اے ریاستی ادارو ! خدارا ہوش کے ناخن لو الطاف بھائ پر جو غیر آئینی اور غیر قانونی پابندی تم نے پنجابی عدالتوں سے لگوائ ہے اسکے باوجود آج پنجاب کا نوجوان بھی سرعام بھائ کا نام عزت سے لے رہا ہے تو سوچیئے الطاف بھائ پر پابندی ہٹنے کا بعد کا عالم کیا ہوگا ؟۔۔
@OfficialDGISPR
یکم جولائی 2023ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم جناب جنرل عاصم منیر صاحب!
چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان!
السلام علیکم وآداب عرض
عیدالاضحی کی دلی مبارکباد قبول کریں۔ اب میں آپ کی خدمت میں چند اہم گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
1۔ میں عیدکے دن سے لیکر آج مورخہ یکم جولائی2023ء کے دن تک پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر فوج کے شہداء کے اہل خانہ کے بیانات دیکھ رہا ہوں ، شہداء کے لواحقین کے جذبات واحساسات غورسے دیکھ رہا ہوں۔ میں خود شہداء کے لواحقین میں شامل ہوں اور اپنی تحریک کے ہزاروں کارکنان کی شہادت کاصدمہ سہہ چکا ہوں لہٰذا میں ان شہیدوں کے لواحقین کے دکھ ، درد اورجذبات واحساسات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ اسی لئے یہ کہنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ملک کی سالمیت اور تحفظ کیلئے شہداء نے جوقربانیاں دی ہیں اس پر ان کے لواحقین کے بیانات میں اپنے پیاروں کی شہادت پر جس طرح فخر کااظہارکیا جارہاہے اور ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے بچھڑ جانے کا جو دکھ وکرب بیان کیاجارہا ہے اس پر مجھ سمیت پوری قوم کوشہداء کی شہادت پر فخرہے اور ان کے اہل خانہ کے اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے کے دکھ پر صدمہ بھی ہے۔
2۔ اب میں ان ماں باپ، بچوں ،بچیوں اورسہاگنوں کے دکھ وکرب کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے پیاروں کوفوج، ISI اور ملک کے دیگر سیکوریٹی اداروں کے اہلکاروں نےان کے گھروالوں کےسامنے گرفتارکرلیاتھااورپھر انہیں لاپتہ کردیاگیا۔ بہت سے لاپتہ کیے جانےوالےافراد کو لاپتہ کئے 15سے 20 سال سے زائدکا عرصہ بیت چکاہے،ان لاپتہ افراد میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں 14 سال پہلے لاپتہ کیاگیاہے۔ شروع شروع کے دنوں اور آنے والی ہرعید کے موقع پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیارےمعصوم بچوں کویہ کہہ کہہ کرتسلیاں دے دیتے تھے کہ '' تمہارے ابو بیرون ملک گئے ہوئے ہیں اور وہ چھٹی نہ ملنےکےسبب اس عید پر گھرنہیں آسکے''۔
اسی طرح کے دلاسے دیتے دیتے آج ان کےمعصوم بچے باشعور، تعلیم یافتہ اورجوان ہوچکے ہیں ،ان کی مائیں اپنے بچوں کوجوکہ اب جوان ہوچکےہیں کیاجواب دیں؟ مزید کیاتسلیاں دیں ؟
ان لاپتہ افراد کےاہل خانہ کیلئےتو ہرآنےوالی نئی عید ،ان کے دکھی اورزخمی دلوں کواورزیادہ دکھی اوران کےزخموں کومزید تازہ کرنے کاسبب بنتی ہے ۔
3۔ چیف آف آرمی اسٹاف جناب جنرل عاصم منیرصاحب!
کوئی ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ بالخصوص معصوم بچوں کے دکھ اور کرب کی حالت کو دیکھے یا نہ دیکھے مگر اللہ تبارک وتعالیٰ تو ضروردیکھ رہا ہے ۔ ملک کے ہرچھوٹے بڑے سیاستدان نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کرکے وعدے وعید کئے حتیٰ کہ قسمیں تک کھائیں کہ ہم اپوزیشن میں رہ کر ان کی بخیریت گھرواپسی کیلئے بھرپورانداز میں آواز احتجاج بلند کرتےرہیں گے لیکن ا ن سیاستدانوں نےاپنے وعدے ذرہ برابربھی پورے نہ کیے ۔ اسی طرح ان سیاستدانوں نے لاپتہ افراد کےاہل خانہ سے قسمیں کھاکھاکر یہ وعدے بھی کیے کہ اگرہم اقتدار میں آگئے تولاپتہ افراد کو فوری بازیاب کرانا ہماری دیگر ترجیحات میں اولین ترجیح ہوگا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کےوعدے وعید اورقسمیں ہمیشہ کی طرح اقتدار کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئیں اورانہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی اولین ترجیح کےاپنے وعدے کوسردخانےمیں ڈال دیا۔
محترم جنرل عاصم منیر صاحب!
میری آپ سےمؤدبانہ درخواست ہےاورآپ کواپنےحافظ قرآن ہونے کاواسطہ بھی ہےکہ ان تمام لاپتہ افراد کو فی الفور بازیاب کرانےکیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں ،اگر ان لاپتہ افراد پر کوئی الزام یا الزامات ہیں تو انہیں فوری طورپر عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کریں اور اگر لاپتہ کیے گئے افراد میں سے جوافراد چل بسے یامارے جاچکے ہیں تو کم ازکم ان کے پریشان حال اہل خانہ کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے احکامات جاری کریں یاپھر الیکٹرانک میڈیاپر لاپتہ کیےجانےوالےافراد کے اہل خانہ کو لاکر انہیں بھی اپنی دکھ بھری داستانیں سنانے کاموقع فراہم کریں ۔اس طرح کم ازکم وہ اپنی اپنی دکھ بھری داستانیں سنا کرہی اپنے دکھوں کا بوجھ ہلکااور اپنے اپنے غموں کا کچھ تو مداوا کرسکیں گے ۔
شکریہ
والسلام
احقر
الطاف حسین (لندن) یکم جولائی 2023ء
@AltafHussain_90 محترم الطاف بھائی!
آداب عرض
آپ نےخواتین کوسیاسی شعور دیاہے،انکا احترام یقینی بنایا۔اس سچائی کوآپ کے مخالف بھی تسلیم کرتے ہیں
خواتین کے حقوق کا تحفظ، خواتین کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں ناروا سلوک اور خواتین کے خلاف سیاہ قوانین کے خاتمے کیلئے صرف آپ ہی کی آواز مؤثر اور توانا ہے
'' خواتین کا مقام اور ناروا سلوک ''
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ سوچا کہ میں اپنے اس بیان کے ذریعہ زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ جو دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں کسی بھی شعبہ میں انتہائی نمایاں کارکردگی کے باوجود مَردوں کے برابر نہ تو اہمیت دی جاتی ہے اور نہ ہی درجہ دیا جاتا ہے، اس کے بارے میں اپنا مؤقف ان کے سامنے رکھ سکوں۔
میں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کے شکوے اور شکایات سنیں اور سنتا رہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ کھیل کے میدانوں جس میں کرکٹ، فٹ بال ، ہاکی جیسے بڑے کھیلوں سمیت ملازمتوں ، بیورو کریسی ، پولیس ، مسلح افواج ودیگر شعبہ جات اور محکموں میں انتہائی محنت ولگن سے کام کرنے اورانتہائی ایمانداری کےساتھ اپنےاپنے شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی کے باوجود وہ مقام ''Position'' ، ''Credit '' یا ''Reward'' نہیں دیا جاتا جو درجہ ومقام ، عزت ومرتبہ ، مَردوں کو دیا جاتا ہے تو ایسی نمایاں کارکردگی کرنے والی خواتین کو میرا یہ مشورہ ہے کہ انہیں ہمارے ملک میں جاری فرسودہ ( Obsolete) سیاسی کلچر(Political Culture) کا جائزہ لینا چاہیے ۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں 75 سال گزرجانے کے باوجود ''جاگیردارانہ '' ، '' وڈیرانہ'' ، ''سردارانہ نظام'' اورکرپشن کے ذریعے سرمایہ دار بننے والا ''سرمایہ دارانہ نظام ''، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے جاری ہے جہاں خواتین کو بہت ہی کمتر (Inferior) ، کمزور اور بے حیثیت حتیٰ کہ انسان تک نہیں سمجھا جاتا اور انہیں صرف مَردوں کی خدمت کرنے ، بچوں کی پرورش کرنے اور تمام گھریلو کام کاج کرنے کے ساتھ ساتھ مَردوں کے مقاصد ومفادات اور خواہشات کی تکمیل کرنے والی مخلوق سمجھاجاتا ہےاور بہت سے مقامات پر تو عام انتخابات میں خواتین کو ووٹ دینے کے عمل کو بھی حرام سمجھاجاتا ہے ۔ بعض ممالک میں ایسے فرسودہ نظام میں خواتین کو لونڈی یا غلام (کنیز) سمجھا جاتا ہے ۔
مزید برآں پاکستان میں روزمرہ یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ فلاں فلاں جگہ شک وشبہے کی بنیاد پر عورت کے منہ پر تیزاب پھینک دیا گیا اور مزید اسی طرح یہ خبریں بھی عام ہیں کہ صوبہ سندھ میں جوان لڑکا اورلڑکی اپنی باہمی رضامندی سے اگر چھپ کر شرعی نکاح کرلیں یا کورٹ میرج کرلیں تو ان پر کاروکاری کا الزام لگا کر دونوں کو سرعام قتل کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً صوبہ KPK میں خواتین کو ''غیرت ''کے نام پر قتل تک کردیا جاتا ہے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ خواتین کو فی الحال صبروتحمل سے کام لیتے ہوئے اپنی سوچ وفکر میں بھی اور دیگر خواتین کی سوچ وفکر تبدیل کرنے کی جدوجہد بھی کرنی چاہیے اورانہیں ان لوگوں کاساتھ دینا چاہیے جو خواتین کو مَردوں کے برابر عملی طورپردرجہ اور حصہ دیناچاہتے ہوں اور ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ ، سردارانہ وکرپٹ سرمایہ دارانہ نظام کو واقعتا ختم کرکے ایک روشن خیال معاشرے کا قیام چاہتے ہوں ،جو خواتین کے ساتھ روا رکھےجانے والے ہرامتیازی سلوک کا خاتمہ چاہتے ہوں ۔ اس کیلئے خواتین کو اپنے اپنے گھروں میں خواتین کے اجتماعات منعقد کرکے آپس میں ''Study circles''یعنی فکری نشستوں کا انعقاد کرکے خواتین میں شعوری بیداری کی کوششیں کرنی چاہیے ۔ اس راہ میں انہیں بے پناہ مشکلات ، رکاوٹوں، تنقید ، طعنے تشنے پر مبنی القابات کا سامنا کرناپڑے گا حتیٰ کہ ان کی زندگیوں کو خطرات بھی لاحق ہوسکتے ہیں مگر انہیں یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ اچھے اور نیک مقصد کیلئے آوازاٹھانے اور جدوجہد کرنے میں آگ وخون کے دریا عبورکرنے پڑتے ہیں ۔ مجھے اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ ہمارے ملک میں خواتین کےجائز حقوق کیلئےجدوجہد کرنا انتہائی مشکل ضرور ہے مگرناممکن ہرگز نہیں ۔ ہمیں اس امرکو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تیسری دنیا (Third world countries) کے بیشتر ممالک میں مَردوں کی سبقت اور اجارہ داری(Man dominating society) کا کلچر پایاجاتا ہے۔اس سے نجات کاواحد حل مثبت سوچ وفکرکے ساتھ جدوجہد اور صرف جدوجہد کرنے کا عمل ہی ہے ۔
Struggle and only struggle with positive thinking
الطاف حسین
30، جون2023ء (لندن)
بڑی عید پر
بڑی خبر
آنے والے چند گھنٹوں میں
یا چند دنوں میں
قائد تحریک @AltafHussain_90 بھائی پر سے پابندی ختم ہونے والی ہے
ساتھیوں جشن ک8 تیاریاں شروع کردو۔۔۔
#LiftBanOnAltafHussain
غدار مہاجر قوم
پیسوں کی لڑائی کرسی کی لڑائی لڑ نے ولے لوگ
الطاف حسین بھائی کے گمنام سپاہی کسی کی چھتری تلے کام نہیں کرتے جو تم جب چاہو اون رکھ سکو الطاف کی محبت مہاجر قوم کی راگ راگ میں بسی ہے
#WeStandWithAltafBhai#مروت_قومی_موومنٹ
میں ذاتی طور پر کسی پارٹی کا فالور نہیں ہوں اسوقت کیونکہ جس پارٹی کے بیان اور زبان پر آپنے پابندی لگا دی میں اسکے بعد کسی کیساتھ چل ے کا فیصلہ نہیں کرسکا
اگر میری سیاست کا آغاز #AltafHussain بھائی تھے تو میری سیاست کی انتہاء بھی @AltafHussain_90 بھائی کیساتھ ہوگی
@OfficialMqm
👇
الطاف حسین اُوس لیڈر کا نام ہے جس سے تمام جاگیرداروں وڈیروں کے اختلافات ہیں
پر پھر بھی الطاف بھائی جو آج سے 7 8 سال پہلے بولتے تھے وہ آج اون سبو کو ماننا پڑھ رہا ہے الطاف حسین کو سنجو الطاف حسین سچا مہیبے وطن پاکستانی ہے
#WeStandWithAltafBhai
الطاف بھائی نے آج سے کافی سال پہلے بولا تھا کراچی میں داعش موجود ہے
تو لوگ اون کا مذاق بنا رہے تھے اور داعش کے خلاف آپریشن کر نے کے وجئے
ایم کیو ایم پے آپریشن شورو کر دیا
اگر اُس ٹائم داعش کے خلاف آپریشن کرتے تو آج پاکستان دیشتگروں کی لپیٹ میں نا ہوتا
#WeStandWithAltafBhai
جو الطاف بھائی نے آج سے کافی سال پہلے بولا تھا کے تمام فورٹ راشن کا بائیکاٹ کروں تو لوگ اون کی بات پے حس رہے تھے اج الطاف بھائی کی بولی ہوئی بات کو دورا رہے ہیں کے بائیکاٹ کروں اُس ٹائم کر لیتے تو آج یہ حال نا ہوتا
#WeStandWithAltafBhai
ہمارے شہر میں قیمت ہمارے سر کی لگی کے پھر بھی اپنا یہ نارا ہے
میرا قائد ہے لہو نے میرے پرکا ہے میرا قائد ہے
الطاف حسین بھائی مہاجر اور مظلوموں کے لیڈر ہی نہیں ہمارا عقش ہمارا جنون ہمارا سکون ہمارا چین ہمارے دل کی دھڑکن ہیں
#مروت_قومی_موومنٹ نامنظور
#WeStandWithAltafBhai
#مروت_قومی_موومنٹ
الطاف حسین بھائی کا چیپٹر کلوز کر نے کے لئے اُس کو چھونا گیا ہے جس کا چیپٹر ہی الطاف حسین بھائی نے بنایا اسکو جانتا کون تھا
سانپ پللو پر اس جیسا کتہ نا پلوں
#مروت_قومی_موومنٹ#WeStendWithAltaf