”عمران خان کا پمز ہسپتال لے جا کر صرف آنکھون کا معمولی سا چیک اپ اور بلڈ پریشر نوٹ کیا گیا، بلڈ ٹیسٹ نہیں ہوئے۔ ڈاکٹر کون سا تھا، کیا تھا، کوئی پتا نہیں۔ “ ہمشیرہ عمران خان، اعظمی خان کی پریس کانفرنس
عمران خان کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے سے انکار سے متعلق رپورٹس جھوٹی ہیں۔ عمران خان شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کروانے کے لیے تیار تھے۔ — ڈاکٹر عظمٰی خان
9 اپریل کی رات کیا ہوا تھا، شہید ارشد شریف کے پروگرام کا یہ حصہ ضرور دیکھیں۔
اس ویڈیو کو ہر جگہ پھیلا دیں 💔
مائیں روز روز ارشد شریف شہید جیسے دلیروں کو جنم نہیں دیتی!!
ایک چوری اوپر سے سینہ زوری،ایک سپریم کورٹ کا حکم نہ مانا گیا بلکہ توہین کی گئی سپریم کورٹ کی اور اوپر سے جھوٹ پہ جھوٹ بولا جا رہا ہے،اے فارم 47 کی حکومت کیا ملے گا یہ گھسے پٹے ڈرامے کر کے،سچ بولو،کہہ دو،ہم اب کسی عدالت اور کسی جج کو نہیں مانتے،جو ہمارا دل چاہے گا وہ کریں گے،ویسے فارم 47 والوں نے پچھلے 24 گھنٹوں میں جو کچھ کیا ہے،اس پر دل یہی کہنے کو کر رہا ہے کہ
کچھ۔۔
کچھ۔۔
🚨🚨🚨پاکستانیوں اس گفتگو کا ایک ایک لفظ سنو تاکہ تمھارا غصہ طوفان بن سکے
عمران خان نے بار بار کہا کہ بتاو میرے ساتھ کتنا ظلم ہو رہا ہے ،
ہمارے لیڈر پر اس قدر ظلم ، کبھی ظالموں تمھیں معاف نہیں کیا جائے گا
"ایک امید پیدا ہو گئی تھی اور ہم سوچ رہے تھے کہ 'دیر آئے درست آئے'۔ پاکستان کی عدالتِ عالیہ نے عمران خان کی صحت سے متعلق زیرِ گردش افواہوں (جیسے بلڈ پریشر کا بڑھنا اور آنکھوں کی تکلیف) کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔
اس مثبت پیش رفت پر مکمل تعاون کرتے ہوئے، پاکستان تحریکِ انصاف نے ملک بھر میں اعلان کیا کہ ہسپتال کے اطراف کوئی ہجوم اکٹھا نہیں ہوگا، نہ ہی کوئی نعرے بازی، بدنظمی یا جلسہ جلوس ہوگا۔
ان سب کے باوجود، رات کے اندھیرے میں نامعلوم عناصر نے مداخلت کی۔ ہر ادارے میں کچھ کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ پاکستان جمہوریت کے راستے پر گامزن ہو۔ اگر عمران خان جیل کی کوٹھری کے بجائے ہسپتال کے بستر پر ایک ہفتہ زیرِ علاج رہتے اور ڈاکٹر ان کا مناسب معائنہ کر لیتے، تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا؟
رات کے وقت جب میں نے سنا کہ انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے، تو مجھے دلی خوشی ہوئی کہ وہ کم از کم ایک دو دن وہاں زیرِ علاج رہیں گے۔ تاہم، صبح معلوم ہوا کہ صورتحال مزید تنزلی کی جانب جا رہی ہے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
🚨ڈاکٹر فیصل کا پوائنٹ بھی آگیا
مجھے شفا ہسپتال لیکر گئے فجر کے ٹائم تک انتظار کروایا لیکن عمران خان کو تب تک نہیں لائے اور پھر مجھے بھی ادھر سے کہا گیا کہ وہ نہیں آرہے،،، مطلب انکی ملاقات سرے سے ہوئے ہی نہیں
”عمران خان نے کہا، میری قوم کو بتائو یہ جیل میں میرے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہیں، انہوں نے مجھے قید تنہائی میں ٹیلی ویژن یا پڑھنے کیلئے کسی بھی قسم کے مواد سے دور رکھا۔ میرے سر میں کچھ ہوتا تھا، میں نے ڈاکٹرز سے اپنی طبیعت کا کئی بار ذکر کیا مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں۔“ ہمشیرہ اعظممئ خان، 9 ماہ بعد عمران خان سے ملنے کے بعد ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے آبدیدہ
"ایک بات یہ کی جارہی ہے کہ بہنوں کی پریس کانفرنس سپریم کورٹ کو دی گئی انڈرٹیکنگ کی خلاف ورزی ہے یہ بات بالکل غلط ہے۔ سپریم کورٹ نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ جو میڈیکل ریکارڈ ہسپتال میں پیش کیا جائے گا کیا آپ اس پر سیاست کریں گے؟ ہم نے صرف یہ انڈرٹیکنگ دی تھی کہ میڈیکل ریکارڈ صرف خاندان اور ذاتی ڈاکٹرز کے پاس رہے گا سیاسی جماعت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہم اس پر کوئی سیاست نہیں کریں گے۔ ہم نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی کوئی ریکارڈ پیش ہی نہیں ہوا وہ میڈیکل بورڈ بنا ہی نہیں جس میں ڈاکٹر عظمیٰ نے شامل ہونا تھا"۔
سلمان اکرم راجہ
”ججز کو فیصلہ کرنا ہو گا، پاکستان میں یا عدالتوں کو تالے لگا دیئے جائیں یا پھر عدالتیں اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروائیں۔ اگر کوئی عدالتوں کا فیصلہ نہیں مانے گا تو یہ ملک، بانانا ری پبلک بن جائے گا۔“ وزیراعلٰی خیبرپختونخوا، @SohailAfridiISF#ContemptOfCourt
"عمران خان نے ایک بات بار بار مجھے کہی کہ میرے ساتھ ظلم ہورہا مجھے یہ ٹارچر کررہے ڈاکٹرز کہتے طبیعیت خرابی کی وجہ humans contact نہ ہونا ہے۔ جیل کے ڈاکٹرز نے ان کو میری طبیعت خرابی کا بار بار بتایا لیکن کوئی سنتا ہی نہیں تھا ۔ دس اگست کو جو ڈاکٹرز آئے انہوں نے کہا کہ آپ کو جو قید تنہائی میں رکھا جارہا جو مینٹل ٹارچر کیا جارہا اس کی وجہ سے جو Anxiety ہو رہی تبھی بلڈ پریشر کا مسئلہ ہورہا ہے۔ انہوں نے بار بار کہا میری قوم کو بتاؤ یہ انسان نہیں ہیں یہ ظلم کررہے ہیں بشری بی بی کے ساتھ ظلم کررہے"۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان
کل عمران خان صاحب کا کیس ہے جس کو تین ججز جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر ، جسٹس اشتیاق ابراہیم صاحب کا بنچ سن رہا ہے ہم ان سے ایک بار پھر التجا کرتے ہیں کہ آپ انصاف کے لیے تنخواہ لے رہے ہیں ہم ریلیف نہیں انصاف مانگتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں عمران خان صاحب کی فیملی اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں فوری علاج اور ان کی فیملی سے ملاقات کروائی جائے ۔ وزیراعلی سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF
#EnoughIsEnoughFreeKhan