شاہد کی آنکھیں اپنوں کے لئے ترس رہی ہیں۔۔!!
سال 2002 میں شاہد پانچ سال کی عمر میں اپنے والد "شاکر" کے ساتھ لاہور سے کراچی آیا تھا۔والد ٹرک ڈرائیور تھے،ٹرک میں کراچی کی سبزی منڈی آئے تھے،یہاں چچا یا والد کے ساتھ (یا شاید کنڈیکٹر)ٹرک سے نیچے اتر کر منڈی میں گھوم رہے تھے کہ رش میں ان سے کھو گیا۔
شاہد کا کہنا ہے کہ مجھے ایک تھانے لایا گیا وہاں سے ایک شیلٹر میں بھیج دیا گیا۔
مجھے والد کا نام شاکر والدہ کا نام نسیم یاد ہے۔
مجھے اتنا یاد ہے کہ ہم گھر میں پنجابی بولتے تھے،اور میں والد کے سینے پر سوتا تھا۔
میں جب دوسرے بچوں کو اپنوں سے ملتا دیکھتا ہوں تو بہت دل کرتا ��ے کہ کاش میرے والدین بھی ملیں،جس سینے پر میں سوتا تھا اس سینے سے لگ کر خوب گریہ کروں اور اپنے سینے میں لگی جدائی کی آگ بجھاوں۔
آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہیں۔یہ پوسٹ آپ تک پہنچی ہے تو صرف ایک شئیر کا بٹن دبانے سے آپ شاہد کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ انکے دل شکستہ والدین کو خوشیاں فراہم کرسکتے ہیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج فون نمبر پر رابطہ کریں
+923162529829
18 may 2026
#waliullahmaroof #lahore #shahid
@khalid_man4800@Micks_it خالد منصور
پنجاب میں بسنے والا ہر شخص پنجابی ہے۔
اس کا مذہب چاہے کچھ بھی ہو۔
مِکی گِل اس زمین کا بیٹا ہے۔
مجھے اس کے پنجابی اور مسیحی ہونے پر فخر ہے۔
اس کے باپ دادا اس دھرتی پر رہے اب وہ رہ رہا ہے اس کی اولاد رہے گی۔
تم اپنی زبان بند رکھو۔
بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی نویں جماعت کی انگریزی کی کتاب میں، کیچ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سائنس دان ڈاکٹر یار جان عبدالصمد کی جدوجہد اور سائنسی خدمات پر ایک مضمون شامل کیا گیا ہے۔ یہ وہی یار جان عبدالصمد ہے، جس کی ٹوٹی پھوٹی انگریزی سن کر کراچی کی انگلش میڈیم سکول کی میڈم نے طنزاً کہا تھا کہ تم گاؤں جا کر کھیتی باڑی کرو، یہ تعلیم تمہارے بس کا کام نہیں۔
اس بچے نے یہ فقرہ اور یہ لہجہ گرہ میں باندھ لیا۔ پھر وہ ایسا پڑھا، ایسا پڑھا، ایسا پڑھا کہ کراچی سے سیدھا یورپ جا پہنچا اور آج وہ دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں اسپیس سائنس پڑھاتا ہے۔ قوموں کا حقیقی فخر ایسے لوگ ہوا کرتے ہیں۔
اس جوان پر یہ مضمون شامل کر کے، ٹیکسٹ بک بورڈ نے، اس کتاب کے مصنفین نے اپنے قد میں اضافہ کیا ہے۔ اس میں مصنفین تو قابلِ تحسین ہیں ہی، ایک کریڈٹ ان لوگوں کو بھی ملنا چاہیے جو ایسے متن کو شامل کرنے سے لے کر سراہنے اور چھاپنے تک کے عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ اس میں چیئرمین ٹیکسٹ بک بورڈ کا یقیناً اہم کردار ہے، ساتھ ہی متعلقہ مضمون کے سبجیکٹ اسپیشلسٹ کا بھی جو ایسے مضامین کی اہمیت سمجھتے ہیں۔ بورڈ میں انگریزی کے ماہر مضمون فرید بزدار ہیں۔ یہ ہمارے کالج کے کولیگ رہے ہیں۔ اس نیک کام میں ان کی حصہ داری کو بھی سراہنا بنتا ہے۔ یہ لوگ چوں کہ اکثر پسِ پردہ کام کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے ان کا کام تو نظر آتا ہے، نام نہیں۔
یہ کتاب اب بلوچستان بھر میں پڑھائی جا رہی ہے۔ یقیناً یار جان عبدالصمد کے گاؤں میں بھی پہنچے گی، جہاں اس نے اولین جماعتیں پڑھیں۔ یہ وہاں کے بچوں کے لیے فخر کے ساتھ ساتھ کس قدر موٹیویشن کا ذریعہ بنے گی۔ کیا پتہ اسی سے حوصلہ پا کر پھر کوئی یار جان پیدا ہو، جس کے علم و ہنر کی روشنی اپنے وطن کے تاریک گوشوں کو بھی منور کر سکے۔
عابد میر
یہ کہانی صرف سلمان کی نہیں… یہ ایک بچھڑے ہوئے بیٹے کی پکار ہے
یہ لاہور کا نوجوان سلمان ہے…
سال 2004 میں، جب وہ صرف 6 سے 7 سال کا تھا، اپنے والد کے ساتھ کہیں گیا…
رات کسی کے ہاں گزاری… مگر اگلی صبح ایک چھوٹی سی غلطی نے اس کی پوری زندگی بدل دی۔
وہ بغیر بتائے باہر نکل گیا… اور پھر کبھی گھر واپس نہ جا سکا
آج بھی اسے اپنا نام سلمان اور والد کا نام ریاض یاد ہے…
شاید لوگ ان کے والد کو "بوٹا" کے نام سے بھی جانتے تھے۔
والد مستری کا کام کرتے تھے… ایک بھائی اور ایک بہن بھی تھے… مگر نام یاد نہیں۔
اتنا یاد ہے کہ ان کا گھر لاہور میں دریائے راوی کے قریب تھا…
سوچیں… ایک بچہ جو صرف گ��ومنے نکلا تھا…
وہ آج تک اپنے گھر، اپنے ماں باپ، اپنے بہن بھائیوں سے دور ہے
سلمان آج بھی اپنے اپنوں کا انتظار کر رہا ہے…
ہر دن، ہر رات… اسی امید کے ساتھ کہ شاید کوئی اسے پہچان لے…
شاید کوئی کہے: "یہ ہمارا سلمان ہے"
لاوارثی کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے…
یہ درد وہی سمجھ سکتا ہے جو اپنوں سے بچھڑ جائے…
آپ کا صرف ایک شئیر کرنا اس نوجوان کو اس کے گھر والوں سے ملا سکتا ہے
براہ کرم اس پیغام کو آگے پہنچائیں… شاید یہ اس کے خاندان تک پہنچ جائے
کسی بھی اطلاع کے لیے فوراً واٹس ایپ کریں
03162529829
#WaliullahMaroof
#MissingPerson
#HelpFindSalman
اس بچے کا نام مقرب ہے اور والد کا نام محمد اشرف قادری ہے۔
مقرب سال 2021 میں لاوارث ملا تھا۔
فیصل آباد میں ملا تھا اور وہیں ایک ادارے میں جمع ہوا۔
مقرب کا والد اشرف قادری سیلز مین تھے،والدہ کا نام صائمہ یاد ہے۔بہن بھائیوں کے نام یاد نہیں ہیں۔
آٹھ سال کی عمر میں ملا تھا اب 13 سال کا ہوچکا ہے۔
اس سے قبل کہ وقت گزرتا جائے اور مقرب اپنا سب کچھ بھول جائے،اور والدین اسکی یاد میں قبل از وقت بوڑھے ہوکر انہیں مختلف بیماریاں گھیر لیں!
آئیں ہم سب کوشش کرکے مقرب کو اپنوں سے ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔
جو نگاہیں ایک دوسرے کو دیکھنے کے لئے ترس رہی ہیں ان نگاہوں کی تشنگی دور کریں۔
اس پوسٹ کو اتنا شئیر کریں کہ مقرب کا خاندان کہیں بھی موجود ہو ان تک یہ پوسٹ پہنچ جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
16 April 2026
#waliullahmaroof #Faisalabad #PakistanZindabad
وقت ہار گیا،استاد جیت گیا...49 سال بعد شاگردوں کی دوبارہ ڈرل!
گورنمنٹ بوائز ہائی سکول چھب،تحصیل جنڈ ضلع اٹک میں ایک یادگار اور جذباتی مناظر، جہاں پی ٹی ٹیچر عبداللہ صاحب نے 1977 کے اپنے شاگردوں کو 2026 میں ایک بار پھر سکول گراؤنڈ میں فزیکل ڈرل کروائی،وہی میدان،وہی استاد مگر شاگرد اب عمر رسیدہ ہو چکے تھے۔قدموں کی تھاپ میں ماضی کی یادیں تازہ ہو گئیں یہ منظر استاد اور شاگرد کے لازوال رشتے کی خوبصورت مثال بن گیا۔
ایسے اساتذہ کو سلام جو نسلوں کی بہترین تربیت کرتے ہیں-
یہ گورا مختلف ممالک میں گھومتا ہے اور راہ چلتے لوگوں کے ساتھ ڈانس کر کے ریلز بناتا ہے۔ اس کا ED People کے نام سے پیج ہے۔ یہ پاکستان آیا تو اس نے کراچی سے لاہور تک پاکستانیوں کو بھی نچا دیا۔ کیا زندہ دل لوگ ہیں۔ ہزار ہا مسائل کے ہوتے بھی جینے کا ہنر جانتے ہیں۔ اس لیے اکثر اپنی تحریروں میں لکھتا ہوں کہ اس معاشرے میں زیست کرنا بھی ایک آرٹ ہے اور میرے لوگ فائن آرٹ آرٹسٹ ہیں۔
The Pope removed his shoes in a mosque and people are outraged?
That’s not compromise. That’s basic respect.
If you enter someone’s home or sacred space, you honor their customs. We expect it in our churches. Why pretend not to understand it anywhere else?
وزیراعلی پنجاب کو لوڈشیڈنگ پر نوٹس لینا چائیے پنجاب کی عوام بجلی کے بل پورے دیتی ہے تو بجلی بھی چوبیس گھنٹے پوری ملنی چائیے اور جو صوبے بجلی چوری کرتے ہیں اُن کا بوجھ پنجاب پر کس لئے ڈالا جا رہا ہے ؟ لغاری صاحب کو طلب کریں
پنجاب بڑا بھائی والا مٹھا کم کریں شکریہ
میں اسرائیل پر سرخ لکیر عبور کرنے کا الزام لگاتی ہوں، میں فلسطینی شہریوں کے قتلِ عام کی مذمت کرتی ہوں، اور میں اعلان کرتی ہوں کہ اٹلی اسرائیل کے خلاف یورپی پابندیوں کی حمایت کرے گا۔
مُحترمہ میں دم ہے 💪 https://t.co/iGiPcFGQPq
Welcome back to Pakistan,Wenny❤️!
Delighted to meet 🇸🇪 nurse "Sister Wenny” Lekardal on one of her recurrent visits. She spent 40 years in 🇵🇰, caring for vulnerable communities
In 2021 she received the Pride of Performance🥇by the President of Pakistan.
#FikaWithFriends