@RizwanMuraad یہ تو محترمہ نے لیاری فٹبال سٹیڈیم کا دورہ کیا جو مین روڈ پر واقع ہے اور جہاں رینجرز کی پوسٹ ہے، لیاری کی گلیوں کا دورہ کرتی تو پتہ چلتا انکی گورنمنٹ نے کیا دیا لیاری کی عوام کو
@ia_rajpoot پنجاب میں جو ترقیاتی کام ہو رہے انکا تخمینہ عوام کو بتا دیا جاتا ہے مگر انکی آڈٹ رپورٹ آج تک پبلک نہی کی گئی کتنے کا میٹیریل لگا کتنے مزدوروں نے کام کیا اور کتنے پیسے لیئےمشینری کتنی استعمال ہوئی وغیرہ، احتساب تو سب کا بنتا ہے 10،20 ہزار والوں کو بعد میں پکڑیں
کرپشن شکنجہ ناریوں پر نوری مخلوق کواستسناء کیوں؟؟؟؟
پنجاب بھر کےتھانوں میں اسٹیشنری کی قلت، پٹرول و فیول کے مسائل اور انویسٹی گیشن فنڈز کہاں خرچ ہوئےاسکا زمہ دار کون
آصف شاہ، کرائم رپورٹر
محترمہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ! کرپشن کے خلاف آپ کی مہم قابلِ تحسین ہے، دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو استقامت دے۔ مگر بطور کرائم رپورٹر ایک سوال ضرور بنتا ہے: اگر SI اور ASI کو ایک، پانچ یا دس ہزار روپے کی مبینہ رشوت پر گرفتار کیا جا رہا ہے تو پھر اس پورے نظام کا احتساب کب ہوگا؟مجھے محترم عزیز اللہ خان ایڈوکیٹ جو DSPکے عہدہ سے ریٹائرڈ ہیں ذاتی طور پر صرف اس لیے پسند ہیں کہ اس طبقہ کی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا کوئی والی وارث ہی نہیں ہے نوری اور ناری والی انکی اصطلاح ایک پیغام بن چکا ہے اب آتے ہیں اصل مدعے کی طرف
پنجاب کے تقریباً چالیس اضلاع میں انویسٹی گیشن فنڈز کی عدم فراہمی، تھانوں میں اسٹیشنری کی قلت، پٹرول و فیول کے مسائل اور سرکاری گاڑیوں کے مبینہ نجی استعمال کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان معاملات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ فنڈز کہاں خرچ ہوئے، فیول کس نے استعمال کیا، سرکاری گاڑیاں کہاں چلیں اور ان معاملات پر بڑے افسران سے کب حساب لیا جائے گا؟
ایک اہلکار کی دس ہزار روپے کی مبینہ کرپشن اگر جرم ہے تو سرکاری وسائل کے بڑے پیمانے پر مبینہ غلط استعمال کا احتساب اس سے بڑا سوال ہے۔ احتساب صرف تھانے کے گیٹ پر کھڑے اہلکار تک محدود نہیں ہونا چاہیے، اس کی انگلی اوپر تک جانی چاہیے۔
محترمہ وزیراعلیٰ! عوام جاننا چاہتے ہیں کہ چھوٹے اہلکاروں کے بعد بڑے افسران کا احتساب کب ہوگا؟ کیونکہ کرپشن کے خلاف حقیقی جنگ تب ہی کامیاب ہوگی جب قانون کا شکنجہ چھوٹے مہرے ہی نہیں بلکہ ذمہ دار بڑے عہدوں تک بھی پہنچے گا۔اگر فنڈز کے حوالہ سے سمجھ نہ آئےکہ کدھر جاتے ہیں تو براہ کرم چوہنگ ٹرینن�� سینٹر آڈٹ رپورٹ منگوا کر پڑھ لیں سب کھلبکر سامنے آجائیگا
🫲سوال صرف اتنا ہے: چھوٹی مچھلیاں پکڑی جا رہی ہیں، بڑے مگرمچھوں کا حساب کب ہوگا؟اور جب نظام چلانے والے مختلف شکلوں والے ایک جیسے ہوں اور یہ کہیں کہ سسٹم کلیپس کرچکا تو سمجھ جائیےبجلی غریب پر ہی گرے گی محل والوں کواس دنیاءمیں استسناء حاصل ہے
@MariaBalochPK میڈم یہ 2021، یا 2022 کی ویڈیو ہے جو ان��یا کے کچھ شر پسند عناصر دوبارہ شیئر کر رہے ہیں، وہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کر کے بہن بھائی کے پاکیزہ رشتے کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس موصوفہ کے بیان پر عمران ہاشمی کا موقف بھی واضحہ تھا
241رب ۔فیصل آباد انتظامیہ کے لوگ اعلٰی حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے لگ گئے، آن لائن شکایات کو جھوٹی تصویروں کے ساتھ مکمل حل کا دیکھاوا کرنے لگ گئے، شہروں کے مسائل کا کوئی سد باب نہی اعلی حکام سے نوٹس کی اپیل
@DCFaisalabad@MaryamNSharif@fwmc1139@wasafsd@ZeshanMalick
@Dimplemalhann عمران ہاشمی نے تنوشری دتہ کے ’’بھائی بہن جیسی کیمسٹری‘‘ والے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے تو کبھی نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ فلم انسیسٹ (مح��م رشتے) کی کہانی ہے