عمران خان نے کئی دفعہ کہہ کے بھیجا ہے کہ جو میرے سینئر وکلا ہیں وہ میرے کیسز لگوائیں۔ اۤج کہاں ہیں سینئر وکلا جو ٹکٹ ہولڈرز ہیں؟ حامد خان سینیٹر ہیں، وہ کہاں ہیں؟ کھوسہ صاحب کدھر ہیں؟ علی ظفر کدھر ہیں؟ گوہر صاحب جو صحت کیلئے اتنی فکر کر رہے تھے، صحت کو جو فارغ کروا دیا، وہ کہاں ہیں اسوقت؟ علی بخاری، جو اسلام اۤباد کے ہیں، وہ کہاں ہیں؟: علیمہ خان
حیدرآباد سے واپسی پر میرے اور میری ٹیم کے تمام راستے بند کردیے گئے ہیں۔ پچھلے ۴ گھنٹوں سے مختلف راستے تبدیل کر چکا ہوں۔ ابھی 4:23 پر سُنسان سڑک پر آکر کراچی کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ سندھ حکومت میرے ساتھ ساتھ میری ٹیم کی زندگی کے ساتھ بھی کھیل رہی ہے۔
جو روایات ایک صوبے کے وزیراعلی کے ساتھ دوسرے صوبوں میں بنائی جا رہی ہے یہ مستقبل قریب میں نقصاندہ ثابت ہوگی۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔ اس میں نفرتوں کو اتنا مت پھیلائیں جس سے پھر واپسی ممکن نا ہو۔ جعلی جمہوری قوتیں اس میں کوئی کثر بھی نہیں چوڑ رہی ہے۔ یہ انتہائی شرمناک ہے۔
Back to square one
تم ابھی تک وہیں کھڑے ہیں کہ جس رات رجیم چینج ہوا تھا۔ پہلی رات پہلا چھاپہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ہیڈ ڈاکٹر ارسلان خالد کے گھر مارا۔ اگلی صبح پہلا کام تحریک انصاف کے بنائے گئے ڈیجیٹل میڈیا ونگ کو تالے لگا کر کیا اور اسکے بعد تم ریٹویٹس والی مشینیں ڈھونڈنے نکل پڑے۔
پھر جب تم کہتے ہو کہ عمران خان اوورسیز یوٹیوبرز سے لاتعلقی کا اظہار کرے فرمائشیں کرتے ہو کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا کو کنٹرول کرے تسلیم کرتے ہو سوشل میڈیا نفرت پھیلا رہا ہے تو ایسا لگتا ہے دہکتے ہوئے کولوں جیسے سینے پر کسی نے برف گرا دی ہو۔ تو دماغ مہر لگاتا ہے اس خیال پر کہ تم ابھی تک وہیں کے وہیں کھڑے ہو۔
ہمارا تو کلہ بھی مضبوط ہے اور قلعہ بھی۔ ہم اشاروں کنایوں سے شروع ہوئے تھے لیکن آج تمہارے منہ پر تھوکتے ہیں۔ آغاز میں تو صرف شکوے تھے آج تمہاری تشریفوں پر جوتے برساتے زہریلے۔ تم تو اس معصوم سے سوشل میڈیا کو نہ سمجھ پائے تھے اور نہ ہی کنٹرول کرپائے جو کبھی ٹھنڈی ہواؤں کے پیچھے چلتا تھا تو کبھی اڈیالہ میں اہم ملاقات کی خبر والے ٹرک کے پیچھے۔
اور تم اپنے مہروں سے کہلواتے ہو کہ تمہارے اوپر تحریک انصاف کا کوئی دباؤ نہیں رہا ؟ تم عوام کو بڈھے دانشوروں سے سنواتے ہوکہ لوگ عمران خان کے لیے گولی کھانے کو تیار نہیں؟ تمہیں گولی کھانے والوں نے نہیں تمہیں لائک پوسٹ اور رپلائی والوں نے شکست دی ہے۔ تمہارے اوپر دباؤ تحریک انصاف کا نہیں سوشل میڈیا کا ہے۔
اسی دباؤ کے زیر اثر تم تعلیمی اداروں میں نابالغ بچوں کے سامنے کھڑے منہ سے جھاگ اڑا رہے ہو اور وہ تمہیں زچ کرتے ہیں۔یہ اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ تمہارے سوشل میڈیا اکاونٹس کے رپلائیز بند ہیں۔ تم بوکھلائے ہوئے دیواروں سے سر ٹکراتے پھرتے ہو اور تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔
ہم تو اتنا آگے چلے کہ جان سے گزر گئے۔ تم ابھی تک وہیں کھڑے ہو۔ سوشل میڈیا کو قابو کرنے کے طریقے سوچتے ہوئے۔ بیانیہ بیچنے کی دوکانیں کھولتے ہوئے۔ جھوٹ بولتے ہوئے۔ سٹاک مارکیٹ اوپر گئی بھی تمہارا وہی ہے اور سیاست سے تعلق نہیں ہمارا بھی وہی ہے۔ بیک ٹو سکوئیر ون۔
🚨 A major lie by Musharraf Zaidi has been exposed
This tout is telling Yalda Hakim that Imran Khan has been examined many times by his personal physician, Dr. Faisal Sultan. This is a very big lie. Imran Khan has no access to even a single personal physician.
Second lie: According to tout Zaidi, Imran Khan was not examined by military doctors. This is a very big lie. Doctors from PIMS are not personal physicians.
Third lie: According to Zaidi, Imran Khan is not in solitary confinement. All the meetings he is mentioning took place during jail trials and were before October 16. Since October 16, Imran Khan has been in complete solitary confinement.
@SkyYaldaHakim
A personal plea to @elonmusk
My two sons have not been allowed to see or speak to their father Imran Khan who has been held unlawfully (acc to the UN) for 22 months of solitary confinement.
X is the only place left where we can still tell the world he is a political prisoner without basic human rights.
Yet every time I post about him, the reach inside Pakistan (and often globally) is throttled to almost zero.
You promised free speech, not “speech but no one hears it”.
Please fix the visibility filtering on my account so we can get the message out! @MarioNawfal
عمران خان کی رہائی کا مطالبہ!!🛑
برطانیہ کے جرمی کوربن, جو وزیراعظم کے مظبوط ترین امیدوار ہے, عمران خان کے بارے میں الفاظ سنیں!
عمران خان کو میں دہائیوں سے جانتا ہوں!
وہ زہین ترین لیڈر ہے!
کل ہی خان کے بیٹوں سے بات ہوئی!
ہم 2 دن بعد پارلمینٹ میں آواز اٹھائیں گے
خان کو رہا کرو
ایبٹ آباد کی باصلاحیت لیڈی ڈاکٹر وردہ قریشی (ڈی ایچ کیو ہسپتال) کی لاش آج گاؤں لڑی بنوٹہ، ٹھنڈیانی روڈ ایبٹ آباد سے برآمد ہوئی
#JusticeForWarda
۔ تین کروڑ سے زائد کے زیورات امانت دینے والی معصوم ڈاکٹر کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ بلے دی ہٹی والوں سمیت 9 ملزمان پہلے ہی حراست میں ہیں ، لیکن اب تک انصاف نظر نہیں آ رہا۔ڈاکٹرز نے مین شاہرائے ریشم فوارہ چوک ایبٹ آباد کو بند کر دیا ہے پولیس کے خلاف شدید احتجاج ہو رہا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس والے خود اس سب میں ملوث ہیں ۔
@CSKPOfficial@DC_abbottabad@ShafiJanPTI@GovernmentKP
گوھر خان صاب آپ کا بیان کا ایک حصہ جو سیاسی قیادت کا کسی سرکاری ملازم کو ذہنی مریض کہنے متعلقہ ہے درست نہیں۔ آپکا عہدہ اور اسمبلی کی سیٹ عمران خان کی دی ہوئی ہے
اگر آپ نہیں سمجھتے جو ظلم عمران خان انکی اہلیہ اور خاندان اور جماعت سے ہو رہا ہے وہ کسی ذہین مرض سے کم ہے تو مناسب ہو گا کہ عہدہ اور سیٹ چھوڑ دیں
نیوٹرل رہنا اب مزید ممکن نہیں اور آپکی ایسی سوچ اور بیان تحریک انصاف کے کروڑوں کارکنوں کی توہین ہے۔
یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اگر آپ سے یہ ٹویٹ زبردستی جبرا کروائی گئی ہے تو بھر بھی کم از کم آپکو چیرمیُن نہیں رہنا چائیے
ڈی جی آئی ایس پی آر کو ردعمل دینے کے چکر میں انکے والد ڈاکٹر سلطان بشیر محمود کو بھی ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کو مطلوب دہشتگردوں کی امداد میں ملوث تھے
یہ اس لئے نامناسب ہے کہ سب جانتے ہیں اقوام متحدہ یا امریکہ جس پر ایسے الزام لگائیں وہ اکثر غلط اور امریکی نکتہ نظر سے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف عمر کا طویل حصہ اٹامک انرجی میں گزارا بلکہ بعد میں بھی افغانستان کی تعمیر نو کیلئے بہت کام کیا
پھر قرآن کی سائنسی تفسیر پر کام شروع کیا جو سورہ آل عمران تک چھپ چکا ہے مگر پیرانہ سالی کے باعث تکمیل میں مشکلات ہیں
اس کے علاؤہ سائنس اور قرآن کے موضوعات پر انہوں نے درجنوں کتابیں اور کتابچے لکھے ہیں
کہیں کی مخالفت کہیں نکالنا مناسب نہیں۔
ڈاکٹر صاحب پر ایک چیز الزام کی طرح بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے جنوں سے بجلی بنانے کا آئیڈیا دیا۔ یہ آئیڈیا نہیں ایک تخیل ہے کہ جن چونکہ نظر نہیں آتے اس لئے انفراریڈ فریکوئینسی پر ہونگے جنہیں low frequency detectors سے detect کیا جا سکتا ہے ۔ یعنی وہ انرجی کے چھوٹے چھوٹے پاکٹس ہیں جن کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے
یہ خیال غلط بھی ہو سکتا ہے اور صحیح بھی۔ لیکن دونوں صورتوں میں جو بات نہیں بھولنی چاہیئے وہ یہ کہ سائنس کی موجودہ شکل ایسے ہی خیالات اور تصورات کے باعث ہے۔ ہر دور میں کسی متنوع خیال کا پہلے مذاق اڑایا گیا پھر جب وہ عملی شکل میں ڈھلا تو ہماری روزانہ کی ضرورت بن گیا۔ اور مذاق اڑانے والے کسی کو یاد نہ رہے
یہ یاد رکھیں کہ رشتہ ضرور ہے مگر ڈاکٹر سلطان بشیر اور انکے dgispr بیٹے دو علیحدہ علیحدہ شخصیت ہیں
انہیں مکس نہ کریں
🇵🇰 ALEEMA KHAN: MY BROTHER IMRAN KHAN’S “DEATH RUMOR” WASN’T A MISTAKE - IT WAS A SYSTEM TEST
Imran Khan’s sister Aleema dropped the kind of allegation that usually only surfaces decades after a regime collapses:
The Pakistani state may have orchestrated a “death test run” on its most popular political figure - simulating his elimination to measure the public’s reaction.
Let that sink in.
Most governments deny, deflect, or spin uncomfortable rumors.
This one may have watched them spread - and took notes.
For weeks, no one - not his lawyers, not his family, not the public - was allowed to see or speak to the former prime minister.
Into that vacuum came photoshopped images of Imran Khan “dead” in custody, viral reports of his assassination, and a total communications freeze from the prison.
Only after the frenzy peaked did authorities belatedly confirm he was alive.
This was not an accident. It looks like an experiment.
Aleema Khan says it plainly:
“They are doing a test run to see what people’s reaction would be.”
If the public stayed quiet? If the outrage was containable? If the streets didn’t erupt?
Then the line between trial balloon and final decision gets very thin.
Aleema also reveals her family was told a year ago that there was a plan to eliminate Imran within 2 months.
That didn’t happen - but the logic behind it hasn’t changed.
This isn’t about corruption cases, or sentencing theatrics, or constitutional tweaks that conveniently grant lifetime immunity to the current military leadership.
It’s about one truth:
Imran Khan remains the only political figure the establishment cannot control - or beat at the ballot box.
So they have resorted to the only toolkit left:
Isolation; information blackout; legal paralysis; restricting family visitation; blocking his children from entering Pakistan; denying him books - his “real hunger,” as Aleema puts it.
It’s a containment strategy.
Khan’s sons, blocked from visiting their father, had to seek meetings in Washington because both the UK and Commonwealth institutions refused to even acknowledge the situation.
Aleema asks the obvious question:
“Where is the British government? Where is the Commonwealth when its own principles are violated?”
In theory, the Commonwealth stands for rule of law, civil liberties, electoral fairness.
In practice, it appears to stand for… nothing.
Western governments, so quick to issue statements on smaller crises in smaller nations, suddenly have no comment when a nuclear-armed state disappears its most popular elected leader.
Diplomacy, meet hypocrisy.
Khan’s children have appealed to U.S. officials - because they aren’t allowed to appeal to their own government.
But Aleema is blunt:
“Pakistanis will take action for their own country.”
Meaning, foreign governments may posture, but only Pakistan’s population can determine whether democracy survives - or whether Imran Khan becomes the next chapter in the country’s long history of leaders removed without elections.
The state has seen the public reaction. It has mapped political risk. It knows what the streets did - and didn’t - do.
Which means Pakistan is approaching a decision point.
Imran Khan is alive today.
Whether that remains true tomorrow depends less on the generals - and more on whether the Pakistani public refuses to let this “test run” become a final act.
Source: The Independent
اسٹیبلشمنٹ کو سب سے بڑا مسئلہ بظاہر ہے ہی یہی کہ پاکستان میں دن نکلتا ہے توپی ٹی آئی کے لڑکے، لڑکیاں تنقید شروع کردیتے ہیں جب وہ تھک ہار کے سوتے ہیں تو امریکہ، یورپ اور کینیڈا میں پینٹیں بشٹیں پہن کے بیٹھے پی ٹی آئی والے شروع ہوجاتے ہیں جس سے یہ تنقیدی سائیکل چوبیس گھنٹے جاری رہتا ہے۔
ادارے کے ترجمان کا غصہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب مسلسل تنقید سے تنگ آچکے ہیں۔