سیاسی مولوی صاحبان جب دوسروں پر تنقید کرتے ہیں تب وہ سیاستدان ہوتے ہیں۔ تنقید انکا آئینی جمہوری حق ہوتاہے۔ جب ان پر سیاسی تنقید کی جائے تب وہ وارثان اسلام بن جاتے ہیں۔ اور تنقید کے خلاف فتوے جاری ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ بھائی ایک طرف ہوجاو۔
Imagine this was Moscow or Beijing? Its not its Holland in the centre of EU values and decency.
A pregnant woman is thrown to the ground, dragged by the hair-
Her husband of course reacted and fought the Police.
@NadeemAfzalChan آپ دونوں حضرات گزارشات کس کے روبرو پیش کر رہے ہیں؟ کیا آپ حکمران نہیں ہیں؟ کیا آپ کے ذمہ ان چیزوں کو متعلقہ فورمز پر اٹھانا ہے یا ہم بےبس عوام کی طرح سوشل میڈیا پر دُکھڑے رونا ہے؟ مَردوں والا کام کریں اور اس نظام کو بہتر بنائیں یا پھر نظام کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں
اگر آپ کے یہ حالات ہیں تو ہم یہ سمجھ لیں کہ ہم بابو لوگوں کے ہاتھوں یرغمال ہو چکے ہیں اور جن کو ہم اپنا نمائندہ بنا کر بابو لوگو کے اوپر بھیجتے ہیں کہ وہ ہمیں ان سے تحفظ اور سہولیات فراہم کریں وہ سب ناکام ہو چکے ہیں ؟
I will never forget the response of the nation at that Jalsa when the Cipher was revealed — as if a mountain had fallen upon us. I was there on that stage, with tears in my eyes.
The pain and sense of betrayal in Imran Khan’s voice were unmistakable.
Yet despite all the denials and propaganda, the nation never doubted him.
And Allah is Al-Haq.
#سائفر_ایک_حقیقت
@PTIofficial@FaisalJavedKhan
#Pakistán
#imrankhanunjustlyjailed
@georgegalloway@DropSiteNews
سائفر اور سازش کا ایک اور اہم رُخ:
وزیراعظم عمران خان کا دورہ روس دراصل پاکستان کے تمام حکومتی اور فوجی سیٹ اپ کی مرضی اور سالوں کی کوشش سے فائنل ہوا تھا
لیکن باجوہ سمیت فوجی قیادت نے امریکہ کو یہ باور کرایا کہ یہ دورہ عمران خان کی ذاتی خواہش تھا
یوکرین پر روسی حملے کے بعد بھی باجوہ نے یہی مشورہ دیا کہ دورہ جاری رکھا جائے - لیکن اسے بھی عمران خان کا فیصلہ بتا کر امریکہ سے رجیم چینج کے لیے حمایت حاصل کی گئی
یوکرین پر حملے کے بعد پاکستان کے تمام اداروں نے نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ سفارتی محاذ کھلا رہے - لیکن باجوہ نے ذاتی طور پر پبلکلی جا کر وزیراعظم عمران خان کی پالیسی کی مخالفت کی
اس کے بعد یورپی یونین کی سفیر نے پاکستان کے مؤقف ہر خط لکھ کر تنقید کی تو عمران خان نے 6 مارچ کو میلسی کے جلسے میں کہا کہ “کیا ہم غلام ہیں؟ بھارت کے مؤقف پر خط نہیں لکھا پاکستان کو خط لکھ دیا”
ابھی تک تحریک عدم اعتماد نہیں آئی تھی
اگلی دوپہر 7 مارچ کی دوپہر کو ڈونلڈ لو پاکستانی سفیر کو بلا کر دھمکی دیتا ہے کہ “اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوتی امریکہ اور یورپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو مزید اکیلا / isolate کر دیا جائے گا-
اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو سب کچھ معاف کر دیا جائے گا”
اس کے ایک دن بعد 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی!!
جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے!
جنرل بابر جیسے تمام جنرل آرٹیکل ۶ کے ٹرائل کے مستحق ہیں۔ جب سے رجیم چینج کیا انہوں نے، اس وقت سے پاکستان پستی کا شکار ہے۔
#سائفر_ایک_حقیقت