وردی کا ظلم
پاکستانی فوج کے ۷۸ سالہ ظلم کی داستان
جس خاک سے اُٹھے تھے، اُسی خاک کو روندا
محافظوں نے ہی گھر کو آگ لگا دی، افسوس!
۱۔ آغاز — ایک سپنے کا قتل
پاکستان ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو آزادی کی صبح کے ساتھ پیدا ہوا۔ لاکھوں انسانوں نے اپنا خون، اپنے گھر، اپنی عزتیں دے کر یہ زمین خریدی تھی۔ خواب تھا ایک ایسے ملک کا جہاں قانون کی حکمرانی ہو، عوام کی آواز سنی جائے اور انسان کو انسان سمجھا جائے۔ مگر اس سپنے کو کچلنے میں دیر نہ لگی اور کچلنے والے وہی تھے جن کے ہاتھوں میں بندوق تھی۔
۱۹۵۸ میں جنرل ایوب خان نے پہلا مارشل لاء لگایا۔ اس دن سے پاکستان کی تاریخ دو حصوں میں بٹ گئی: وردی اور عوام۔ ایک طرف بوٹ تھے، دوسری طرف زنجیریں۔
۲۔ ۱۹۷۱ — سب سے بڑا جرم
پاکستانی فوج کے جرائم میں سب سے بڑا اور سب سے خونریز باب ۱۹۷۱ کا ہے۔ مشرقی پاکستان جہاں اکثریتی آبادی رہتی تھی، جن کے ووٹوں سے الیکشن جیتا گیا تھا ان پر اپنی ہی فوج نے حملہ کر دیا۔
آپریشن سرچ لائٹ یہ نام پڑھنے میں معصوم لگتا ہے مگر اس کی حقیقت خون سے لکھی ہے۔ ۲۵ مارچ ۱۹۷۱ کی رات ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ کو نیند میں قتل کیا گیا۔ عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں۔ گاؤں کے گاؤں جلا دیے گئے۔ بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق تین لاکھ سے تیس لاکھ انسان مارے گئے۔
یہ اپنے ہی ملک کے شہریوں کا قتل عام تھا۔ یہ نسل کشی تھی۔ اور یہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں ہوئی۔ آج تک کوئی جنرل کٹہرے میں نہیں کھڑا ہوا، کوئی معافی نہیں مانگی گئی، کوئی احتساب نہیں ہوا۔
۳۔ بلوچستان — جاری نسل کشی
بلوچستان وہ زمین ہے جہاں گیس نکلتی ہے مگر گھروں میں اندھیرا ہے۔ جہاں معدنیات ہیں مگر بچے بھوکے ہیں۔ جہاں فوجی آپریشن ہیں مگر آواز نہیں ہے۔
جبری گمشدگیاں یہ پاکستانی فوج کا وہ ہتھیار ہے جو سب سے سفاک ہے۔ کوئی مقدمہ نہیں، کوئی عدالت نہیں، کوئی وکیل نہیں۔ ایک دن گھر سے اٹھایا، پھر کبھی واپس نہ آیا یا سالوں بعد لاش ملی۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہزاروں ایسے کیسز ریکارڈ کیے ہیں۔ مائیں بیٹوں کی تصویریں اٹھائے دھرنے پر بیٹھی ہیں ۔فوج انہیں بھی دھمکیاں دیتی ہے۔
نواب اکبر بگٹی — ایک عمر رسیدہ، منتخب سیاستدان کو ۲۰۰۶ میں فوجی آپریشن میں مار دیا گیا۔ جنرل مشرف نے بڑے فخر سے کہا: "وہ نہیں جانتا تھا کہ کیا آنے والا۔" یہ ہے وردی کا رویہ ،قتل پر فخر۔
۴۔ سیاست کا گلہ گھونٹنا
پاکستان کی ۷۸ سالہ تاریخ میں براہ راست فوجی حکومت کا عرصہ ۳۰ سال سے زائد ہے۔ ایوب، یحییٰ، ضیاء، مشرف چار جرنیلوں نے آئین کو پاؤں تلے روندا، پارلیمنٹ کو بند کیا، سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈالا۔
جب فوج براہ راست حکومت نہیں کرتی تب بھی "اسٹیبلشمنٹ" کے ذریعے کٹھ پتلیاں چلاتی ہے۔ حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی فوج کی مرضی سے ہیں۔ منتخب وزیر اعظم نے آج تک اپنی مدت پوری نہیں کی یا تو پھانسی، یا جلاوطنی، یا جھوٹے مقدمات۔
ذوالفقار علی بھٹو ،ایک منتخب وزیر اعظم کو ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے جھوٹے مقدمے میں پھانسی دے دی۔ یہ وہی ضیاء تھا جسے بھٹو نے خود آرمی چیف بنایا تھا۔ وردی نے اپنے محسن کو بھی نہ بخشا۔
۵۔ معیشت کی لوٹ مار
فوج صرف سیاسی آقا نہیں، بلکہ سب سے بڑی کاروباری سلطنت بھی ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن، ڈی ایچ اے، سیمل اور سکروم پروجیکٹس، اسکول، ہسپتال، سیمنٹ فیکٹریاں، بیکریاں -یہ سب فوج کے کاروبار ہیں۔
ایوا ریسرچ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فوجی کاروباری ادارے اربوں روپے کے ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں جبکہ ایک عام پاکستانی دکاندار تک کو ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ وردی پہننے والے کو ریاست کی زمین، ریاست کا پیسہ، اور ریاست کا تحفظ ملتا ہے بغیر کسی احتساب کے۔
پنشن، ہاؤسنگ، صحت، تعلیم ،فوجی افسر کو سب سرکاری خزانے سے ملتا ہے۔ جب کہ ایک سرکاری اسکول ٹیچر اپنی بقایا تنخواہ کے لیے احتجاج کرتا ہے تو اسے لاٹھیاں پڑتی ہیں۔
۶۔ میڈیا اور آواز کا قتل
جو سچ بولے اسے چپ کرا دو ۔یہ فوجی حکمرانی کا سب سے پرانا اصول ہے۔ صحافی اغوا ہوتے ہیں، چینلز بند کیے جاتے ہیں، اخبارات کی اشاعت رکوائی جاتی ہے۔ سی پی جے اور آرایس ایف کی رپورٹیں گواہ ہیں کہ پاکستان دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے صحافیوں کے لیے۔
ارشد شریف، ایک نڈر صحافی کو کینیا میں قتل کیا گیا۔ گھر والے کہتے ہیں کہ انہیں ملک سے جانے پر مجبور کیا گیا تھا۔ جبیر احمد، مریم مقصود، گمشدہ بلوچ صحافی فہرست لمبی ہے۔ سچ بولنے کی قیمت جان ہے۔
***جاری ہے***
@Imran_804@Sara231378 گلابی کھوتے۔ تُو نے کیا کیا ہے جو مجھ سے پوچھ رہا ہے؟ مرا باہر اڈیالہ کے کہ نہیں۔
بےغیرت گلابی کھوتے، چل مر اڈیالہ کے باہر۔ وہاں سے تیری لاش ہی انی چاہئے۔
@Ali_Mrtxa@FAROQKHANij Awwwww. اب #گلابی_انصافین بتائیں گے کہ پٹواری کون ہے اور کون نہیں۔ ماشاءاللّہ آپ سب پٹواریوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں۔
عظیم آدمی جیل میں کیا کر رہا ہے؟
عظیم آدمی کو باہر کیوں نہیں نکالا اب تک؟
بہنوں کو بھی پکڑوا دیا۔
بےقدری تو آپ سب نے کی ہے جو اب تک خان کو باہر نہیں نکال سکے 😏😏
@Ali_Mrtxa@FAROQKHANij بچے ہو بچے ہی رہو۔ ابھی تم کو سیکھنے اور سمجھنے کی بہت ضرورت ہے۔ فوج بھی میرا اور ملک بھی میری سے آگے بھی دنیا ہے۔ دنیا بھر مین جین زی ہوتی ہے اور پاکستان مین چمپینزی۔
جس ابو کو بٹھایا ہوتا ہے وہ بھی ملک توڑنے اور عمران خان کا مقبرہ بنانے کی بات کرتا ہے۔
عمران خان نبی نہیں ہے۔
@FAROQKHANij@Ali_Mrtxa جن بچوں کو جمعہ جمعہ چار دن ہوۓ ہیں اسپیسز میں آۓ ہوۓ، اس بچونگڑوں سے کیا بحث کرنی۔ نہ انکو کسی نظریے کا پتا نہ بیانیے کا۔ ادھر سب ابو بن جاتے ہین۔ یہ کتنے مخلص ہیں؟ دنیا سب دیکھ رہی ہے۔
یہ ہو گئی ہے کل اوقات پی ٹی آئی کی. اس کو کہتے ہیں پارٹی برباد کرنا.
ایک بات یاد رکھیں پارٹیاں عام لوگ سے نہیں عہدےداروں سے برباد ہوتی ہیں اور جس پارٹی میں ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہ ، عہدوں کی بندربانٹ ہو اور سوشل میڈیا سے چلتی ہو تو پھر اس کا حال یہی ہوتا ہے جو پی ٹی آئی کا ہوا ہے.@ImranKhanPTI@PTIofficial