ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی میں گھسائے گئے اپنے آخری کھلاڑی بھی کھل کر میدان میں اتار دیئے ہیں، یہ وہ کم ظرف اور گرے ہوئے لوگ ہیں جو دولت کے پجاری ہیں اور صرف دنیاوی زندگی پر یقین رکھتے ہیں، یہ فوج کا پی ٹی آئی پر آخری بڑا وار ہے اور بیشمار آستین کے سانپ بہتر مالی مستقبل کے لیے عمران خان کے نظریے کی نفی کرتے ہوئے آبپارہ کو اپنا خدا بنائے ہوئے ہیں، اس ایڈوینچر کے بعد عمران کی پی ٹی آئی میں صرف وہ نظریاتی لوگ رہ جائیں گے جو سالوں سے عمران خان کے نظریے کا بوجھ اٹھائے جیلوں میں ہیں فوج کے زیر عتاب ہیں روپوش ہیں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں لاکھوں جان نثار کارکنان ہیں سوشل میڈیا رضا کار ہیں عوام ہے، نظریاتی انسان کبھی غدار نہیں ہوتے اور دولت کے شوقین کبھی وفادار نہیں ہوتے، عمران خان کی پی ٹی آئی کو ختم کرنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے نظریے کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا ہے، دولت کے پجاری، عمران خان سے احسان فراموشی کرنے والے، بے حس فوجی مراعات کے شوقین لوگ فارورڈ گروپ بنا لیں ریورس گروپ بنا لیں مائنس پلس کر کے دیکھ لیں چاہے کچھ بھی بنا لیں عمران خان ہی پی ٹی آئی ہے اور پی ٹی آئی ہی عمران خان ہے۔
اپنے محسن یا مددگار کے ساتھ دھوکا، فریب یا دغا کرنے کو اردو زبان میں "نمک حرامی" یا "احسان فراموشی" کہا جاتا ہے، تاریخ اور ادب میں ایسے کرداروں یا واقعات کو بہت برے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے جہاں کسی نے اپنے ہی مربی یا محسن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہو۔
ساڑھے چار سال گزر چکے ہیں کچھ سال اور گزر ہی جائیں گے لیکن تاریخ بہادروں کو ہی یاد رکھے گی، تاریخ عمران خان اور ان کے خاندان کو یاد رکھے گی تاریخ پی ٹی آئی کے شہداء کو یاد رکھے گی تاریخ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ، شاہ محمود قریشی، عالیہ حمزہ، آمریت کے زیر عتاب رہنماؤں اور کارکنان کو یاد رکھے گی تاریخ عمران خان کے سوشل میڈیا کے نامی اور گم نام رضا کاروں کو یاد رکھے گی اور وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیئے جائیں گے، رزق کی خاطر ہاتھ گندے کرنا برا نہیں ہے مگر رزق کی خاطر نیت اور ضمیر گندا کرنا اور اپنے محسن کے ساتھ دھوکہ بہت برا ہے۔
1۔ عمران خان تین سال سے جیل
2۔ انکی منکوحہ 2 سال سے جیل
3۔ انکی 3 بہنیں اور ایک کزن مہینے سے جیل
4۔ 100 سےزائد ورکرز شہید
5۔ درجنوں معزوری کی حدتک زخمی
6۔ ہزاروں ورکرز جیل
7۔ درجنوں اہم ترین و بزرگ رہنما جیل
8۔ سینکڑوں گھروں پرریڈ اور توڑپھوڑ، ماوں بہنوں کی تزلیل
9۔ کاروبارجبری طورپر بند، مکانات و بلڈنگیں سیل
10۔ بینک اکاونٹ بند، پاسپورٹ بند، سفر پہ پابندی
11۔ بچوں کےاسکول بند، سہمے سہمے وحشت و دہشت کا شکار
12۔ گھروں کےبزرگ، مائیں بہنیں خوف و خدشات سے جان لیوا بیماریوں کا شکار۔
ہم سب مر بھی جائیں تو ہماری نسلیں یاد رکھینگی۔
My mother, @Aleema_KhanPK Aleema Khan’s 30-day detention period under the colonial-era Maintenance of Public Order (MPO) law has now expired.
Yet, despite the expiry of her 30-day detention period, we have received no further order from the Lahore High Court, nor any official communication from the Punjab Home Department or jail authorities explaining the legal basis for her continued detention or confirming her release.
On what legal grounds is she still being held? Why has she not been released?
Since the day she was abducted and subsequently detained under the MPO, she has been denied access to both her family and legal counsel. One of the strongest voices advocating for her brother, Imran Khan @ImranKhanPTI, has also been silenced.
Thirty days have passed. No family access. No legal access. No justice.
Are the authorities preparing to extend her detention for another 30 days? If so, on what grounds?
We demand her immediate release.
Not another day of silence, obstruction of justice, or denial of her most basic rights is acceptable.
#imrankhan
Lest we forget, Imran Khan continues to be held in a 6x8 prison cell for 3+ years now.
Most of us here wouldn't survive 3 months in a seven-star resort, disconnected and isolated from the world, family, and human contact. And yet, just because he is braving prison with grace, his suffering and pain have been normalized.
And those who raised their voices for his release, his sisters, and cousins have also been abducted and imprisoned.
Our future generations will look back in history and wonder in horror how any of this was even allowed.
It has been 30 days since my mother and my aunts, Dr. Uzma and Noreen Niazi, were unlawfully detained under the MPO. Throughout their detention at Kot Lakhpat Jail, they have been denied access to family and legal counsel.
No one, especially women, should be subjected to such treatment. With the detention order now ending, they must be released immediately.
🚨🇵🇰 Imran Khan’s sister, Aleem-a-Khan, got her 30-DAY PUBLIC ORDER DETENTION OVER, and the Pakistani government is not letting ANYONE see her
She was held under a colonial-era law for nothing more than speaking out.
Her family was locked out, with lawyers as well, and with no order and no explanation.
Immediate release is the only lawful step left!
@KhanShershah / Writer: Lucas
کیونکہ اکثر لوگوں کی یاداشت کمزور ہے تویاددہانی ضروری ہے۔ فوج اور ذہنی مریض کے مسلط ہونے سے پہلے عمران خان کی حکومت میں
پاکستان کا گروتھ ریٹ چھ فیصد تھا
پاکستان کی ایکسپورٹس میں نو ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا تھا
پاکستان میں ڈرون حملے ختم ہوچکے تھے
پاکستان میں دہشتگردی پچھلی چار حکومتوں میں سب سے کم تھی
پاکستان میں نئی یونیورسٹیز اور نئے ہسپتال بن رہے تھے
ایک قتل ایک اغواء پر ایک زیادتی پر کہرام مچ جاتا تھا
تین سال میں روزگار کے ساٹھ لاکھ مواقع پیدا ہوئے تھے
قبائلی علاقوں کو پختونخواہ میں ضم کیا گیا تھا
آزاد لوگ ججز لگائے جارہے تھے
تاحیات استثنی کی بجائے صحت قانون اور پولیس ایکٹ جیسے قانون بن رہے تھے
سڑکوں کی فی کلومیٹر لاگت کم ہوئی تھی
کرپشن پر اپنی پارٹی کے لوگوں کا احتساب ہورہا تھا
قومیں صرف اس وقت غریب نہیں ہوتیں جب ان کے خزانے خالی ہوں، بلکہ اس وقت بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جب ان کے باصلاحیت لوگ اپنا مستقبل کہیں اور تلاش کرنے لگیں۔
آئی ایم ایف کی تحقیق کے مطابق مشرقی یورپ سے نوجوانوں اور ہنرمندوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت نے معاشی ترقی کو سست کیا اور پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچایا۔
پاکستان کے لیے سوال صرف یہ نہیں کہ بیرونِ ملک جانے والے کتنے ڈالر بھیجیں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ ملک سے کتنی صلاحیت، جدت، قیادت اور مستقبل کی ترقی کے امکانات رخصت ہو رہے ہیں۔
ترسیلاتِ زر سے زرِمبادلہ تو واپس آ سکتا ہے، مگر قوم کا کھویا ہوا اعتماد واپس لانے کے لیے انصاف، میرٹ اور امید بحال کرنا پڑتی ہے۔/3
جب کسی ملک کے باصلاحیت لوگ اچھی ملازمتوں کے باوجود وطن چھوڑنے لگیں تو یہ محض ذہانت کا انخلا نہیں، بلکہ ملک کے مستقبل پر اعتماد کے فقدان کا اظہار ہے۔
پاکستانی صرف بہتر تنخواہوں کی تلاش میں ملک نہیں چھوڑ رہے۔ وہ عزتِ نفس، میرٹ، انصاف اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے خواہاں ہیں۔
المیہ یہ نہیں کہ لوگ وطن چھوڑ رہے ہیں، المیہ یہ ہے کہ وطن میں رہنے کی امید چھوڑ رہے ہیں۔ قوموں کا اصل زوال تب شروع ہوتا ہے جب ان کے باصلاحیت لوگ ملک چھوڑنے سے پہلے اس کے مستقبل پر یقین چھوڑ دیتے ہیں۔ /2
بریکنگ نیوز🚨
برطانوی صحافی یلدا حکیم نے عمران خان پر قیدِ تنہائی میں ہونے والے مظالم پر پورے دنیا کے سامنے آواز اٹھا دی۔
خان پر ہونے والے مظالم پاکستانی اسٹبلیشمنٹ کروا رہی ہے۔یہ اب انٹرنیشنل مسئلہ بن چکا ہے
ایک وزیراعلی ایک سپیکر اسمبلی پارٹی کا صوبائی صدر اغواء ہیں۔ ان کی حالت کسی کو معلوم نہیں۔ ان کی سیاسی جماعت انکے لیے پریس کانفرنس تک نہیں کرپائی۔ بلکہ بلاوجہ کی اندرونی لڑائیوں میں مصروف ہیں گویا سہیل آفریدی سے جان چھڑوا کر بہت اچھا ہوا۔
سوشل میڈیا ایسے موقعوں پر کمان سنبھال لیتا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ بھی سرٹیفکٹیس بانٹنے میں مصروف ہوگئے اور اصل موضوع بہت پیچھے رہ گیا۔
اسی کے ساتھ عمران خان قید تنہائی میں ہے۔ عمران خان کی اہلیہ اور بہنیں قید میں ہیں۔ یہ گویا اب نہ عمران خان کی جماعت کا مسئلہ رہا ہے نہ ہی اسکے سوشل میڈیا کا مسئلہ رہا ہے۔ افسوسناک ، افسوسناک۔
عمران خان کی حکومت اسلیے گرائی گئی تھی, کہ جرنل باجواہ اور PDM کا دعویٰ تھا, پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لیے ریجیم چینج کرنا پڑا!
اب آئیے آپکو بتاتے ہیں!!
عمران خان کا دورِ حکومت (2018 تا 2022)
عمران خان کے دور بندہ فیکٹریاں چل پڑی تھی,
اور صنعتی ترقی, مالیاتی سال 2021-22 کے اکنامک سروے کے مطابق، ان کے آخری سال میں صنعتی شعبے نے 7.19% کی مضبوط شرحِ نمو ریکارڈ کی۔
تعمیراتی پیکیج اور مراعات کی وجہ سے ٹیکسٹائل یعنی کپڑا، سیمنٹ اور آٹوموبائل یعنی گاڑیوں کی صنعتوں میں ریکارڈ پیداوار ہوئی اور ٹیکسٹائل فیکٹریاں اپنی پوری صلاحیت پر چل رہی تھیں۔!!
جبکہ 2022 سے 26 کا دور 78 سال کا بدترین دور ہے, جس میں پاکستان پر اتنا قرضہ چھڑا دیا گیا ہے جو قرضہ پچھلے 78 سال میں نہیں چھڑا,
78 سال میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی جتنی مہنگائی ان 4 سالوں میں ہوئی, فیکٹریاں مکمل بند ہوچکی ہے, ڈالر 150 سے 280 تک پہنچ گیا ہے, اور اب مصنوعی طور پر اس کو روکا ہے جو کہ 400 بھی کراس کر سکتا ہے مطلب 78 سال میں 150 روپے کا ایک ڈالر تھا اور ان چار سالوں میں پورے 400 تک پہنچ گیا ہے یہ تو مصنوعی طور پر روکے رکھا ہے اس سے حساب لگا لے مہنگائی اسی حساب سے بڑھی ہے اس سے زیادہ بڑی ہے بلکہ پیٹرول کا اپ حساب لگا لیں 150 سے 400 تک پہنچ گیا ہے جو کہ 78 سال میں 150 تک پہنچ گیا تھا گھی چینی چکن انڈے ایک ایک چیز اپ دیکھ لیں 78 سال میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی جو ان چار سالوں میں ہوئی ہے!!
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
اس نام نہاد ریاست نے ابوبکر کے خاندان کے بہت سے قرضے واپس واپس کرنے ہیں۔ ابوبکر کے بھائی ، بہنوئی اور رشتہ دار کشمیر میں شہید ہوئے۔ اب اسی ابوبکر کا خاندان اذیت میں ہے۔
میں ابوبکر کو خراج تحسین بھی پیش نہیں کرسکتا کہ میں اسکی جگہ ہوتا تو خاموش ہوجاتا۔ابوبکر کا یہ عزم ظالم کو لے ڈوبے گا۔
#ReleaseImranKhan
“عمران خان کو عوام کی نظروں سے اوجھل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ ملک کے مقبول ترین رہنما ہیں۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادوں سلیمان خان اور قاسم خان نے برطانوی اخبار دی گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے والد کی قید اور انہیں سیاسی منظرنامے سے ہٹانے کی کوششوں پر بات کی۔
عمران خان کو پابندِ سلاسل ہوئے تین سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، جبکہ انہیں مجموعی طور پر 30 سال سے زیادہ قید کی سزاؤں کا سامنا ہے۔
https://t.co/1XB2EUs4T8…
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
Interviewer: Your dad was given a 31-year sentence. He turned 74 last week. When do you think you'll be able to next see him? And do you think it'll be in prison or outside?
Kasim Khan: Our hope of him being released is dwindling.
Deep down we all feel the same, Kasim💔
پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کا آج یومِ شہادت ہے۔ قائداعظم سے جان چھڑوانے کے بعد یہ جرنیلی ٹولہ اقتدار پر مکمل اختیار چاہتا تھا۔ لیاقت علی خان کا قاتل سید اکبر ایک فوجی سپاہی تھا، جسے انکوائری اور گرفتاری میں لینے کی بجائے گولی مار دی گئی۔ اس کے خاندان کی اسی دن فوج سے پنشن لگ گئی۔ اس کی بیوی، جس کا انتقال چند سال پہلے ہوا، کو فوج نے گھر بھی دیا، اور آج بھی اس کی اولاد اس پنشن کے مزے لے رہی ہے اور امریکہ میں مقیم ہے۔
ہماری مادرِ ملت، جنہوں نے جمہوریت کا علم بلند کیا اور متحرک ہو گئیں، ان کے مقابلے پر آمر ایوب خان کی رعونت اور جسارت تو دیکھیے کہ اُس نے فاطمہ جناح کو غدار اور انڈین ایجنٹ قرار دے دیا۔ ایوب خان دھاندلی کرکے ان سے الیکشن جیت گیا، لیکن پھر بھی جرنیلی رعونت ختم نہ ہوئی۔ فاطمہ جناح کو زندگی ہی میں رسوا کرنا شروع کر دیا گیا، ان کے اوپر پانی چوری جیسے مقدمے بنائے گئے۔ تب بھی بدلے کی آگ ختم نہ ہوئی تو اس جرنیلی ٹولے نے مادرِ ملت فاطمہ جناح کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پڑھیں تو آپ کا دل لرز اٹھے گا۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً میرے نوجوانو! میں آپ کو دہائیوں سے ان کے کردار اور ان کی حرکتوں کی طرف متوجہ کرتا آ رہا ہوں۔ خوشی ہے کہ ان کا یہ کردار عمران خان کے تسلسل سے آپ تک پہنچا۔ ان کے منہ کو آپ کا خون لگ چکا ہے۔
عاصم منیر کی رعونت اور فرعونیت کا بھی وہی عالم ہے۔ انہوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی تذلیل سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔
“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔
تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا!
جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!
یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے!
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں!
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!”
- پاکستان کے کپتان، حقیقی وزیراعظم عمران خان
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
#حق_كى_جيت_ہو_گى
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
تحریک انصاف سے منسلک تین لوگ یوٹیوب پر تواتر سے ولاگ کرتے ہیں۔ شہباز گل نے دسمبر 2023 ، شہزاد اکبر نے جولائی 2023 اور قاسم سوری نے جنوری 2026 میں ولاگز شروع کیے۔ ان تینوں کے یوٹیوب شروع کرنے سے پہلے رجیم چینج ہوا۔ پنجاب حکومت ناجائز گرائی گئی۔ عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ ارشد شریف کی شہادت ہوئی۔ ریٹائر ہوجانے والے جرنیل کو آرمی چیف لگا دیا گیا۔ الیکشن ملتوی کردیے گئے۔ آرمی چیف کا سالا وزیر اعلی پنجاب لگا گیا۔
زمان پارک پر حملے ہوئے۔ ظل شاہ کی شہادت ہوئی۔ عمران خان پر گندے غلیظ کیسز بنا کر ان کا میڈیا ٹرائل شروع کردیا گیا۔ عمران خان کو احاطہ عدالت سے اغواء کیا گیا ، تحریک انصاف پر ریڈ لائن لگا دی گئی۔ گھروں میں گھس گھس کر بیڈرومز میں جا جا کر رہنماؤں سے پارٹی چھڑوائی گئی۔ انکی ننگی ویڈیوز لیک کی گئیں۔ ہزاروں لوگوں پر مقدمات بنائے گئے۔ یعنی تحریک انصاف کے لوگوں کے ولاگز شروع کرنے سے پہلے فوج یہ کرچکی تھی ۔
تحریک انصاف کو غدار تو فوج نے قرار دیا۔ تحریک انصاف کو توڑے کی کوشش تو فوج نے کی۔ تحریک انصاف پر گند تو چالیس نیوز چینلز اور دو سو صحافی پھینکتے رہے۔ یعنی آپ فوج کو کلین چٹ دے کر سارا ملبہ تحریک انصاف پر ڈال رہے ہیں؟ شہباز گل پر تشدد ہوا۔ شہزاد اکبر پر برطانیہ میں دو حملے ہوئے۔ قاسم سوری دربدر اوبر چلاتا رہا۔ آپ انہی کو ظالم قرار دے رہے ہیں؟
شہباز گل پر سب سے زیادہ تنقید کس نے؟ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے۔ عادل راجہ پر سب سے زیادہ تنقید کس نے کی؟ تحریک انصاف نے۔ تھوڑی سی گنجائش ملی نہیں اور شروع ہوگئے کہ عمران خان کو اور تحریک انصاف کو سارا نقصان پہنچایا ہی باہر بیٹھے یوٹیوبرز نے ہے۔ حیا کو ہاتھ ماریں۔