برطانیہ میں بہت پاکستانی منشیات فروش ہیں اور اچھا ہوا اس گینگ کو سو سال سزا ہوئی باقی یورپ میں بھی کافی پاکستانی منشیات فروش ہیں یہ جو بیرون ملک سے پاکستان جا کر اربوں کی جائدادیں اور عیاشی کرتے اکثریت ناجائز فروشی کرتے ہیں
ایک اور کریکٹر ڈنمارک کا آجکل پاکستان میں بڑے فوجی افسران سے تعلقات بناتا پھر فوٹو کھنچواتا ہے وہ ڈنمارک میں قتل کے کیس میں جیل کاٹ چکا ہے پھر علیمہ باجی کے ساتھ چندہ مانگتا رہا آجکل فوج کا لاڈلا بنا ہوا روز کسی افسر کے ساتھ فوٹو لگاتا پھر ڈنمارک میں اسے دیکھا کر لوگوں کو لوٹتا ہے
اس کی تفصیلات بھی لکھوں گا
آج باکو میں منعقدہ سیکا (CICA) سربراہی اجلاس کے دوران اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے خطاب کرنا شروع کیا تو ترکیہ، ایران، کویت، پاکستان اور فلسطینی اتھارٹی کے وفود اجلاس سے باہر چلے گئے۔
ازربائیجان کی طالبہ کا حجاب کے حق پر جذباتی خطاب۔
سکول سے حجاب پر نکالے جانے پر طالبہ کہہ رہی ہے کہ کیا میں نے کبھی پڑھائی میں کوتاہی کی کبھی نمبر کم لیے کبھی اور کمی دکھائی تو پھر ہمیں کیوں نکالا جا رہا ہے۔۔
محمد مالک نے اپنی پوری صحافتی زندگی میں پہلی مرتبہ سچ بولا اور شفیع جان کو ننگا کر دیا تھا 🦾👏🏻🔥✅
محمد مالک: میں کہتا ہوں TTP دہشتگرد ہے آپ بھی کہیں 🤷🏻♂️
شفیع جان: میں نہیں کہوں گا کیونکہ TTP دہشتگرد نہیں ہے ❌😡🖐🏿
بلکل درست فیصلہ دیر آۓ درست آۓ ایک بھی غیر قانونی افغانی پاکستان میں نظر نہ آۓ اس میں عوام کو بھی تعاون کرنا ہوگا گا خصوصاً خیبرپختونخوا کے عوام کو تب ہی ہم دھشتگردی سے چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں ۔۔۔۔
پی ٹی آئی حکومت جاتے ہی بڑے بڑے انکشافات سامنے آرہے ہیں ۔ ہرمیت سنگھ کا لگژری دفتر بھی بند ہوگیا ہے ۔ اب ثمر ہارون بلور نے اعلان کیا ہے کہ بجٹ کا آڈٹ ہوگا ۔ بتایا جارہا ہے ہرمیت سنگھ نے پی ٹی آئی حکومت سے کروڑوں روپے لئے ۔
میر صاحب آپ ہمیشہ حقائق کو جانے بغیر صرف مقبول بیانیہ پر صحافت کیوں کرتے ہیں؟
یہ پی ٹی آئی کا احتجاج نہیں بلکہ افریدیوں کے آٹھ میں سے ایک قوم شلوبر (لر قمبر خیل) کا حسب روایت اپنے بندے سہیل آفریدی کے لئے احتجاج ھے۔
یہاں تو ایک قوم (سپاہ) اپنے بندے منگل باغ کے ساتھ بھی کھڑی تھی
یہ ہے تو بہت Cute ریسکیو لیکن والدین کو بہت احتیاط کرنی چاہیے
سکول واپسی سے 2 بچے دوست پانی کے چھوٹے تالاب میں کھیلنے لگ گئے اور ایک تالاب میں پھنس گیا دوسرے نے سڑک پر کھڑے ہو کر مدد مانگی 👇👇
پشاور میں محکمہ معدنیات کی اراضی کا کرایہ سرکاری طور پر 10 ہزار روپے فی ایکڑ مقرر تھا مگر سہیل آفریدی حکومت صرف 200 روپے فی ایکڑ وصول کرتی رہی ،
آخر معدنیات کے ٹھیکے کوڑیوں کے بھاؤ کیوں دئیے گئے خزانے کو اتنا بھاری نقصان کیوں پہنچایا گیا؟
اس کے لیے پس منظر جاننا ضروری ہے
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں معدنیات کے تقریباً 4,917 لائسنس جاری کئیے جبکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت سے قبل معدنیات کے صرف 482 لائنسس تھے سال 2024 میں 3962 لائنسس /ٹھیکے جاری کئیے جو علیمہ خان فیملی /گنڈاپور کے فرنٹ مینز/ سہیل آفریدی کے فرنٹ مین ہادی پتنگ کو کوڑیوں کے بھاؤ دئیے گئے
اور پھر کئ سو ٹھیکے دہشتگردوں کو بھی بیچے گئے، علیمہ اور اس کا بیٹا یہ معاملات دیکھتے رہے
چونکہ تمام لیز ہولڈرز کا تعلق پی ٹی آئی کے کسی نہ کسی رہنما سے تھا اس لیے کوئلہ، باکسائیٹ، لائم اسٹون اور سوپ اسٹون کانوں کے لیز ہولڈرز سے81 کروڑ روپے کے بقایاجات وصول نہیں کئیے گئے
کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی، ہری پور اور دیگر علاقوں میں سمال ڈیمز کے لیے مائننگ واجبات وصول نہیں کئیے گئے جس سے 53 کروڑ روپے کا نقصان ریکارڈ ہوا
عدالتی حکم کے باوجود کئ جگہوں پر غیر قانونی کان کنی جاری رہی 8 ارب روپے کی معدنیات نکالی گئ مگر خزانے کو ایک روپیہ نہیں ملا، نادہندہ ٹھیکہ داروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے کی رقم وصولی نہیں کی گئ
خیبرپختونخوا کے معدنی وسائل عوامی ملکیت تھی پی ٹی آئی نے اسے اپنی ملکیت سمجھ کر ریوڑیوں کی طرح بانٹا جس کا احتساب ضروری ہے
#خیبرپختونخواہ_بدل_رہا_ہے
#RisingKPwithARDC
@FarhanKVirk اگر دہشت گردوں کو پکڑا ہے تو ان کی تصاویر دکھانے میں کیا پریشانی ہے۔
خاص کر کے وہ دہشت گرد جو پاکستانی بھی نہیں افغان نیشنلٹی ہولڈر ہیں۔
بغیر تصویر کے اگر کوئی ویڈیو ائے گی تو لوگ اس پر سوال اٹھائیں گے۔
ویسے بھی ان دہشت گردوں کو سب کے سامنے نمایاں کر کے دکھانا چاہیے پتہ چلے
@FarhanKVirk ان سب حرام خوروں کو ہٹلر کے فارمولے کے تحت قتل کر دیا جائے۔
یہ واپس دفع ھو بھی گئے تو پھر واپس آئیں گے۔ ایسے حرامیوں کی نہ افغانستان میں ضرورت ہے اور نہی ہمیں۔
آج باڑہ میں تحریک انصاف کے نام پر ریسکیو 1122 اور نادرا کے دفاتر کو آگ لگانے والے 50 لوگ افغانی شہری نکلے۔
ان میں ایک بھی مقامی نہیں تھا۔
یہ افغانی شہری باڑہ اسلئے رہتے ہیں تاکہ چرس، سمگلنگ اور منشیات آرام سے خفیہ دروں سے افغانستان لیکر جائیں۔
سب سے زیادہ تکلیف انکو ہے۔
دنیا بھر میں ریاستیں اپنے اہلکاروں کو تحفظ دیتی ہیں اور ہماری ریاست ہے جو اہلکاروں کے ہاتھ باندھ کر ان پر کتے بلے چھوڑے ہوئے ہیں ان انتشاریوں کے ہاتھ توڑ دو جنھوں نے وردی پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔تاکہ باقیوں کو بھی پتہ چل جائے صرف شہریوں کی نہیں اہلکاروں کی بھی اتنی ہی عزت ہے
@GFarooqi میری گزارش ھوگی کہ محکمہ جنگلات کے کھاتے بھی کھولے جائیں شمالی علاقوں میں جنگلات کی بے دریغ کٹائیوں کی بھی انکوائری کروائی جائے اور سب ڈکیتوں کو سزا دی جائے
خیبرپختونخوا کی 14سالہ حکومت کی کرپشن کھلنے لگی ‼️
سب سے پہلے معدنیات mines and minerals کا کھاتہ دیکھ لیں ۔۔۔ ‼️
خیبرپختونخوا میں صرف ایک سال میں محکمہ معدنیات میں 16 ارب 94 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف
2022 اور 2023 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق غیر قانونی کان کنی سے صوبے کو 8 ارب روپے نقصان پہنچانے کیساتھ ساتھ نادہندہ ٹھیکہ داروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے وصول نہ کئے جا سکے۔
غیر قانونی مائننگ اور بقایاجات کی عدم وصولی سے صوبائی خزانے کو 3 ارب 8 کروڑ روپے اورمختلف اضلاع میں چیک پوسٹوں اور انسپکٹرز کے باوجود غیر قانونی مائننگ جاری رہنے سے 1 ارب 83 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
کوئلہ، باکسائیٹ، لائم اسٹون اور سوپ اسٹون کانوں کے لیز ہولڈرز سے بقایاجات کی عدم وصولی پر 81 کروڑ روپے، جائنٹ وینچر کے دوران ایڈوانس خالص منافع جمع نہ کرانے پر 58 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
پشاور میں محکمے کی اراضی کا کرایہ 10 ہزار روپے فی ایکڑ کے بجائے صرف 200 روپے وصول کیا گیا، جس سے 14 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی، ہری پور اور دیگر مقامات پر سمال ڈیم کے لیے مائننگ واجبات کی عدم وصولی سے 53 کروڑ روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
پشاور، کوہاٹ اور ڈی آئی خان میں معدنیات کے باقاعدہ ٹھیکہ نہ دینے سے 25 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جبکہ مردان میں رائلٹی کے بقایاجات کی عدم وصولی سے 6 کروڑ 36 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔
مکمل آڈٹ رپورٹ بھی میرے پاس موجود ہے جس کی تفصیل یہاں بھی مہیا کروں گی اور مزید گھپلے، پروگرام میں بھی آشکار کروں گی ۔۔۔
لوٹ مار کا ماہر ھی لوٹ مار کرسکتا ھے
70 ہزار ڈالر قیمت والی چلتی بسیں فی بس 7 لاکھ روپے کی عمران خان نے بیچ دیں اور یہ ساری بسیں حماد اظہر نے خریدیں تھی
عمران خان بے شرم آدمی یہ تمھارے باپ کا پیسہ تھا
لادین اور شرابی خود پسند‼️‼️
🔺دنیا میں ہر دور میں چند آستین کے سانپ رہے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اس ملک یا ادارے کو کاٹا جس نے انہیں عزت اور عہدہ بخشا۔ طارق خان بھی انہی آستین کے سانپوں میں آتا ہے۔
🔺جناب کی پیدائش نواب آف ٹانک کے گھر ہوئی، پھر یہ فوج میں آئے۔ فوج میں مشہور تھا کہ جب کوئی مہمان ان کے گھر جاتا تو یہ چائے کی بجائے اسے شراب پیش کرتے اور اگر کوئی لینے سے انکار کرتا تو یہ اسے مولوی کہہ کر ڈانٹتے۔
🔺یہ خود بھی لادین ہے اور اس کا خاندان بھی۔ اس کی ایک بیٹی نے امریکی فوج کے ایک عیسائی نائیک سے شادی کی ہوئی ہے جبکہ اس کی فرسٹ کزن ادکارہ مرینہ خان بھی ایک عیسائی کی فخریہ بیوی ہے۔
🔺موصوف نے ڈی آئی خان میں اپنے گھر کے اردگرد تمام روڈ ایسے بند کیں جیسے آج بھی نواب ہوں، وہ تو بعد میں حکومت و عدالت نے ان کو یاد کروایا کہ جہاں پناہ تسی کنگلے تواڈے باپ دادا دے بنگلے۔
🔺موصوف کی ایک اور وجہ شہرت یہ ہے کہ یہ پراجیکٹ عمران کے بانی ممبران میں سے تھے۔ جب نچن یاہو نامی بیماری اس ملک کو کھوکلا کر رہی تھی تب طارق خان جیسے وزیر اعظم ہاؤس کی لابی میں جام کھڑکاتے گولڈ سمتھ سے داد لیا کرتے تھے۔
🔺نیازی کو جب عدم اعتماد میں اتارا گیا تو اس نے سائفر ڈرامہ رچایا۔ اس ڈرامے پر قانونی مہر لگانے کے لیے اس نے لیٹر گیٹ کمیشن بنایا جس کا سربراہ یہی طارق خان تھا۔ جب نیازی کی حکومت کا جانا سو فیصد یقینی ہوا تو موصوف نے نہایت چالاکی سے بطور سربراہ اس کمیشن سے انکار کردیا۔
🔺آجکل ان کا شوق ہے کہ اکثر کسی نہ کسی معید پیرزادہ ٹائپ حرامزادہ کے ساتھ بیٹھ کر مفت کے گیان بانٹتے ہیں۔ کبھی یہ نیوکلیر پر ماسٹر بنتے ہیں تو کبھی فوج کے بے محکمہ مشیر۔
🔺حالانکہ جب یہ فوجی سروس میں تھے اس وقت مشرف کا مارشل لاء لگا، روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کے مین شہروں میں دھماکے ہوا کرتے تھے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی محفوظ نہ تھے، ملک کی معیشت امریکی کولیشن فنڈ کے مرہون منت تھی، بلیک واٹر ملک میں دندناتے پھرتے تھے لیکن اس وقت یہ بڑی پر امیدی سے بات کرتے تھے۔
اب جبکہ ملک میں معیشت اپنے پیروں پر ہے، امریکہ کی دراندازی ختم ہو چکی، پاکستان اپنے فیصلوں میں خودمختار ہے، معرکہ حق میں بھارت کو دھول چٹا کر زلیل کیا جا چکا، دنیا پاکستان اور اس کے فیلڈ مارشل کی معترف اار خیبر پختونخواہ میں بہتری کا دور شروع ہے تو ان کو درد اٹھ رہے ہیں۔
اس کو اٹھنے والا ہر درد پاکستان کے لیے نہیں بلکہ صہیونی آقاؤں اور چہیتے فتنہ عمرانیہ کے لیے ہے۔
پٹھان روایات لوٹ مار کرنا
اغوا برائے تاوان
اسمگلنگ
منشیات اور اسلحہ کی ترسیل ہے
انکو اعتراض ہےکہ سرحدی چیک پوسٹ پر عورتوں کی تلاشی لینا پشتون روایات کےخلاف ہے
لیکن عورتوں کے بھیس میں منشیات کی ترسیل روایات کے عین مطابق ھے
پٹھان پیسے کیلئےکچھ بھی کریگا
خودکش بمبار بھی بنیگا
بہت عمر رسدا اور دکھنے میں غریب لیکن صوبے سے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کی خوشی میں اپنی جیب سے مٹھائی تقسیم کرتے یہ بزرگ بھی امید ہیں ان لوگوں کے لئے جو مایوس ہوچکے تھے۔