Pakistan's Supreme Court has ordered that the country's imprisoned former prime minister Imran Khan be taken to hospital for medical examination, following months of concern for his health.
Zulfi Bukhari, an advisor to Khan, tells Sky's @markaustintv it is a 'welcome step' but wishes the decision was taken months earlier.
Watch below⬇️
اسکائی نیوز پر زلفی بخاری نےعمران خان کی صحت سے متعلق کورٹ کے آرڈر کے بارے میں بات کرتے ہوۓ۔ دنیا میں بات پھیل چکی ہے اب اگر عمل درآمد نہ ہوا تو عالمی بے عزتی کی بات ہو گی۔
Imran Khan’s life and well-being matter far more than anyone’s need for takedowns, point-scoring, or a knives-out approach.
This is a very delicate moment, which is why exercising restraint online, keeping emotions in check, and avoiding further heat in an already volatile situation are not just important, they are a responsibility.
He deserves to return to a better people.
‼️انتہائی اہم‼️
تمام لوگوں سے اور بالخصوص پی ٹی آئی ورکرز سے گزارش ہے
خان صاحب سے محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کی طبی نگہداشت کے لئے انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا، جس کا حکم سپریم کورٹ کر چکی ہے، اس پر عملدرآمد ہو۔ اس لئے کسی کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ لوگوں کے اجتماع یا ہسپتال کے سامنے غیر ضروری رش کے باعث ان کی ہسپتال منتقلی کا عمل روکیں یا اس میں رخنہ ڈالیں۔ اس وقت معاملہ صرف ان کی صحت کا ہے۔
آپ سے درخواست ہے کہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔ ہسپتال کے گردونواح جمع ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ آپ کا یہ عمل چاہے مخلصانہ اور محبت بھرا کیوں نہ ہو، اس سے خان صاحب کی منتقلی کے عمل۔میں رخنہ پڑنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔
ہماری اولین ترجیح ان کی صحت اور زندگی ہے، اپنی اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے۔
شکریہ
انصافیز سے درخواست:
اس وقت لوگ مختلف تھیوریز پیش کریں گے
لیکن عمران خان کے اہلخانہ، عمران خان کےورکرز اور کروڑوں پاکستانیوں کےلیےسب سے اہم عمران خان کا فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں فوری چیک اپ اور علاج ہے
صرف اس بات پر دھیان رکھیں کہ عدالتی حکم پر فوری عملدرآمد ہو
A medical board that examined former prime minister Imran Khan at Adiala Jail has recommended that he be allowed one hour of walking and relaxation, along with more frequent interaction with his immediate family and spouse.
It also recommended access to newspapers, magazines, television and reading material to help control the 73-year-old PTI founder’s blood pressure and anxiety.
The recommendations are contained in the summary of the medical board’s report submitted to the Supreme Court along with a report by the Adiala Jail superintendent. A three-member SC bench headed by Justice Shahid Waheed is scheduled to hear petitions concerning access to Imran today (Tuesday).
According to the summary, a boardcomprising Dr Muhammmad Arif Khan, head of the Ophthalmology Department at PIMS, Dr Akhtar Ali Bandeshah, cardiologist, Dr Muhammad Ali Arif, associate professor of medicine, and Dr Muhammad Farqad Alamgirexamined Imran on August 10.
The board recorded his blood pressure at 140/80mmHg and noted complaints of heaviness in the head and palpitations. It found no shortness of breath, heaviness, or chest pain but recorded “Anxiety +++”.
Full story on our website.
عدیل راجہ صاحب بصد احترام میری یہ ریپورٹ میڈیا کو لیک کرنے والے پر بھی لعنت ہے۔ اس بدبخت کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ انکی ان حرکتوں کیوجہ سے سنجیدہ پلیٹ فارم مزاق بن گئے ہیں اور اہم فیصلے نہیں ہوپارہے۔ یہ عمران خان کے ساتھ ظلم ہے زیادتی ہے۔ یہ خیانت ہے۔ غیر معتبر حرکت ہے۔
Imran Khan, the rightful elected PM of Pakistan who is under illegal detention by the illegal Pakistani government, has been in solitary confinement for 9 months. Senior doctors have analysed the reports submitted to the court by the superintendent of the jail where he is illegally detained.
Based on doctors analysis, I have compiled the document available at:
https://t.co/YXMiEREfQV
This document shows that how he is being tortured and made sick. SOLITARY CONFINEMENT IS ILLEGAL UNDER INTERNATIONAL LAWS.
Please share widely with Human Rights organisations. Tag the following organisations and personalities in your tweets. Raise this internationally. Do your best to save his life, please.
🌍 Human Rights Organizations*
@amnesty — Amnesty International
@hrw — Human Rights Watch
@UNHumanRights — UN Human Rights Council
@OHCHR — Office of the UN High Commissioner for Human Rights
@FreedomHouseDC — Freedom House
@RSF_en — Reporters Without Borders (RSF)
@CIVICUS — Civicus (civil society monitor)
@ICJ_org — International Commission of Jurists
*UN Officials & Bodies*
@UN — United Nations
@UNGeneva — UN Geneva
@MaryLawlor_UNSr — UN Special Rapporteur on Human Rights Defenders
@antonioguterres — UN Secretary-General
دو باتوں میں ایک بات ہوسکتی ہے۔
1۔ یا گوہر صاحب سامنے آئیں کہ وہ اپنی خبر پر قائم ہیں، خان صاحب کی طبیعت ٹھیک ہے۔ عدالت میں جمع ریکارڈ غلط ہے۔
2۔ یا یہ بتا دیں کہ انسے متعلقہ افراد نےجھوٹ بولا تھا اور ان لوگوں کو بےنقاب کریں۔
دونوں صورتوں میں خان صاحب سے انکے ڈاکٹرزکی ملاقات ناگزیرہے۔
تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے رکن سالار خان کاکڑ نے 9 اگست کی کور کمیٹی میٹنگ کے بعد جو تفصیلی ریکارڈ رکھا، وہ دراصل پارٹی کی موجودہ فیصلہ سازی کے خلاف ایک سنجیدہ اندرونی چارج شیٹ ہے۔
ان کے مطابق 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا فیصلہ، دیگر صوبوں کا لائحہ عمل، اپوزیشن جماعتوں کا کردار، وکلا، اوورسیز چیپٹرز، میڈیا، سوشل میڈیا اور رابطہ کاری—کسی پر بھی واضح، جامع اور قابلِ عمل فیصلہ سازی نظر نہیں آئی۔
تین گھنٹے کی میٹنگ کے بعد بنیادی سوال وہی ہے:
فیصلے کون کر رہا ہے، ذمہ داری کس کی ہے، اور عمران خان کی رہائی کے ہدف کے لیے عملی پلان کہاں ہے؟
سالار کاکڑ کی چارج شیٹ کا سب سے تشویشناک پہلو صرف یہ نہیں کہ فیصلے نہیں ہوئے؛ بلکہ یہ ہے کہ فیصلہ سازی کا نظام ہی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
کور کمیٹی میں باتیں لیک ہو رہی ہیں، سیاسی کمیٹی میں فیصلہ سازی واضح نہیں، مرکزی تنظیم محدود نفری کے ساتھ بے پناہ ذمہ داریوں میں گھری ہوئی ہے، 27 ستمبر کے لیے صوبوں، اپوزیشن، وکلا اور اوورسیز چیپٹرز کا کردار غیر واضح ہے، جبکہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔
اور سالار کاکڑ کا بنیادی سوال انتہائی اہم ہے:
اگر سیاسی کمیٹی قابلِ اعتماد فیصلہ ساز پلیٹ فارم ہے تو فیصلے وہاں کیوں نہیں ہو رہے؟
آخرکار مقصد ایک ہی ہونا چاہیے: عمران خان کی بحفاظت رہائی—اور اس کے لیے اب صرف بیانات نہیں، فیصلے اور عملدرآمد چاہیے۔
نو ماہ سے یہ تین بہنیں بھائی سے ملاقات کیلئے باقائدگی سے اڈیالہ جیل جاتی ہیں بہنیں کسی کی بھی ہوں بے لوث ہوتی ہیں۔ انسانیت کا تقاضا ہے کہ اب بس کر دیں ملاقات کرانے میں کیا ہرج ہے کونسی قیامت آ جائے گی۔ ہمارے تاریخ بڑی بے رحم ہے یہ وقت کسی پر بھی آسکتا ہے۔۔
میں سلمان اکرم راجہ صاحب کے ساتھ بطور لیگل ٹیم ممبر عدت کیس کے وقت سے کام کر رہا ہوں، اور جب سے وہ سیکرٹری جنرل نامزد ہوئے ہیں، تب سے آج تک بطور لیگل کونسل سابق وزیراعظم عمران خان مقدمات میں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس تمام عرصے میں، میں نے انہیں نہ صرف ایک انتہائی قابل، بااصول اور باکردار سینئر وکیل کے طور پر دیکھا بلکہ عمران خان صاحب کے قانونی امور کے حوالے سے غیر معمولی محنت، اخلاص اور ثابت قدمی کا عملی مشاہدہ بھی کیا ہے۔
بار کونسل کے انتخابات کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ صاحب پر لگائے جانے والے الزامات کی میں بطور چشم دید گواہ، اڈیالہ جیل میں ہونے والی ملاقاتوں اور معاملات کے حوالے سے، واضح اور دوٹوک تردید کرتا ہوں۔ مزید برآں، پنجاب بار کے پی ٹی آئی حمایت یافتہ منتخب ارکان نے بھی یہ امر واضح کر دیا ہے کہ بار انتخابات میں ٹکٹس کی تقسیم اور فیصلہ سازی سلمان اکرم راجہ صاحب کی نہیں بلکہ آئی ایل ایف کی قیادت کی جانب سے کی گئی تھی۔
عمران خان صاحب کے مقدمات کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں فکسیشن کے لیے جب بھی کوشش ہوئی، عمران خان صاحب کی بہنوں ، بیرسٹر سلمان صفدر اور میرے ساتھ صرف سلمان اکرم راجہ صاحب ہی ان کوششوں میں موجود اور سرگرم رہے ہیں۔ کئی مرتبی ایسا ہوا کہ بہنوں کے ساتھ ہم صرف تین ہی وکلاء اسلام آباد ہائی کورٹ صبح سویرے پہنچے ہوتے تھے۔
چاہے صبح سویرے کا وقت ہو یا رات گئے، میں نے سلمان اکرم راجہ صاحب کو پوری محنت، توجہ اور بہترین ممکنہ کوشش کے ساتھ عمران خان صاحب کے مقدمات کو مقرر کروانے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے دیکھا ہے۔ آج سپریم کورٹ میں مقرر ہونے والا کیس بھی انہی مسلسل کاوشوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔
عمران خان صاحب کی ہدایات پر عمل درآمد اور ان کے قانونی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے بھی سلمان اکرم راجہ صاحب نے ہمیشہ اپنی حتی المقدور کوشش کی ہے۔ ایک ایسے سینئر وکیل، جو غیر معمولی قانونی صلاحیت، تجربے، حوصلے، کردار اور اصول پسندی کے حامل ہیں، آئی ایل ایف قیادت کے فیصلے کی بنیاد پر عائد کیے جانے والے الزامات کی میں بطور چشم دید شخص نہ صرف تردید کرتا ہوں بلکہ اپنے مشاہدے کی بنیاد پر یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ان کے کردار اور خدمات کو کسی سیاسی یا انتخابی تنازع کی بنیاد پر مشکوک بنانا سراسر ناانصافی ہے۔
میرے لیے سلمان اکرم راجہ صاحب ایک ایسے سینئر اور باوقار وکیل ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض، قانونی ذمہ داریوں اور عمران خان صاحب کے مقدمات و امور کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کو پوری دیانت، استقامت اور خلوص کے ساتھ نبھایا ہے۔
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی میڈیکل رپورٹ کے مطابق سابق وزیرِ اعظم عمران خان میں بے چینی اور گھبراہٹ کی ’شدید‘ علامات پائی گئی ہیں۔
https://t.co/YpRuNECuaI
عمران خان کی طبی رپورٹس تشویشناک ہیں۔ میں نے کئی ماہرین سے مل کر ان کا جائزہ لیا ہے، اور یہ سادہ الفاظ میں لکھ رہا ہوں تاکہ ہر پاکستانی سمجھ سکے کہ اصل صورتحال کیا ہے۔
ترتیب کے لحاظ سے جو چیز مجھے سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے وہ ہے ان کی ذہنی دباؤ اور اضطراب کی کیفیت ہے، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، اور بڑہتا ہوا بلڈ پریشر۔ رپورٹ میں نیند کی کمی کا ذکر نہیں، مگر ادویات دیکھ کر یہ بھی تقریباً یقینی لگتا ہے۔
میں عمران خان کو 35 سال سے زیادہ عرصے سے جانتا ہوں۔ ذہنی دباؤ کبھی ان کی کمزوری نہیں رہا۔ مگر اب یہ عروج پر ہے، خود بتا رہا ہے کہ تین سال کی قید اور مکمل تنہائی نے ان پر کیا اثر ڈالا ہے۔
اس کی وجوہات سمجھنا مشکل نہیں: ملک کی صورتحال، جیل میں مقید ساتھی، شہید ہونے والے اور ان کے سوگوار خاندان۔ خود ان کی اپنی تنہائی، نہ اخبار، نہ کتابیں، باہر کی دنیا سے مکمل بےخبری۔ اور بلاشبہ بشریٰ بی بی، اپنی بہنوں، کارکنوں اور پارٹی کے بارے میں ان کی فکرمندی۔
دوائیوں کو دیکھیں، کیونکہ تشخیص تو موجود ہی نہیں۔ انہیں
Citani اور Lexotanil
دن میں تین بار دی جا رہی ہیں۔ یہ نیند کی کمی کا علاج نہیں۔ یہ دن کے وقت کے اضطراب کا علاج ہے۔
ان کی دل کی دھڑکن 54 فی منٹ ہے۔ ڈاکٹر اسے "نارمل" کہیں گے۔ لیکن ان کے لیے یہ نارمل نہیں۔ ان کی آرام کی حالت میں دل کی دھڑکن ساری زندگی 40 کی دہائی کے ابتدائی ہندسوں میں رہی ہے، جو ایک تاحیات فٹ کھلاڑی کی نشانی ہے۔ 54 تک پہنچنا ایک تبدیلی ہے۔
ا
نہوں نے دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کی شکایت کی ہے۔ یہ ایسی بات نہیں جسے نوٹ کر کے نظرانداز کر دیا جائے۔ اس کے لیے فوری طور پر 24 گھنٹے کے لیۓ ہولٹر مانیٹر لگانا ضروری ہے، تاکہ اس کی تعداد معلوم ہو اور صحیح دوا تجویز کی جا سکے۔ یہاں تک کہ پاکستان سے باہر رجسٹرڈ ایپل فون سے منسلک ایپل واچ بھی
Atrial Fibrillation
اور دھڑکن کی بے ترتیبی کو حقیقی وقت میں ظاہر کر سکتی ہے (کیونکہ یہ فیچر پاکستان میں غیر فعال ہے)۔
اب وہ بلڈ پریشر کی تین الگ الگ دوائیں لے رہے ہیں۔ اس کے لیے روزانہ صبح و شام باقاعدہ نگرانی درکار ہے تاکہ خوراک درست کی جا سکے، ہفتہ وار اندازوں پر نہیں چلا جا سکتا۔ انہیں کولیسٹرول کم کرنے والی دوا بھی دی جا رہی ہے۔ اس عمر میں بڑھا ہوا کولیسٹرول جینیاتی اور ذہنی دباؤ دونوں وجوہات سے ہو سکتا ہے، اور اسے خوراک، ورزش اور دوا کے امتزاج سے قابو کرنا ضروری ہے، جیسا کہ بلڈ پریشر کے لیے بھی۔ کم نمک۔ زیادہ حرکت۔ حقیقی نگرانی۔
درج ذیل ٹیسٹ اب بغیر کسی مزید تاخیر کے ہونے چاہئیں:
۱) اسٹریس ٹیسٹ
۲) ایکو کارڈیوگرام
۳) کارڈیک ایم آر آئی
۴) Cardiac Artery Calcium CAC اسکین — بڑھے ہوئے کولیسٹرول کی وجہ سے، تاکہ شریانوں میں جمع کیلشیم کے ذخائر معلوم ہوں جو براہِ راست دل کے دورے یا اسٹنٹ کی ضرورت کا باعث بنتے ہیں۔
۵) کارڈیک سی ٹی انجیوگرام اور، اگر ضرورت پڑے تو، دیگر ٹیسٹ۔
میں سخت پریشان ہوں۔ تنہائی ان کے جسم پر جسمانی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اگر اسے فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے۔
عمران خان کو اب فوری طور پر ہسپتال کے ماحول میمنتقل کیا جانا لازمی ہے، ایک آزاد اور غیرجانبدار طبی بورڈ کی نگرانی میں۔ ان کا خاندان اور پاکستان کے سرکاری ڈاکٹروں پر بلکل اعتماد نییں کرتے ہیں۔ سب پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ رپورٹس میں ردوبدل کیا گیا، اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر یا دبا کر پیش کیے گئے، پلیٹلیٹس کا معاملہ اس کی ایک مثال ہے۔
اگلے تین ماہ بہت اہم ہیں اور پتہ چلے گا کہ ان کی حالت بہتر ہوتی ہے یا مستقل نقصان میں بدل جاتی ہے۔
ہم سب پریشان ہیں۔
ملک کو آج ان کی ضرورتہے، پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
اللہ انہیں صحت مند رکھے۔ آمین۔
Imran Khan's medical reports are alarming. I have gone through them with several specialists, and I am writing this in plain language so every Pakistani can understand exactly what is happening.
In order of priority, this is what worries me most: his anxiety and stress levels, his palpitations, and his high blood pressure. Sleeplessness is not mentioned in the report, but looking at the medications, it is almost certainly there too.
I have known Imran Khan for more than 35 years. Stress was never his weakness. That it is now at peak levels tells you everything about what three years of imprisonment and total isolation have done to him.
The causes are not hard to understand: the state of the country, his colleagues in jail, those sentenced, the killed, and their grieving families. His own isolation, no newspapers, no books, no knowledge of what is happening outside. And yes, his anxiety over Bushra Bibi, his sisters, his workers and his party.
Look at the medications, as there is no diagnosis. He is on Citanil and Lexotanil, three times a day. That is not sleeplessness being treated. That is daytime anxiety being treated. Read that twice.
His heart rate is 54 bpm. Doctors will call that "normal." It is not normal for him. His resting heart rate has been in the low 40s his whole adult life, the mark of a lifelong elite athlete. A jump to 54 is a real shift.
He has reported heart palpitations. That is not something to note and move on from. It needs a 24-hour Holter monitor immediately, to catch the frequency and get him on the right medication. Even an Apple Watch linked to an Apple ID outside Pakistan (as that function is disabled in Pakistan) can flag Atrial Fibrillation and palpitations in real time.
He is on three separate BP medications now. That requires proper daily AM/PM monitoring to titrate correctly, not once-a-week guesswork. He is also on a cholesterol-lowering drug. Raised cholesterol at his age is both genetic and stress-driven, and needs diet, exercise, and medication working together, as does his blood pressure. Less salt. More movement. Real monitoring.
And the following tests that must happen now, without further delay:
1) A Stress Test
2) An Echocardiogram
3) Cardiac MRI
4) Cardiac Artery Calcium (CAC) scan, because of raised cholesterol to check for calcified deposits that block arteries and lead directly to heart attacks or the need for stents.
5) Cardiac CT Angiogram and other tests if indicated.
I am deeply worried. Isolation is taking a physical toll on his body. If this is not addressed immediately, the damage may become irreversible with more complications to follow.
@ImranKhanPTI definitely needs to be moved to a hospital environment now, under an independent panel of doctors. Neither his family nor the people of Pakistan trust government-appointed doctors alone. We have already seen reports manipulated before, numbers exaggerated or suppressed, platelets among them.
The next three months will decide whether his condition is reversed or becomes permanent.
We all are alarmed.
The country needs him more than ever before. May Allah keep him healthy. Ameen. 🤲
یہ صرف ایک قیدی کی صحت کا معاملہ نہیں، انسانی زندگی کا معاملہ ہے۔ اڈیالہ جیل کی میڈیکل رپورٹس خود بتا رہی ہیں کہ عمران خان @ImranKhanPTI کو بلڈ پریشر، دھڑکن، سر میں بوجھ اور شدید ذہنی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ میڈیکل بورڈ نے واک، ذہنی سکون، مطالعے اور اہلِ خانہ سے زیادہ ملاقاتوں کی سفارش کی ہے۔
موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی انتقام کی ساری حدیں پار کرلی ہیں۔عدلیہ کو عمران خان صاحب کی حفاظت یقینی بنانی چاہیے۔ عمران خان @ImranKhanPTI کو تمام ضروری طبی سہولیات پرسنل معالجین اور مناسب ہسپتال کی سہولت فوری فراہم کی جائے۔۔