پنجاب کا پاکستان کی GDPمیں 60فیصد حصہ ہے مگر این ایف سی میں پنجاب کا حصہ 51فیصد اس میں سے بھی ساڑھے سات سو فیصد اور کٹوا دیے ہیں
دیگر صوبے بجلی کا بل نہی دیتے وہ سارے بل بھی نون لیگ ڈنڈہ دے کر پنجاب سے لیتی ہے آئی پی پیز کی کپیسٹی پیمنٹ بھی پنجابیوں کے کھاتے پڑتی ہیں اور اربوں کے ٹریفک چالان بھی پنجاب سے وصول کرتے باقی تو کسی صوبے میں یہ سب نہی ہے سکول بھی پنجاب میں بیچ دہے سرکاری ملازمین کی پینشن اور تنخواہ بھی پنجاب میں کاٹ دہے ہیں
سپر وزیراعلی اور سپر وزیراعظم کے پنجاب کے لیے سپر سپر تحفے
The incidents of #Zionist mistreatment of aid workers of the Global Thamud Flotilla, which went to help the besieged people of #Gaza, are shameful and inhuman.
Curse be upon the oppressors!
The scoundrel Israeli state is devoid of humanity and a burden on the earth...
@jalalsherazi@MaryamNSharif Not in higher level pmln works even in small position have ability to harras women and they are doing it in their full capacity... It needs to be stop we have full evidence
اس کے لیے آپ سب کو شاہد خاقان عباسی کا شکریہ ادا کرنا ہوگا۔ کچھ برس پہلے ان کی اپنی سالگرہ کی تصویر دیکھی تھی تو ان کے سامنے پانچ سو روپے والا کیک رکھا تھا جو اپنی جیب سے خریدا ہوگا لیکن جب “کیک “ پاکستان کا ہو تو انہوں نے دیر نہیں لگائی اور اینگرو اور اقبال زیڈ احمد کو پانچ لاکھ ڈالرز روزانہ پر فلوٹنگ ٹرمینل لگوایا۔
کل تیرہ ارب کا خرچہ تھا جو SNGPL یا PSO بھی لگا سکتے تھے۔ نہیں انہوں نے ڈالرز دینے مناسب سمجھے اور اب تک 1.5 ارب ڈالرز وہ لے چکے ہیں جو ہم قرضہ لے کر ادا کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
مزے کی بات ہے اینگرو کے جس مینجر نے پٹرولم منسٹری سے اپنی کمپنی کے لیے فلوٹنگ ٹرمینل کی روزانہ پونے تین لاکھ ڈالرز کی پندرہ سال کی ڈیل فائنل کی تھی اسے شاہد خاقان عباسی نے بعد میں پی ایس او کا ایم ڈی لگوایا۔ 🤪
کہاں ہیں میرے پسندیدہ ٹیکنوکریٹ اور فارن کوالیفائڈ جناب مفتاح اسماعیل۔ بڑے دن ہو گئے شاہد خاقان عباسی کی قابلیت اور پاکستان دوستی پر ان سے بھاشن نہیں سنا۔
اندازہ کریں 13 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے نام پر ڈیرہ ارب ڈالرز اد کر چکے ہیں وہ بھی دنیا بھر سے مانگ کر۔ اس ملک کے ساتھ کیسا کیا کھلواڑ کھیلا گیا ہے۔
عدالتیں یا میڈیا بات کرے تو شور ڈال دیتے ہیں آپ ملک نہیں چلنے دیتے۔ سرمایہ کاری دشمن ہیں۔ جمہوریت دشمن ہیں۔ زرا کارنامے دیکھیں جو ملک چلا رہے ہیں۔
یہ اسٹوری میں 2016 سے بریک/فالو کررہا ہوں۔ کئی شوز کیے کالمز لکھے۔۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ آئی پی پی ایز سے بھی بڑا نہیں تو کم سکینڈل بھی نہیں ہے۔
@CMShehbaz@MIshaqDar50@sharmilafaruqi@HinaRKhar@AliPervaiz450@ShaziaAttaMarri@sherryrehman@PalwashaKhan18@MiftahIsmail
اگر تمام آئی پی پیز کے معاہدے قانون کے مطابق اس سال ختم ہو جائیں، جیسا کہ ان کے معاہدوں میں لکھا ہوا ہے، تو موجودہ گرمیاں مہنگی بجلی کی آخری گرمیاں ہیں۔ موجودہ بحران اس لئے پیدا کیا جا رہا ہے، تا کہ ان آئی پی پیز کے معاہدوں میں ناجائز توسیع کی جا سکے۔
یہ صرف لوڈشیڈنگ نہیں، مکمل انرجی کرائسز ہے۔
آر ایل این جی کی کمی سے کئی پاور پلانٹس جزوی یا مکمل بند ہیں ۔
خاص طور پر آر ایل این جی بیسڈ پلانٹس (حویلی بہادر شاہ، بلوکی) پوری استعداد پر نہیں چل رہے، جبکہ نیلم جہلم (969 میگاواٹ) پہلے ہی بند ہے۔
رات کو جب سولر سسٹم بند ہوتا ہے تو ڈیمانڈ بڑھتی ہے،
مگر سسٹم کے پاس سپلائی نہیں نتیجہ:
تقریباً 4000–5000 میگاواٹ شارٹ فال
اور گوجرانوالہ، فیصل آباد، لاہور سمیت ملک کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ۔
پٹرول مہنگا، بجلی مہنگی اور پھر بھی بجلی نہیں ۔
عوام کو کیا مل رہا ہے؟
“یہ عارضی مسئلہ ہے” والا بیان ۔
گوجرانوالہ، فیصل آباد، لاہور ۔سرگودھا، گجرات، راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر شہروں سے لوگ خود بتا رہے ہیں ۔
2-3 گھنٹے نہیں، بار بار اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ۔
یہ بحران صرف بجلی کا نہیں ۔
یہ planning failure + governance failure ہے ۔
اور اس کی قیمت صرف عوام ادا کر رہی ہے ۔
عالمی حالات کی وجہ سے ابھی پیٹرولیم مصنوعات میں شاید 150 روپے تک اضافہ ہونا ہے۔ عوام یہ اضافہ قبول کر لے گی لیکن حکومت پورے ملک میں درج ذیل یکساں پالیسی لاگو کر دے۔
پہلی:- ججز سے لیکر ہر طرح کے سرکاری ملازم و افسر کیلئے مفت پیٹرول اور بجلی کی سہولت ختم
دوسری:- محلے کی دکانوں بشمول بیکری، میڈیکل سٹورز وغیرہ غروب آفتاب کے بعد اگر کوئی کمرشل دکان یا مرکز کھلا پایا گیا تو 1 ہفتے کیلئے سیل بمعہ جرمانہ
آئندہ ایک برس کیلئے اراکین اسمبلی، سرکاری افسروں، ججز وغیرہ کیلئے ہر طرح کی نئی گاڑیوں کی خریداری بند۔۔۔
آئندہ ایک برس کیلئے تمام صوبوں اور وفاقی کی اشتہاری مہم بشمول سوشل میڈیا اخراجات مکمل بند
ایسی سخت ایمرجنسی ریاست اور حکومت خود پر لاگو کرنے کے بعد پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے جتنی مرضی ٹیکس جیسے مرضی لاگو کرے، عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونگے، ورنہ ابھی تو سوشل میڈیا پر گالیاں پڑ رہی ہیں، آئندہ چند ہفتے بعد گلی محلوں میں بھی حکمران، سرکاری افسران اور ججز نکلنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
اتنا بڑا احتجاج پی ٹی آئی چار سال میں نہی کر سکی یہ راولپنڈی میں استادوں کا احتجاج ہے حیرت ہے اس کا بلیک آوٹ ہے جہاز خریدتے وقت بتایا گیا کہ خزانوں سے پیسہ ابل رہا بہت پیسہ ہے تو ان بے چاروں کو معاوضہ تو مناسب ادا کر دیں یہ کونسا نئے جیٹ پر جھولا مانگ رہے
آئی ایم ایف نے بھی بجلی نظام اور اسکی قیمتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا
مالیاتی فنڈ نے حکومت سے بجلی کے نظام و معاہدوں کے بوجھ کو کم آمدن والے پاکستانیوں پر ڈالنے پر تشویش کا اظہار کردیا، عام عوام کیلئے مہنگائی پر بھی بات چیت
مگر نون لیگ و فوج کو بالکل بھی رحم نہیں آرہا
@ArifRetd Aik mard talaq ki dhamki dy k bht champion bnta hai tb aurat ospy lanat bhejy ya mard jail me apny kartooton ki vjha sy phnch k lanat bhejy... Talaq ki dhamki to jesy medal hai ap logo k liye koi bht choti bat wah
یہ پاکستان کا قومی شناختی کارڈ ہے، جس میں ڈیجیٹل بارکوڈ بھی موجود ہے، چپ بھی لگی ہوئی ہے، نادرا کا مکمل ڈیٹا بیس اس کے پیچھے موجود ہے، آن لائن تصدیق کی سہولت بھی ہے، لیکن اس کے باوجود قوم کے ساتھ ہونے والا مذاق دیکھیے کہ ہر سرکاری دفتر میں آج بھی اس کی فوٹو کاپی مانگی جاتی ہے۔ نہ صرف فوٹو کاپی مانگی جاتی ہے بلکہ اس فوٹو کاپی کو 17 گریڈ کے افسر سے تصدیق کروانا بھی لازمی سمجھا جاتا ہے، گویا اصل کارڈ، ڈیجیٹل نظام اور ریاستی ڈیٹا پر کسی کو اعتماد ہی نہیں۔
ہم ڈیجیٹل پاکستان کے نعرے تو لگا لیتے ہیں لیکن عملی طور پر آج بھی فائل، مہر، دستخط اور فوٹو کاپی کے غلام ہیں۔
اس سارے عمل میں عام شہری کا وقت، پیسہ اور عزت تینوں ضائع ہوتے ہیں۔ ایک طرف ریاست جدید شناختی نظام پر اربوں روپے خرچ کرتی ہے اور دوسری طرف اسی نظام کو استعمال کرنے سے انکار کر کے شہری کو لائنوں، تصدیقوں اور بے مقصد رسمی کارروائیوں میں الجھا دیا جاتا ہے۔