اسلام آباد میں مینگل فیکٹر
اسلام آباد میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سردار اختر مینگل کے استعفی اور ان کے دبئی جانے کے چرچے ابھی ختم نہیں ہوئے تھے کہ خضدار سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور سردار شفیق مینگل اسلام آباد پہنچ گئے۔
گزشتہ دس دن سے اسلام آباد میں مقیم سردار شفیق مینگل نے سردار اختر مینگل کی دم توڑتی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنا شروع کر دئے ہیں۔ ایسے وقت میں جب بلوچستان میں 70 پاکستانیوں کے خون میں نہائے لاشے پڑے تھے اختر مینگل نے اپنی روایتی سیاست کے ذریعے سے اس سے توجہ ہٹانے کے لئے سیاست کا وار کیا اور استعفیٰ دے دیا۔
سردار شفیق مینگل نے مختلف ٹی وی انٹرویوز اور میڈیا ملاقاتوں کے ذریعے سے بلوچستان کا ایک نیا رخ پیش کیا ہے۔ سردار اختر مینگل کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کے لئے اسلام آباد میں حامد میر اور بلوچستان میں وزیر اعلیٰ بننے کی حسرت لئے موجود صادق سنجرانی سامنے آئے۔
اسلام آباد میں اس وقت جاری سیاسی کشمکش میں جب ہر بندہ ٹی وی اسکرین پر نظر جمائے بیٹھا ہے، ایک خبر چلوائی گئی کہ حکومت نے صادق سنجرانی کے ذریعے سے اختر مینگل سے ووٹ کے لئے رابطہ کیا ہے، جواب میں اختر مینگل نے دو ہزار مسنگ پرسن مانگ لئے۔
اب اس خبر کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں، اول تو حکومت کو اختر مینگل سے رابطہ کے لئے صادق سنجرانی کا کندھا درکار نہیں،
دوسرا اس خبر کے جاری کرنے سے ہیرو صادق سنجرانی اور اختر مینگل مفت میں بن گئے۔ اور یہی اس خبر کو جاری کرنے کا اصل مقصد تھا اور حامد میر اختر مینگل اور صادق سنجرانی کے پرانے سہولت کار ہیں کیونکہ جب حامد میر کو جنرل فیض کے گٹے گوڈے پکڑنے تھے تو انکے لئیے اختر مینگل کے ذریعے صادق سنجرانی نے سہولت کاری کی تھی اور پھر ایک صحافتی رہنماء کی موجودگی میں ملاقات ہوئی تو مرا ملا بگش ما ترا حاجی ۔
@LoveBizenjo143 اپ ہمیشہ بلوچ سیاست دانوں کے خلاف ٹویٹ کرتی رہتی ہو میں نے اج تک نہیں دیکھا کہ اپ نے ایک ٹویٹ بھی کے پی کے والوں کے خلاف کیا ہو
مثلا علی امین گنڈاپور منظور پشتین