ایل پی جی کی قیمتوں کی آڑ میں عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ حکومت نے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 308 روپے فی کلو مقرر کر رکھی ہے مگر بازار میں گیس 480 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے: روزنامہ دنیا/22جون 2026
اشیائے خوردونوش سمیت عام استعمال کی تقریباً تمام چیزوں کی قیمتیں مہنگے پیٹرول کے نام پر بے تحاشہ بڑھا دی گئیُں اور اب ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے بعد ہر طرف پہلے جیسی ہی مہنگائی ہے اور حکام خاموش ہیں۔
اور وہ جو عوام نامی مخلوق 2، 2 گھنٹے سڑک پر روکی ہوتی ہے جب شاہی سواریاں گزر رہی ہوتی ہیں...
جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے
جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
.. احمد سلمان
وزیر دفاع خواجہ آصف کا قومی اسمبلی اجلاس کے دوران سپیکر قومی اسمبلی سے بڑا مطالبہ ۔ خواجہ آصف بولے ، جناب سپیکر پارلیمینٹ کو ویگو ڈالے سے بچائیں
جو ویگو ڈالے کے اسٹیئرنگ پر بیٹھتا ہے اس کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ ویگو ڈالہ بذات خود ایک فحاشی ہے ۔ ویگو ڈالے بین کریں انہیں سٹرکوں پر بھی بین کریں ۔ اس مطالبے پر حکومت و اپوزیشن کے اراکین کے چہروں پر مسکراہٹیں ۔
مسلم لیگ پاکستان کو میرٹوکریسی بنانے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن سیاسی میدان میں انتہائی اقربا پروری کا مظاہرہ بھی کرتی ہے۔ کیا حکمران خاندان کو اندازہ ہے کہ اس سے پارٹی اور گورننس کو کتنا نقصان ہورہا ہے؟
عثمان پیرزادہ صاحب ہیں بہترین اداکار ۔
ہر دوسرے ڈرامے میں نظر اتے ہیں ان سے پوڈ کاسٹر احمد بٹ نے پوچھا اپکے گھر کا بجلی کا بل کتنا ایا ہے توکہتے ہیں ڈھای سے تین لاکھ ۔۔
بجلی کنٹرول سے باہر ہے ۔ میں سیاسی بیان نہی دینا چاہتا مگر مہنگی بجلی کی وجہ سے ارٹ کونسل بند کرنی پڑی بہت خوفناک بل ایا ہے ۔۔
اینکر طنز کرتا ہے پر حکومت تو یہ کہتی ہے کہ ہم ترقی کر رہے ہیں مگر یہ کیسی ترقی ہے جس میں سب بند ہے ۔۔
عثمان پیرزادہ کہتے ہیں لوگ یہاں سے باہر جارہے ہیں میری بھولی بیٹیاں کینڈا چھوڑ کر پاکستان شفٹ ہو گی ہیں ۔۔
اب سوچیے یہ اس طبقہ کا حال ہے غریب کا کیا حال ہو گا ۔۔ اور متوسط طبقہ کا جو ہر رو یونٹ گنتا ہے کہیں دو سو سے اوپر نہ چلا جاے میں نے ایسے گھر بھی دیکھیں ہیں جو دو سو یونٹ ہونے سے پہلے میٹر بند کر کے میٹر ریڈر کا انتظار کرتے ہیں ۔،
نہ دن کو بجلی چلاتے ہیں نہ رات کو ۔۔ جب تک ریڈنگ نہی ہو جاتی
قوم کو کس دوہراۓ پر لا کر کھڑا دیا ہے ۔۔ مخ��وق خداعذاب میں ہے رحم فرمائیں
ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل کا طویل سفر :
وزارت آئی ٹی سے نکلا، وزارت قانون نے اوکے کیا ہو گا، کابینہ نے منظوری دی ہو گی ، تبھی تمام مراحل طے کرتا قومی اسمبلی ، اور پھر سینیٹ تک پہنچا ، کیا پیپلز پارٹی کی اسمبلی میں قانون ساز کمیٹی نے اس بل کو شق وار پڑھنے اور روکنے کی کوشش کی ؟
جو 150 والا پیٹرول 338 سے458 روپے تک بیچ رہے ہوں ،
جن کےخاندان بھر کے IPPs لگے ہوئے ، جوایتھنول سے IPPs چلا کر فرنس آئل کی قیمت وصول کرتے ہوں ۔
جنہوں نے گیس کا بل200 سے بڑھا کر 1400 تک پہنچادیا، جن کے خاندان کے دنیا بھر میں بینک اکاؤنٹس جائدادیں اورکاروبار پھیلے ہیں مگر وہ یہ سرمایہ پاکستان لانے کا روادار نہیں،
یہ ہمیں کہانیاں سنا رہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے سے یہ واپس لائے ہیں ۔
عوام اب بے وقوف نہیں بنتی صاحب !!
نیم خواندہ سوشل میڈیا منیجر سے ایسی پوسٹ بنوا کر حکومت کو کیوں شرمندہ کرواتے ہیں ؟
اس میں یہ نہی لکھا کہ 299پاکستانی روپے انڈیا میں 102انڈین روپے بنیں گے انڈیا میں رہنے والا انڈین روپے میں تنخواہ لیتا ہے پاکستانی میں نہی
راجہ صاحب کیا ڈنمارک میں پٹرول جنگ سے پہلے والی قیمت پر آ گیا؟ آج ڈنمارک میں پٹرول کی قیمت 2.63 یو ایس ڈالر فی لیٹر ہے جو کہ پاکستانی روپوں میں 736 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ کیا آپ نے ڈنمارک حکومت کیخلاف احتجاج کیا؟
لیسکو کی نئی واردات / نیا فراڈ :
ماہ جون 2026 کے بجلی کے نئے بلوں سے کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ گھریلو صارف نے کتنے یونٹ استعمال کئے ، تمام ٹیکسوں کی انفرادی تفصیلات بھی غائب ، صرف بجلی کی ٹوٹل قیمت اور واجب الادا ٹوٹل ٹیکس کی ر��م بلوں میں درج !
جو شخص صرف تین ماہ کے اندر ڈیزل کی قیمت 520 روپے فی لیٹر سے کم کرکے 311 روپے فی لیٹر تک لے آئے، یعنی 209 روپے فی لیٹر کی کمی کر دے، اور پٹرول کی قیمت 414 روپے سے کم کر کے 299 روپے فی لیٹر تک لے آئے، وہ ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ خالد حسین تاج
#pakistan@KhalidHusainTaj
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
حکومت نے ایسی حماقت کی ہے جس کا بندہ سوچ بھی نہیں سکتا، اور قومی اسمبلی سے یہ بل پاس بھی ہوگیا۔ کیا یہ کوئی عوام دوست حکومت ہے؟ اگر ایک بندے نے ساری زندگی محنت کرکے ایک مکان بنایا ہو اور وہ کسی ٹیک کمپنی کو پسند آ جائے تو وہ کہے گی کہ ہم نے یہاں ٹاور لگانا ہے، یہ جگہ چھوڑو، اور اگر آپ نے منع کیا تو جرمانہ بھی ہوگا۔اس طرح تو غیر ملکی سامراجی طاقتیں جب کسی ملک پر قبضہ کرتے ہیں تو یہی کرتے ہیں، لوگوں سے ان کی زمین چھین لیتے ہیں۔ ہمیں ٹیک کمپنیز کی صورت میں ایک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی دی جا رہی ہے، اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ ان کی زندگی دراز کرے کہ سینیٹر پلوشہ خان نے اس کو پکڑ لیا ورنہ پتا نہیں کیا ہوتا، نصرت جاوید
@javeednusrat