے کر فلسطین اور افغانستان تک کے مظلوموں کی آواز بنا۔ جو ہر اُس مسلمان کی آواز بنا کہ جس کے لیے اُس کے امن و آشتی کے مذہب کو تہمت بنا دیا گیا تھا۔
یاد رکھیں ہم اس کی جنگ میں اللہ کے بھروسے اترے تھے۔ اپنے ایمان کے سہارے ڈٹے رہے ہیں اور اب اپنے آباء کی میراث کو اپنے سینوں میں سمو کر اسے لڑیں گے۔ ہم نہیں جھکیں گے!!!!
شکست کے بعد افسوس کیوں : کہتے ہیں جیسی روح ویسے فرشتے - پاکستان میں کونسا ادارہ میریٹ پر چل رہا ہے اور زبردست نتائج دے رہا ہے - جب فوج میں چیف میریٹ پر نہیں ، عدلیہ میں جج میریٹ پر نہیں، سیاستدان کو پتا ہی نہیں میریٹ کیا ہوتا ہے، افسر شاہی میں میریٹ غایب، میڈیا میں میریٹ ندارد, کسی کھیل میں میریٹ نہیں، بزنس ساری دو نمبری - عوام چور ڈاکو، خون پینے والوں کو پسند کرتے ہیں ، الیکشن ہمیشہ دھاندلی زدہ ، فوج، رینجر کسٹم پولیس اسمگلنگ کے شوقین ، تعلیم صحت سب بغیر میریٹ کے ، یہاں تک کے طلبا امتحان میں نقل بزور بندوق کریں -- تو ایسے ملک یا معاشرے میں اگر کرکٹ ٹیم جو بھی میریٹ پر نہیں بنی اگر کسی کمزور ٹیم سے ہار جائے تو رونا دھونا کیوں - جنہوں نے مال پانی بنانا تھا وہ بنا گئے اب کیا رونا - کوئی امید نہ رکھیں اگر جیت گئے تو تکا ، ہار گئے تو فکر کس بات کی
اسرائیل بھی پاکستانی فوج کی طرح ہے، ظلم جبر کرنے کےبعد جب اسکا ردِعمل اجاتا ہے تو وہ ردِعمل کو ظلم کا نام دے دیتے ہیں جبکہ پاکستانی فوج بھی محکوم قوموں اور عوام پر ظلم کرنے کے بعد اگر مظلوموں نے احتجاج بھی کیا تو احتجاج کو انتشار کا نام دے کر مزید ظلم کرنے کےلٸے جواز بنا دیتے ہیں
کاکول میں انگریزی بولی جاتی ہے ہاتھوں سے کھانا کھانے پر پابندی ہے
ٹیبل کرسی پر بیٹھ کر گوروں کی روایت مطابق چھری کانٹے سے کھانا کھاتے ہیں
سپریم کورٹ ججز انگریزی میں گفتگو کر رہے ہیں فیصلے انگریزی میں لکھتے ہیں
98 عوام آقاؤں کی زبان انگریزی سمجھتے ہی نہیں
یہ کیسی آزادی ہے ؟
مسئلہ یہ ہے کہ جن کو تم نشانِ عبرت بنا رہے تھے دنیا ان کی جہد پر رشک کرہی ہے۔ جن کی بے بسی نے تمہاری طاقت کو دوام دینا تھا ان کی شکستہ پائ تمہارے زوال کی گواہی دے رہی ہے۔ جن جسموں کی زبوں حالی کو تم نے اپنی فتح کی علامت دکھانا تھا قوم ان کی خستگی کو اپنی نسلوں کے لیے احسان لکھ رہی ہے۔ آج یہ نچھڑے چہرے، ہمارے اجھڑے گھر، ہماری بے سروساماں مائیں ملت سے وفاداری کے اس باب میں رقم ہورہی ہیں جہاں تمہارے نام لکھے جانے تھے۔ پاکستان کی ۲۴ کروڑ عوام جانتی ہے انہوں نے اپنے بچوں کو کوئ ان دیکھی الف لیلی نہیں جواں مردی اور راست بازی کی وہ داستانیں سنانی ہیں جو ان کی آنکھوں کے سامنے رقم ہورہی ہیں۔ ہاں دلوں میں البتہ یہ خلش رہ جانی ہے کہ ہمارے بچپن کی کہانیوں کے ہیرو ہمارے بچوں کی کہانی میں ولن بن گئے۔
ہم جو بے نام ونشاں آخری صفوں کے سپاہی تھے، ہمیں امر کرنے کا شکریہ۔ کاش اس سفر میں تم ہم نوا ہوتے۔
صدر جنرل یحیی خان نے پاکستان آدھا کر دیا ڈھاکہ میں سرنڈر کیا
صدر جنرل ضیاء الحق نے سیاچن دیا
صدر جنرل پرویز مشرف کارگل سے بھگوڑا ہوا وار آن ٹیرر 80 ہزار پاکستانی مار دے
کسی کا کوئئ احتساب ہوا نہ سزا ملی پروٹوکول میں دفن ہوئے
سویلین صدر سچ بولنے پر استعفا دے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم جسے ہرانے کے لیے گرے جارہے ہو، وہ تو کب کا جیت چکا ہے۔ یہ لڑائ تو شروع ہی اس کی جیت سے ہوئ تھی۔ جب تم نے جان لیا تھا کہ تم اسے ہرا نہیں سکتے تب ہی تو تمہاری بغلوں میں چھپے خنجروں پر تمہاری انگلیوں کے نشان چمکے تھے۔ کل تک جنہیں تم پیٹھوں میں گھونپتے تھے اس نے تمہیں مجبور کیا کہ وہ تم اس کے سینے پر رکھو اور وہ تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ گواہی دے کہ لا الہ الا للہ۔۔ نہیں ہے کوئ معبود اللہ کے سوا!
اس کی نظروں کی بے خوفی ہی نے تو تمہیں نظروں سے گرا دیا ہے۔ آج اس کا زندان بھی روشن ہے، اور تمہارے محلوں پر بھی آسیب کا سایہ ہے۔ اب تم بین ڈال ڈال کے اپنی مظلمویت کا پرچار کرو یا اپنے ہی جگر گوشوں کے کلیجے چباؤ۔ جیت تو وہ گیا ہے تم تو خجالت میں صرف اپنے نقاب نوچ رہے ہو۔