Merchandiser/Exporter of Knitwear Apparels in all kinds of Garments, TrackSuits,T-Shirt,Polo Shirt,Jogger,Denim Legging,Short,Langries,Sports wear and much more
🚨 The shameful role of Muslim countries in attacking Iran ... 🚨
Trump launched Saturday’s wide-ranging attack on Iran after a weeks-long lobbying effort by an unusual pair of US allies in the Middle East — Israel and Saudi Arabia."
Push from Saudis, Israel helped move Trump to attack Iran - The Washington Post https://t.co/HQ7kSC5B8f
خان صاحب کی صحت کے حوالے سے ڈاکٹر عاصم یوسف کا تازہ بیان،
جو انہوں نے عمران خان کے موجودہ علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ کانفرنس کال کرنے اور ان ڈاکٹروں کے حالیہ چیک اپ وزٹ کے بعد جاری کیا ہے۔ 16 فروری 2026۔
ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی تشویش: دائیں آنکھ کے علاج کے علاوہ، عمران خان کو آنکھ کی بیماری سے منسلک ممکنہ دیگر صحت کے مسائل کا جامع اور مربوط علاج کی ضرورت ہے۔ یہ علاج صرف شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد جیسے ٹرشیری ہسپتال میں ممکن ہے۔15 فروری 2026
بہتر ہے شہباز حکومت یہ اعلان کردے کہ نان فائلرز کا سوشل بائیکاٹ ہوگا ،اسے کوئی رشتہ نہیں دیگا ، اسکا نکاح نہیں پڑھایا جائے گا ، نان فائلر کو زندہ رہنے کا حق نہیں ہوگا، مرنے پر اسکا جنازہ نہیں ہوگا اسے ایسے ہی گڑھا کھود کر دبادیا جائیگا ۔۔ عجیب تماشہ ہے اس ملک میں ایک دھاڑی دار مزدور کیسے فائلر بنے گا؟ اس نے روز کمانا ہے وہ کیسے بنک اکاونٹ کھلوائیگا ؟ یا اسکو دھاڑی دینے والا اسکے بنک اکاونٹ میں اسکی ایک دن کی دھاڑی منتقل کریگا ؟ اس حکومت نے اصلاحات کے نام پر عوام کو ذلیل و رسوا کرکے رکھ دیا ہے۔۔۔۔۔۔
خدا کا واسطہ ہے اب ضد چھوڑیں اور عمران خان کو باہر لائیں ، مودی کے یار موجودہ حکمرانوں نے قومی سلامتی کو داو پر لگا دیا ہے ۔ ہندوستان کو جواب دینے کی صلاحیت صرف عمران خان میں ہے ۔ پورا پاکستان اس وقت ہندوستانی ڈرونز کی ذد میں ہے ۔ کدھر ہے نوازشریف، شہبازشریف، مریم نواز ؟ ہم کہتے تھے یہ نوازشریف فوج سے بدلہ لے گا مگر کسی نے نہیں سنی ۔ فوج کے بہادر جوان اور قوم شہید ہورہے ہیں زخمی ہو رہے ہیں مگر بے حیاء حکمران خاموش ہیں ۔ جو کچھ پاکستان کے ساتھ گزشتہ 48 گھنٹے سے ہو رہا ہے اب ہمیں صرف اور صرف ہندوستان کی سسکیاں سننی ہیں ۔ بھاڑ میں گئے بین الاقوامی قوانین ہمیں اپنا انتقام لینا ہے ابھی ہندوستان پر حملہ کرو اور ہندوتوا کی سوچ کو تباہ کرو
ڈی جی آئ ایس پی آر کا دہشتگردی کے حوالے سے حالیہ بیان ناصرف حقائق کے برعکس بلکہ گمراہ کن ہے۔ عمران خان اور ان کی کابینہ نے کبھی بھی افغانستان سے تحریکِ طالبان پاکستان کی واپسی اور آبادکاری کے حوالے سے پالیسی کی منظوری نہیں دی۔ امریکہ کے افغانستان سے انخلا سے قبل یکم جولائی ۲۰۲۱ کو عسکری قیادت نے پارلیمان کو تین نکات پر بریفنگ دی۔ جن میں سے ایک نقطہ امریکی انخلاء کے پاکستان کے امن و امان پر اثرات، دیگر نکات ریجن میں طاقت کے توازن اور عالمی سطح پر پاور گیم کے حوالے سے تھے۔ اس کے بعد اکتوبر ۲۰۲۱ میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے اگلے روز عسکری قیادت ایک پانچ نکاتی پلان منظوری کے لیے وزیراعظم کے پاس لے کر آئی جس کی فوری منظوری پر زور دیا گیا۔ عنوان مذاکرات کا طریقہ کار تھا مگر نکات طالبان کی واپسی کے تھے۔ مجھ سمیت کابینہ کے دیگر اراکین جو زمینی حقائق سے آگاہی رکھتے تھے انہوں نے عسکری قیادت کے پیش کردہ منصوبے پر اعتراضات اٹھائے جن کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا بلکہ بھرپور کوشش کی گئی کہ بنا مین میخ کے ان کے پلان کی منظوری دی جائے تاہم وزیراعظم عمران خان نے ایسے کسی بھی پلان کی منظوری دینے سے احتراز کیا کہ جس میں بیش بہا قربانیوں کے بعد حاصل کردہ امن کے بربادی کا امکان ہو۔
اس میٹنگ میں موجود تمام وزرا گواہی دیں گے کہ میری باتیں اس وقت عسکری قیادت کو جتنی بھی ناگوار گزریں مگر جو سوالات میں نے اٹھائے اور جن خدشات کا اظہار کیا میرے وہ تمام خدشات درست ثابت ہوئے۔رجیم چینج کے بعد جون ۲۰۲۲ میں پی ڈی ایم حکومت کی منظوری کے بعد پہلا وفد افغانستان گیا جس سے سب کو لاعلم رکھا گیا۔ تب جب دہشتگردی کی واپسی کے متعلق میں نے بہت احتیاط سے سوالات اٹھائے تو اس وقت کی حکومت اور آئی ایس پی آر کی جانب سے ایسی کسی پیش رفت سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا گیا اور مجھ پر ناصرف پراپگینڈہ کرنے کا الزام لگایا گیا بلکہ پہلے دبے لفظوں میں اور پھر کھلم کھلا دھمکیاں پہنچائی گئیں۔ ریاستی اداروں کی نیت بھانپتے ہوئے میں نے اپنی قوم سے رجوع کیا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک پرامن تحریک کے زریعے ہم نے اپنے علاقوں کو ان عناصر سے خالی کرایا۔ تاہم مجھے بتایا گیا کہ یہ انخلا عارضی تھا اور برف پگھلنے پر گرمی تو بڑھے گی مگر اس سے پہلے آپ کا بندوبست کیا جائیگا۔ حقائق اور بھی بہت ہیں (اور اس حوالے سے باقی سیکوئنس آف ایونٹس میری اگست ۲۰۲۲ سے ۲۰۲۳ تک کی تقریروں اور پریس کنفرنسز میں مل جائیگا)۔ مگر خلاصہ یہی ہے کہ عمران خان دور میں نہ ڈرون حملہ ہوا نہ دہشتگرد آئے اور نہ آپ کی غلط پالیسیوں کی منظوری دے کر قوم کو نئی جنگ کا ایندھن بننے دیا گیا۔
عام آدمی کی سمجھ کیلے سادہ لفظوں میں—وقت نکال کر ضرور سنیے گا!!
چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی اور دیگر دو ججز نے نے قادیانی مبارک احمد ثانی فیصلے اور اس کی غلط تشریح کو سمجھنے کیلئے اھم ویڈیو ۔۔۔۔!
https://t.co/lnWTetQT6T