صحافی آغا شیخ سرور مسلسل ٹویٹ کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی راہنما صنم جاوید خان کو شدید ترین علالت کے باعث جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کی غرض سے نکالا گیا اور ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا ۔ ان کے گھر والوں کو بھی اس سے ملنے نہیں دے رہے
سب سے گزارش ہے کہ آواز اٹھائیں
زیارت کے 50 شہداء کے لیے کسی ایک وفاقی وزیر، کسی ایک صوبائی وزیر، یا کسی ایک درباری مولوی کی ایسی پریس کانفرنس دکھا دیں جس میں انہوں نے ان شہداء کے لیے آنسو بہائے ہوں۔۔۔۔!!
حافظ حمداللہ
کوئی محترمہ کو بھیجو بل اور کہو یہ لو جھوٹو اپنا ووٹ
آٹے کی تھیلی بھیجو
کنستر رکھو جاتی امرا کے سامنے
اور کہو یہ لو جھوٹو اپنا ووٹ
کتنے بے شرم حکمران ہیں یہ
محترمہ فاطمہ جناح نے جب فیلڈ مارشل ڈکٹیٹر فوجی آمر کے خلاف الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو کیا وہ موروثی سیاست تھی؟
اور ان کی مخالفت کرنے والی وہی ملٹری اسٹبلشمنٹ تھی جنہوں نے ان کو غدار تک کہہ ڈالا
یہ جو اسٹبلشمنٹ ہے جس کو اپنے حلف کے مطابق سیاست نہیں کرنی چاہیے وہ تو سیاست کر سکتے ہیں لیکن ایک جیل میں قید سابق وزیراعظم کی بہن سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلتی ہے تو وہ موروثی سیاست ہو جاتی ہے
مطیع اللہ جان
”علیمہ خانم نہ تحریک انصاف کی چیئرمین بنی ہیں اور نہ وہ وزارت اعظمی کی امیدوار ہیں۔ وہ پارٹی میں کسی جانشینی کی دعویدار نہیں ہیں بلکہ صرف اپنے بھائی عمران خان کی رہائی کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ علیمہ خانم کا عمران خان کے جائز حقوق کیلئے آواز اٹھانا، ہرگز موروثی سیاست نہیں کہا جا سکتا۔“ علینہ شگری
@alinashigri