جو لوگ یہ اکاؤنٹ چلا رہے ہیں وہ نہایت بغیرت ہیں اگر عمران خان اپنے سوشل میڈیا پر یہ کچھ ہی دکھانا تھا تو یہ اکاؤنٹ پاکستان سے آپریٹ ہوتے آپ لوگ سیف زون میں بیٹھ کر ان دگڑ دلوں کو پروموٹ کر رہے ہیں
بیرسٹر گوہر خان کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس جاری ،اجلاس میں پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز شریک۔
#شوکت_خانم_کی_شیر_اولاد
I wish I could do more to support Imran Khan and his family. I won’t stop trying, but this Iran war is making everything harder 😔
I really hope Asim Munir strikes a deal with Imran Khan and PTI and stops this persecution
I have no horse in this race, it’s just heartbreaking to see such good people be treated so badly
I fkn hate politics
مجھے افسوس سے یہ بات لکھنا پڑ رہی ہے کہ عمران خان صاحب کی جان لی جا سکتی ہے۰
اگر ہم دیکھیں کہ جو لوگ کچھ احتجاج وغیرہ کر سکتے تھے اور جو سیاست میں کچھ ارتعاش پیدا کر سکتے تھے وہ سب اس وقت جیلوں یا ناجائز حراست میں ہیں۰جو باہر ہیں وہ اب کھلے عام کہتے ہیں کہ ہم نے ملک میں سیاست کرنی ہے اور خان صاحب کے نظریے سے disagree کرتے ہیں۰
علی امین گنڈاپور صاحب کو دوبارہ وزارت اعلی کی کرسی نظر آئی ہے تو وہ دوبارہ active ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں وگرنہ وہ شدید ناراض تھے۰ایسا لگتا ہے کہ باہر پارٹی کی کمان سنبھالنے کے لئے شدید جدوجہد جاری ہے۰
ہر شخص عمران خان کا سپاہی ہونا تو claim کرتا ہے لیکن ان کے لئے کچھ کرنا پسند نہیں کرتا۰
شائد عمران خان صاحب کی پارٹی کو یا خان صاحب کے چاہنے والوں کو اس پارٹی میں رجسٹریشن سے لے کر الیکشن کی مہم چلانی چاہئے اور ثابت کرنا چاہئے کہ پی ٹی آئی عمران خان صاحب کی پارٹی ہے کسی بیرسٹر گوہر یا کسی سلمان راجہ یا کسی گنڈاپور کی جماعت نہیں ہے۰
پارٹی کے اندر الیکشن کروانا اور رجسٹریشن کرنا بہت اہم معاملہ ہے۰اکیس لوگ پوری پارٹی کا فیصلہ نہیں کر سکتے اور یہ لوگ اقتدار کے لالچ میں پاگل ہوئے پڑے ہیں۰
گیارہ مہینوں سے عمران خان قید تنہائی میں ہے۔ دس مہینوں بعد تنگ آکر ایک نوجوان نےاحتجاج کیا اپنی حکومت گنوا لی ، آپ اس کا نام تک اپنی زبان پر نہیں لاتے ۔
آپ اسمبلیاں چھوڑیں اور گھر جائیں۔
شوکت خانم کا پورا خاندان اس رجیم سے ٹکرا گیا، مگر احد خان کے علاوہ عمران خان کی پوری فیملی اس وقت قید میں ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کے شوہر احد خان، عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔
🇵🇰 Imran Khan's last sister still outside prison has a warning: if anyone claims he's cut a deal with the government, DON'T believe it.
Rubina Khan says her brother has been held in total isolation since December 2, 2025, while her 3 sisters sit behind bars.
With deal rumors swirling, she says it would be "very convenient" for someone to announce one on his behalf while all 3 are locked up.
She also accuses the government of trying to kill him behind bars by withholding urgent medical treatment, despite an August Supreme Court order to move him to hospital.
Until the family can actually see him, she won't trust anyone claiming to speak for him.
Source: Rubina Khan (FB) / Writer: Julie
یقین کریں اگر بہنیں باہر ہوتی اور ایسا بیان آتا تو وہ زمین آسمان ایک کر دیتی ۔ لیکن سوشل میڈیا خاموش ہے! 💔
اور پی ٹی آئی قیادت تو ہے ہی اسٹیبلشمنٹ کے چکلے 🖐️
تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک کے مقبول ترین رہنماؤں کے ساتھ ہمیشہ کیا سلوک کیا گیا۔
عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھ کر ان پر تشدد کی خبریں آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
تمام پارلیمنٹرینز کو فوراً استعفیٰ دینا چاہیے۔
What kind of news is coming about imran khan??? We have normalised torture on him to an extent that such a news about the greatest son of soil can easily be circulated and talked about!!! My heart is drowning even thinking about this, i can't even say it 💔
عمران خان گیارہ مہینوں سے قید تنہائی میں ہے۔ ہر طرح کی کوششوں کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہیں ہوپائی۔ اسکے بعد اپوزیشن لیڈر کی جانب سے عمران خان پر جسمانی تشدد کی تصدیق کرنا بے معنی نہیں ہے۔
فوج ایک وزیراعظم کو قتل کروا چکی ، ایک کو پھانسی چڑھا چکی ، شیخ مجیب پر تشدد کرچکی اس فوج سے کسی بھی سطح کی بے غیرتی کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے سامنے آرمی چیف اور ان کی ٹیم طالبان کی آبادکاری کا پلان لے کر آئے تو ان کی شرائط میں فاٹا مرجر کی واپسی کے ساتھ ساتھ یہ توہین آمیز شرط بھی شامل تھی کہ ریاست ان کے لیے مکانات تعمیر کرے گی اور یا تو ان کو سیکیوریٹی فراہم کی جائیگی یا ان کو اسلحہ سمیت آنے دیا جائیگا۔ میں نے سوال پوچھا کہ اول تو اس آبادکاری کا اُن ۷۰۰۰ سیکیوریٹی فورسز کے شہدا کے لواحقین کو کیا جواز فراہم کیا جائیگا جن کے عیال کے سروں سے فٹ بال کھیلے گئے، جن کے گلے کاٹے گئے؟ اے پی ایس کے معصوم بچوں کے لواحقین کو کیا جواب دیں گے جنہیں بے دردی سے شہید کیا گیا؟ اُن کے ٹیکس کے پیسوں سے آپ اب اُن کے قاتلوں کی آبادکاری کریں گے؟ جن کے گھروں کو آپ نے باقاعدہ مسجدوں میں یہ اعلانات کر کرکے مسمار کیا کہ یہ وطن دشمن اور قوم کے بیٹوں کے قاتل ہیں ان کے گھر آپ کس منہ سے خود تعمیر کریں گے؟ آرمی چیف اور اُن کی ٹیم کے پاس لفظوں میں ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا مگر اُن کی شکست خوردہ باڈی لینگیوج اُن کا وہ جواب تھا جس سے میں نے بہت عرصہ نظریں کترائیں۔ میرے ملک کی فوج کے سربراہ ایک ملیشیا کے ہاتھوں اتنے بے بس تھے یا ہمیشہ کی طرح ڈالری جنگ کی خواہش کے نشے میں اتنے مست تھے کہ اپنے جوانوں کے سر کاٹنے والوں کو ناصرف بنا کسی اکاونٹبلٹی واپسی کا راستہ دینے کی منصوبہ بندی کررہے تھے بلکہ ان کی لاشوں پر ان قاتلوں کے مسکن تعمیر کررہے تھے۔
میرے حوالے سے ان کے اقدامات نئے نہیں۔ گذشتہ کئی سالوں میں میرے خاندان دوستوں اور ساتھیوں کو اغوا، لاپتہ، تشدد کرنے سے گرفتار کرنے، گھر توڑنے کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں۔ کل رات ان جرنیلوں کے مسلط کردہ ٹٹو کا بیان سُنا کے ایک ”مفرور” کے گھر کی خواتین سے دست درازی کرنا جائز ہے۔ میں اس تفصیل میں تو جاتا ہی نہیں کہ اِس ”مفرور“ کا اصل جرم کیا ہے مگر کل پہلی مرتبہ اپنی قوم کی زندگیوں کا سوال کرنے والوں سے ”آہنی ہاتھوں سے نبٹنے والی“ فوج کے آرمی چیف اور ان کی ٹیم کا شکست خوردہ انداز یاد کرکے ہنسی آئی۔ سیاسی مخالفین کے گھر توڑنے والوں، نہتی عورتوں پر ہاتھ ڈالنے والوں کا سامنا بندوقوں والوں سے ہوتا ہے تو اپنے اُن جوانوں کے خون کا بھی سودا کر آتے ہیں جن کی قربانیاں قوم کو ازبر کرا کرا کر اپنے ناجائز قبضے کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔ خُدا کسی کو بے غیرت دشمن نہ دے۔
محمود خان اچکزئی صاحب! اگر آپ کو یقین ہے کہ عمران خان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، بلیک میل کیا جا رہا ہے اور ان پر جسمانی تشدد بھی ہوا ہے، تو بطور قائدِ حزبِ اختلاف آپ اس پر عملی طور پر کیا کر رہے ہیں؟ آپ کے پاس پارلیمانی منصب اور اپوزیشن کی قیادت موجود ہے۔ قومی اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھائیں، پارلیمانی تحقیقات، فوری ملاقات اور آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ کریں، تمام اپوزیشن کو متحرک کریں۔ سپریم کورٹ جائیں، محض انٹرویوز میں اس نوعیت کے سنگین انکشافات اور خدشات بیان کرنا کافی نہیں ہے۔ جس ذمہ داری کے لیے آپ کو یہ منصب دیا گیا، اسے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے اب تک آپ نے کیا عملی اقدامات کیے ہیں۔یہ قوم جاننا چاہتی ہے۔
عمران خان پر جسمانی تشدد کی تصدیق کرنے سے پہلے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈری اور تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے الگ ہوجانا چاہیے۔
اگر ہم خدانخواستہ فوج سے انصاف نہ لے پائے تو عمران خان کے نام پر عہدوں اور اسمبلیوں سے چپکے ہوئے حرامزادے ہی سہی۔
عمران خان پر جیل میں جسمانی تشدد کی تصدیق اپوزیشن لیڈر کررہا ہے۔ اگر اس سب کے باوجود تحریک انصاف اسمبلیوں میں بیٹھی رہتی ہے تو پھر بیرسٹر گوہر ، سلمان اکرم راجہ ، محمود اچکزئی سمیت اسمبلیوں میں بیٹھے تین سو لوگ عمران خان کے قتل کے سہولتکار ہوں گے۔
عظمٰی خان کا شوہر 🚨
ہمیں ریلیف نہیں مل رہی, اب بتاؤ ہم کیا کریں؟ میں تو پوری عوام سے پوچھتا ہوں, جو بھی یہ دیکھے, کہ اب اپ, آپ بتاؤ ہم کیا کریں
ستر سال کی عورتوں کو پکڑ کے جیل میں ڈال دیا، اس سے بڑی کیا ناانصافی ہوگی؟
#شوکت_خانم_کی_شیر_اولاد
جسٹس ابراڈ کے ڈائریکٹر مائیکل پولاک نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی مبینہ جبری گمشدگی اور غیرقانونی حراست کے معاملے پر اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کی درخواست کردی۔
مائیکل پولاک کی جانب سے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانی حراست اور ورکنگ گروپ برائے جبری و غیررضاکارانہ گمشدگیوں کو ہنگامی درخواستیں جمع کرا دی گئیں۔
جسٹس ابراڈ کی پریس ریلیز کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اسپیکر بابر سلیم سواتی کو 11 اکتوبر 2026 سے نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے ان کی موجودگی کے مقام کی تصدیق نہیں کی گئی۔
پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں منتخب عوامی نمائندوں کو اہل خانہ اور وکلا تک رسائی نہیں دی جا رہی اور ان کی حراست کے لیے کوئی وارنٹ یا قانونی حکم بھی پیش نہیں کیا گیا۔
مائیکل پولاک نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان فوری طور پر دونوں رہنماؤں کے مقامِ حراست سے آگاہ کرے، انہیں اہل خانہ اور وکلا تک رسائی دے اور رہا کرے۔
جسٹس ابراڈ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے اہل خانہ کی جانب سے دائر حبسِ بے جا کی درخواستیں پشاور ہائی کورٹ میں 3 نومبر 2026 کو سماعت کے لیے مقرر ہیں۔
مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مبینہ حراست اور سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں یہ معاملہ شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔