4 جون کو پشین نے تاریخ رقم کر دی!
اسی تاریخی اجتماع کے حوالے سے آج رات 9:45 بجے ایک اہم X Space منعقد ہو رہی ہے۔
تمام جماعتی احباب سے شرکت کی پرزور اپیل ہے۔
⏰ رات 9:45 بجے🎙️
اللہ اپنی اسکیم میں مداخلت پسند نہیں کرتا !
وہ اپنے ٹارگٹ تک بڑے لطیف اور غیر محسوس طریقے سے پہنچتا ہے !
یوسف کو بادشاہی کا خواب دکھایا ،، باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ہے تو دوسرا مستقبل کا نبی ہے ! مگر دونوں کو ہوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ہو گا !
خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکہ غم کا چلا دیا !
یوسف دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑا ہے ،،خوشبو نہیں آنے دی !
اگر خوشبو آ گئی تو باپ ے رہ نہیں سکے گا ،، جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاہی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !
سمجھا دوں گا تو بھی اخلاقی طور پہ بہت برا لگتا ہے
کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رہا ہے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ہے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے !
اگر یوسف کے بھائیوں کو پتہ ہوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ہے اور وہ یوسف کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ہو رہے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !
یوسف عزیز کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ ، ان مع العسرِ یسراً ،
جیل کے ساتھیوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں ،،مگر مناسب وقت تک یوسف کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا۔
یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا ،اگر اس وقت یوسف علیہ السلام کا ذکر ہو جاتا تو یوسف سوالی ہوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا ،، اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا ، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا
اور یوسف علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا ،، بادشاہ نے بلایا تو فرمایا میں : این آر او " کے تحت باہر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناہی ثابت نہ ہو جائے ،،عورتیں بلوائی گئیں،، سب نے یوسف کی پاکدامنی کی گواہی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ : انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین ،،،
وہی قحط کا خواب جو بادشاہ کو یوسف کے پاس لایا تھا ،، وہی قحط ہانکا کر کے یوسف کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ہے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا ،
فرمایا پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے ،، فرمایا اب یہ کرتہ لے جاؤ ،، یہ وہ کھوئی ھوئی بینائی واپس لے آئے گا !
اب یوسف نہیں یوسف کا کرتا مصر سے چلا ہے تو : کنعان کے صحراء مہک اٹھے ہیں،یعقوب چیخ پڑے ھیں : انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون۔
تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو تو ایک بات کہوں " مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ھے :
سبحان اللہ ،،جب رب نہیں چاہتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی ،،جب سوئچ آن کیا ہے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئی ہے !
واللہ غالبٓ علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون !
اللہ جو چاھتا ہے وہ کر کے ہی رہتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی !
یاد رکھیں آپ کے عزیزوں کی چالیں اور حسد شاید آپ کے بارے میں اللہ کی خیر کی اسکیم کو ہی کامیاب بنانے کی کوئی خدائی چال ہو ،، انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ہیں، اللہ پاک سے خیر مانگیں !
گل پلازا کو آگ لگنے کا حادثہ پوری قوم کے لئے انتہائی المناک اور شرمناک سانحہ ہے جس کی وجہ سے پوری فضا سوگوار ہے انا للہ وانا الیہ راجعون چند گھنٹوں میں کتنی جانیں بے چارگی کاشکار ھوکر رخصت ھو گئیں اور کتنے متوسط درجے کے تاجروں کا اربوں کا نقصان انہیں قلاش بنا گیا کراچی جیسے شہر میں آگ پر قابو نہ پاسکنا ایک افسوسناک سوالیہ نشان ہے کہ بروقت مدد کیوں نہ پہنچ سکی اسکی بے لاگ تحقیق ضروری ہے اور حفاظتی انتظامات کو تیزرفتار اور مضبوط بنانا حکومت کا فرض ہے تاہم جن لوگوں نے آخر کار انسانی جانیں بچانے کی خدمت انجام دی وہ قابل ستائش ہیں اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر اور شہداء کو اعلی درجات عطا فرمائیں اور آفت زدگان کو اپنی دستگیری سے نوازکر انہیں نعم البدل عطا فرمائیں آمین
موت کے بعد جب انسان کو قبر میں رکھا جاتا ہے، جسم مکمل خاموشی میں رہتا ہے۔
وقت کے ساتھ کیڑے مکوڑے آنا شروع ہو جاتے ہیں اور جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے۔
گوشت آہستہ آہستہ ہلکا ہو کر ہڈیوں سے جدا ہو جاتا ہے۔
دن اور سال گزرتے ہیں جب تک ہڈیاں بھی ٹوٹ کر مٹی میں بدل نہ جائیں۔
یہ یاد دلاتا ہے کہ جسم عارضی ہے اور انسان کی اصل شناخت روح اور اعمال ہیں۔
صرف روح اور اچھے اعمال اللہ کے پاس واپس جاتے ہیں۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جمعیت علماء اسلام کا ڈیجیٹل میڈیا سیل اتنا زیادہ مضبوط، تیز اور منظم ہے۔ حافظ حمداللہ صاحب کے ساتھ دو گھنٹے کا طویل پوڈکاسٹ شام 4 بجے اپلوڈ ہوا،
اور دو گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور ٹویٹر پر نئے انداز میں ایڈیٹ شدہ درجنوں وائرل کلپس دیکھنے کو ملے، اور اب تک تو سینکڑوں کلپس مختلف طریقے سے ایڈٹ ہو کر وائرل ہیں،
مان گئے بھئی جمعیت کے ڈیجیٹل میڈیا سیل کو ، کریڈٹ انجینئر ضیاءالرحمان کو ،اور اُن سے بھی زیادہ بے لوث ایڈیٹرز کو جو بغیر کسی تنخواہ کے اپنی جماعت کے بیانیے کو پھیلانے کیلیے کوشاں ہیں ،
آج ان شاءاللہ، جے یو آئی کے وابستگان کی پروموشن لسٹ بنائی جائے گی۔
اپنا ہینڈلر اس پوسٹ پر کمنٹ کرتے جائیں۔
سب ہینڈلرز کو ایک پوسٹ میں شئیر کیا جائے گا، تب سب احباب فالو اور فالو بیک دیجئے گا۔
آئیں قائدین جمعیتہ کے بیانیےکو ٹویٹر پرمزیدمستحکم کرنےکےلیےایک دوسرےکےدست وبازوبنیں
میں بحثیت ایک پاکستانی شہری پاکستان کی خودمختاری کے لیے شدید تشویش میں مبتلا ھوں اور اس بات کو انتہائ کمزور ھوتی حکومت و ریاست کی علامت سمجھتا ھوں کہ ھم پاکستانیوں کو تیل کے معاھدے کی اطلاع بھی امریکی صدر ٹرمپ سے ملے اور ھندوستان کے ساتھ جنگ بندی کی اطلاع بھی۔
پارلیمنٹ اور صوبوں کو اعتماد میں لیے بغیر اس طرح کے معاھدے قطعاً ملکی مفاد کے معیار پر پورا نہیں اترسکتے جس میں آئین کی رو سے صوبوں کے طےشدہ حق کا مستقبل مخدوش ھورھا ھو۔ ان معاھدات پر فوری طور پر پارلیمنٹ، صوبوں اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے
میں بحثیت ایک پاکستانی شہری پاکستان کی خودمختاری کے لیے شدید تشویش میں مبتلا ھوں اور اس بات کو انتہائ کمزور ھوتی حکومت و ریاست کی علامت سمجھتا ھوں کہ ھم پاکستانیوں کو تیل کے معاھدے کی اطلاع بھی امریکی صدر ٹرمپ سے ملے اور ھندوستان کے ساتھ جنگ بندی کی اطلاع بھی۔
پارلیمنٹ اور صوبوں کو اعتماد میں لیے بغیر اس طرح کے معاھدے قطعاً ملکی مفاد کے معیار پر پورا نہیں اترسکتے جس میں آئین کی رو سے صوبوں کے طےشدہ حق کا مستقبل مخدوش ھورھا ھو۔ ان معاھدات پر فوری طور پر پارلیمنٹ، صوبوں اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے
صدر زرداری کے مدراس بل پر اعتراضات کا معاملہ
بیرونی دباؤ پر مدارس بل پر دستخط نہ کرنا آئین ،جمہوریت ،پارلیمنٹ ،قوم اور اسلام کی توہین ہے ۔اسلم غوری
صدر نے تسلیم کیا کہ چند ٹکوں کے عوض ملکی اور قومی آزادی کو گروی رکھ دیا گیا ہے۔ترجمان جے یو آئی
قوم پوچھ رہی ہے کہ ہماری مساجد اور دینی مدارس کے فیصلے یہودی مالیاتی ادارے کریں گے۔اسلم غوری
صدر اگر دباؤ برداشت نہیں کرسکتے تو انہیں اس عہدے سے باوقار طریقے سے علیحدہ ہوجانا چاہئے ۔ترجمان جے یو آئی
پی پی کی جمہوریت کے لئے قربانیوں کی تاریخ مسخ کی جارہی ہے ۔ترجمان جے یو آئی
آئینی اور جمہوری طریقوں سے حقوق نہیں ملیں گے تو پھر اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے احتجاجی راستے اختیار کریں گے ۔اسلم غوری
جے یوآئی کے پاس اپنے موقف پر مضبوط دلائل ہیں ۔اسلم غوری
دلائل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا تو احتجاج کا جمہوری حق استعمال کریں گے ۔اسلم غوری
ایوان صدر کی وعدہ خلافی پر دینی مدارس اور مذہبی طبقے میں اضطراب پایا جاتا ہے ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
میں اپنے جانثار فورس انصار الاسلام پر کیوں نہ فخر کروں ۔ جن میں جانبازی بھی ہے ۔ بہادری ۔ مستعدی اور عزم کی بلندی بھی ۔ جہاں یہ بلند صفات ہیں وہاں یہ خاکی وردی والے خاک نشین بھی ایسے ہیں کہ اپنے وطن کو صاف رکھنے میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں ۔