جیسے ہی عمران خان روس پہنچے بریگیڈئیر شفیق عرف گنجے شیطان نے صحافیوں کو کال کرکے عمران خان کے دورہ روس کی مذمت کرنے کا کہا ، مرزا شہزاد اکبر
کس کس تبصرہ پاڑ نے عمران خان کے دورہ روس کی مذمت کی تھی؟
میری بہنوں سے کہو ۔۔.
میری بہنوں سے کہو ۔۔..
میریُ بہنوں سے کہو ۔۔.
میریُ بہنوں سے کہو...
میرے لئیے آواز اٹھائیں 💔
اب بہنیں نہیں ہیں تو خان کے لئیے آواز آپ اٹھائیں
وزیر اعظم عمران خان کے سامنے آرمی چیف اور ان کی ٹیم طالبان کی آبادکاری کا پلان لے کر آئے تو ان کی شرائط میں فاٹا مرجر کی واپسی کے ساتھ ساتھ یہ توہین آمیز شرط بھی شامل تھی کہ ریاست ان کے لیے مکانات تعمیر کرے گی اور یا تو ان کو سیکیوریٹی فراہم کی جائیگی یا ان کو اسلحہ سمیت آنے دیا جائیگا۔ میں نے سوال پوچھا کہ اول تو اس آبادکاری کا اُن ۷۰۰۰ سیکیوریٹی فورسز کے شہدا کے لواحقین کو کیا جو��ز فراہم کیا جائیگا جن کے عیال کے سروں سے فٹ بال کھیلے گئے، جن کے گلے کاٹے گئے؟ اے پی ایس کے معصوم بچوں کے لواحقین کو کیا جواب دیں گے جنہیں بے دردی سے شہید کیا گیا؟ اُن کے ٹیکس کے پیسوں سے آپ اب اُن کے قاتلوں کی آبادکاری کریں گے؟ جن کے گھروں کو آپ نے باقاعدہ مسجدوں میں یہ اعلانات کر کرکے مسمار کیا کہ یہ وطن دشمن اور قوم کے بیٹوں کے قاتل ہیں ان کے گھر آپ کس منہ سے خود تعمیر کریں گے؟ آرمی چیف اور اُن کی ٹیم کے پاس لفظوں میں ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا مگر اُن کی شکست خوردہ باڈی لینگیوج اُن کا وہ جواب تھا جس سے میں نے بہت عرصہ نظریں کترائیں۔ میرے ملک کی فوج کے سربراہ ایک ملیشیا کے ہاتھوں اتنے بے بس تھے یا ہمیشہ کی طرح ڈالری جنگ کی خواہش کے نشے میں اتنے مست تھے کہ اپنے جوانوں کے سر کاٹنے والوں کو ناصرف بنا کسی اکاونٹبلٹی واپسی کا راستہ دینے کی منصوبہ بندی کررہے تھے بلکہ ان کی لاشوں پر ان قاتلوں کے مسکن تعمیر ک��رہے تھے۔
میرے حوالے سے ان کے اقدامات نئے نہیں۔ گذشتہ کئی سالوں میں میرے خاندان دوستوں اور ساتھیوں کو اغوا، لاپتہ، تشدد کرنے سے گرفتار کرنے، گھر توڑنے کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں۔ کل رات ان جرنیلوں کے مسلط کردہ ٹٹو کا بیان سُنا کے ایک ”مفرور” کے گھر کی خواتین سے دست درازی کرنا جائز ہے۔ میں اس تفصیل میں تو جاتا ہی نہیں کہ اِس ”مفرور“ کا اصل جرم کیا ہے مگر کل پہلی مرتبہ اپنی قوم کی زندگیوں کا سوال کرنے والوں سے ”آہنی ہاتھوں سے نبٹنے والی“ فوج کے آرمی چیف اور ان کی ٹیم کا شکست خوردہ انداز یاد کرکے ہنسی آئی۔ سیاسی مخالفین کے گھر توڑنے والوں، نہتی عورتوں پر ہاتھ ڈالنے والوں کا سامنا بندوقوں والوں سے ہوتا ہے تو اپنے اُن جوانوں کے خون کا بھی سودا کر آتے ہیں جن کی قربانیاں قوم کو ازبر کرا کرا کر اپنے ناجائز قبضے کا جواز ڈھونڈت�� ہیں۔ خُدا کسی کو بے غیرت دشمن نہ دے۔
عظمٰی خان کا شوہر 🚨
ہمیں ریلیف نہیں مل رہی, اب بتاؤ ہم کیا کریں؟ میں تو پوری عوام سے پوچھتا ہوں, جو بھی یہ دیکھے, کہ اب اپ, آپ بتاؤ ہم کیا کریں
ستر سال کی عورتوں کو پکڑ کے جیل میں ڈال دیا، اس سے بڑی کیا ناانصافی ہوگی؟
#شوکت_خانم_کی_شیر_اولاد
عمران خان پر جیل میں جسمانی تشدد کی تصدیق اپوزیشن لیڈر کررہا ہے۔ اگر اس سب کے باوجود تحریک انصاف اسمبلیوں میں بیٹھی رہتی ہے تو پھر بیرسٹر گوہر ، سلمان اکرم راجہ ، محمود اچکزئی سمیت اسمبلیوں میں بیٹھے تین سو لوگ عمران خان کے قتل کے سہولتکار ہوں گے۔
🚨🚨🚨 بریکنگ نیوز
مجھے خبر ملی ہے کہ جیل میں عمران خان پر جسمانی تشدد ہوا ہے
(محمود خان اچ��زئی کا انکشاف)
باہر گوہری اور قیصری ٹولہ کمیٹی کمیٹی اسمبلی اسمبلی اور عسکری وزیر اعلی بنانے میں مصروف ہے
Imran Khan’s family is in Jail only because they have refused to bow to Dictator Asim Munir!
Everyone knows that there is no legit case against them.
#شوکت_خانم_کی_شیر_اولاد
میں نے عمران خان صاحب سے بہت ساری باتیں سیکھیں - ایک بات جس پر ارشد شریف شہید اور عمران خان صاحب دونوں یقین رکھتے ہیں وہ ہے کہ اگر آپ ��چے ہیں تو اپنا پورا سچ سب کے سامنے رکھیں۔اور اس چیز سے مت گھبرائیں کہ اپنے اور پرائے کیا کہتے ہیں۔ پوری دنیا بھی دشمن ہو جائے سچ کو مت چھوڑیں۔ دونوں کو بولنے سے بند کروانے کی پوری کوشش کی گئی۔ ایک نے جان دیدی۔ دوسرا مشکل ترین جیل قید وبند کاٹ رہے ہیں۔ لیکن سچ سے پیچھے نہیں ہٹے۔
ہم شائید عمران خان اور ارشد شریف تو نہیں بن سکتے۔ لیکن سیکھ تو سکتے ہیں۔ اپنے جیسی کوشش تو کر سکتے ہیں۔
اندر کے شیطان کو اگر نہیں پہچانوں گے تو باہر کے شیطان سے نہیں لڑ سکو گے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمران خان کی ہسپتال منتقلی نہیں کیسسز کی سنوائی نہیں، ملاقاتیں بند،گزشتہ دو ہفتوں سے وزیراعلی اغوا، سپیکر لاپتہ، صوبائی صدر، وزراء، اراکین اسمبلی لاپتہ۔ سینکڑوں کارکنان (یوتھ، آئی ایس ایف سے لے کر ویلیج کونسل لیول تک) لاپتہ، پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں سے لے کر کارکنان و قیادت کے گھروں، ہجروں تک توڑے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مورچوں تک پیش قدمی کرتے ہوئے عوام کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مارکیٹوں بازاروں سے رکشوں، اور رکشوں سے ہوتا ہوا ریڑھی بانوں تک جا پہنچا ہے۔
ماضی میں جب ہم ”جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں“ کا زکر کرتے تھے تب ڈی جے آئی ایس پی آر فرماتے تھے کہ کیا پختونخواہ کو معدنیات جہیز میں ملے تھے؟ اب قبضہ مافیہ معدنیات نکالنے اور صوبہ لوٹنے کے خفیہ منصوبوں کا کھلے عام اظہار کررہا ہے۔ اپنی ایس آئی ایف سی کی ناکامی کے بعد اب پختونخواہ کے وسائل کو جہیز سمجھ کر جھولیاں بھری جارہی ہیں۔ جہاں بریف کیس بھر کر معدنیات آفر ہوئی تھیں ان کی کمپنیز بلوانے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی کمپنیز بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
پی ٹی آئی کو کچلنے کے ساتھ عوام کے مسترد کردہ سیاسی یتیموں کو کونسل کے نام پر اختیارات دے کر اگلے الیکشن کے لیے تیاری کی امیدیں دلائ جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انگریز دور کے مَلک نظام کے ریوائیل اور آج کی نسل کو کالے قوانین کے ماتحت کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کہ جس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی لگائ، گورنر راج لگایا گیا آج اسی ایمرجنسی کے تحت بنائ، فوج کی خاص الخاص کونسل کا سربراہ فرما رہا ہے کہ ”فتنتہ الہندوستان۔ فتنتہ الخوارج“ محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے بعد افغانستان بھیجے گئے جس وفد کے متعلق ہم سوال کر رہے تھے کہ عوامی نمائندے تو ہم ہیں تو بات چیت کے لیے بھیجا کس کو، شرائط کیا طے ہوئیں اور کس اتھارٹی کی بنیاد پر ہوئیں تو وہ انکشاف بھی بلآخر ہوگیا کہ فوج کے لوگ تھے۔
فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرکے ”فتنتہ ال ہندوستان و خوارج“ کی آبادکاری کے وقت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ انہی کے لائے ہوں کا تھا۔ ڈھٹا��ی و بے شرمی سے پختونخواہ کو بھی بلوچستان بنایا جارہا ہے اور نام نہاد میڈیا ڈھول بجا رہا ہے۔
ہمارے لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جس پیمانے پر آپ کا نام مٹانے کی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کو واپس آنے دیا جائے گا؟ حکومت بحال ہوگی؟ نہیں
آپ کو جس بحث میں الجھایا گیا ہے یا جس میں ��پ الجھ گئے ہیں یہ آپشن ٹو ہے۔ یعنی جیسے آپ نے اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا تھا ویسا اگر ابھی بھی کر سکے تو زیر بحث پلان لاگو ہوگا ورنہ کوئی واپسی نہیں۔ ایک بار انہیں آپ کی جانب سے یہ اطمینان ہوجائے تو اگلا اقدام ہمیں، آپ کو اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑ کر پارٹی پر پابندی لگانے کا ہے۔ آپ خود کو مزید کسی مغالطے میں رکھنا چاہتے ہیں، آپ کی مرضی ہے لیکن وہ اپنے اہداف میں کلئیر ہیں۔ عمران خان کو جیل رکھنا اور ان کی جماعت کو کرش کرنا اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی سے اپنی طاقت کو دوام دیتے چلے جانا چاہے۔ اس کے بدلے پورا ملک برباد ہو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ کلئیر ہیں، ہم کتنے کلئیر ہیں؟
میرا کام ایک مخلص دوست کی طرح آپ کو بروقت آگاہ کرنا تھا، جیسے پہلے بھی کیا تھا، بارہا کیا تھا۔ آج بھی کردیا۔
یہ عمران خان کو قتل کرنا چاہتے ہیں کل ہی قاسم خان نے ماریو نوفال کے انٹرویو میں کہا تھا یہ عمران خان کو مرسی بنانا چاہتے ہیں
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت عمران خان کی زندگی کے بارے ہمیں شدید تشویش لاحق ہے No body Knows کہ انہوں نے عمران خان کے ساتھ کیا کر دیا ہے
میرا یقین ہے۔ عمران خان کو دھمکیاں دی گئی ہیں، انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے، اور جیل میں ان پر جسمانی تشدد بھی کیا گیا ہے۔
اور شاید یہ اس لیے ڈر رہے ہیں کہ اگر ملاقات ہوئی تو وہ آدمی بتا دے گا۔
محمود خان اچکزئی
یہ عمران خان کو قتل کرنے جا رہے ہیں۔ ہم اس وقت عمران خان کو ان کی جانب سے قتل کرنے کی کوششوں کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا امکان تھا، تب ہمار�� پاس اطلاعات تھیں کہ یہ اس احتجاج کو عمران خان کو قتل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ بالکل واضح ہے کہ عاصم منیر اب عمران خان کو مردہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ قاسم خان
#pakistan @Kasim_Khan_1999
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
اس شرابی کے جیل میں ہاتھ کانپتے تھے۔ یہ مجھے میاں اسلم اقبال صاحب کے ساتھ ملنے آیا۔ میں نے اسکو کہا مجھ پر تشدد کا میڈیکل کرواؤ۔ کیونکہ یہ اس وقت پنجاب کا وزیر داخلہ تھا۔ یہ الٹا مجھے قائل کرتا تھا کہ نہیں فوج ب��ی ظالم ہے میڈیکل مت کرواؤ وہ تمہیں پھر کبھی رہا نہیں کریں گے۔ جیل میں میں تھا۔ پٹھی ہوئی اس کی تھی۔ میاں اسلم نے مجھے سرگوشی کی کہ گل صاحب اور زور نہ دیں۔ اسے ہارٹ اٹیک ہو جائے گا۔
شرابی بندے کا کیا حلف۔ کچھ بھی اٹھا لو گے۔ لیکن پھر وقت سے ثابت کیا تم لوٹے تھے اور ساری عمر لوٹے رہو گے۔