پختونخواہ میں یہ پہاڑ تحریک انصاف نے بنوائیں ہیں اور مسلم لیگ ن چالیس سالوں سے ایسے پہاڑ پنجاب میں نہیں بنا سکی ہیں اور مریم نے ڈھائی سالوں میں کسی ایک پہاڑ کا افتتاح تک نہیں کیا ہے
مریم نواز استعفی دو 😂😂😂
اور ناظرین اطالوی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی پاکستانی وزیردفاع کو سرخ قالین بینڈ واجوں سے استقبالیہ دیا گیا لیکن کسی پاکستانی میڈیا نے اس خبر کو کوریج نہیں دی اور اس شاندار جاندار مہمان نوازی کے پیچھے کا راز تلاش کیا تو پتہ چلا کہ 10 مئی 2025 کو ہندوستان کو گھر میں گھس کر مارنے پر آج پوری دنیا پاکستان کو فرشی سرخ سلام پیش کررہی ہے اور اس استقبالیہ کے پیچھے ان شہدا کا خون شامل ہے جنہوں نے مادر وطن کی حفاظت کرتے ہوئے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا
واہ کیا کتی نسل کا نمونہ پالا ہے پاکستان نے،
وطن کی عزت کی بات پر منہ میں زبان نہیں، اور دشمن نے جیسے ہی بھونکا تو اس کے ساتھ مل کر اپنے ہی ملک پر بھونکنا شروع کر دیا
۔ اسی لیے کہتے ہیں نسل کا فرق ہوتا ہے، بدقسمت پاکستان نے ایسے کئی بے نسلے پال رکھے ہیں۔
ایک عمران خان بھی گیا تھا
عالمی فورم پر جس نے وہاں جاکر نوازشریف کی شکایتیں لگائی تھیں اور ایک شہبازشریف ہے
جو پاکستان کا مقدمہ جاندار، شاندار، مضبوط اور منطقی دلائل کیساتھ لڑ رہا ہے، ویژنری لیڈر ایسا ہی ہوتا ہے
میاں صاحب جب آپ نے جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری کو عدالت میں چیلنج کیا، اس وقت آپ نے اس معاملے پر ٹویٹس بھی کیے اور ٹی وی پروگراموں میں بھی ان کی ڈگری کے حوالے سے بات کی۔ اس وقت کسی نے آپ کے خلاف سخت باتیں نہیں کی آپ کو جو درست لگا آپ نے وہی کیا۔
اب جب کیپٹن صفدر نے امجد شاہ صاحب کی ڈگری کے حوالے سے بات کی تو آپ نے انتہائی سخت زبان استعمال کی۔ بہتر ہوتا کہ آپ اس معاملے میں اس حد تک نہ جاتے، کیونکہ یہ کیپٹن صفدر اور امجد شاہ صاحب کا باہمی معاملہ تھا اور انہیں خود ہی اسے حل کرنے دینا چاہیے تھا۔
آپ کی مداخلت کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا میں مزید نمایاں ہوا کیپٹن صفدر تو پچھلے ایک ماہ سے امجد شاہ صاحب کی ڈگری کے حوالے سے باتیں کررہا تھا یہ ہر الیکشن میں اس طرح ہوتا ہے 2021 میں جب احسن بھون صاحب الیکشن لڑ رہا تھا تو اس وقت بھی ان جے مخالفیں نے بھون صاحب کی ڈگری کے حوالے سے باتیں کی مگر احسن بھون صاحب نے اس وقت بھی جسی گالیوں سے جواب نہیں دیا 600 ووٹوں کی لیڈ سے الیکشن جیت کر سب کا منہ بند کیا۔ اس مرتبہ بھی ووٹ کی ہرچی سے جواب دیا جاتا تو کتنا اچھا ہوتا آپ جب اس معاملے میں کود پڑے تو یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا۔ آپ کو اپنے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے تھی۔ آپ شائستہ اور مہذب الفاظ میں بھی تنقید کر سکتے تھے۔ اختلاف رائے اور تنقید ہر کسی کا حق ہے لیکن اس کے لیے اخلاقی حدود کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے تحمل اور بردباری سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت کو ہر لحاظ سے اس کی اوقات بتائی ہے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا اس پانی کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا، اور بھارت کو اس بارے میں کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔
مورخ وزیراعظم کو سلام پیش کرتا ہے جنہوں نے قرآنی آیات سے آغاز کیا اور حرمین شریفین کو ریڈلائن قرار دیا اور کشمیریوں کی آزادی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور غزہ میں جاری نسل کشی پر بھرپور آواز بلند کی اور یہ کسی بھی پاکستانی وزیراعظم کی سب سے بہترین لفاظی ہے
🇵🇰ہمیشہ زندہ باد
چاچو کے ان الفاظ نے فلسطینی وفد کی آنکھیں نم کر دی۔ اور وہ تالیاں مارنے پر مجبور ہو گے۔
جس انسان کا فلسطینی بچوں کے لئے دل اتنا دکھی ھے، وہ بندہ پاکستانی عوام اور بچوں کے لئے کتنا درد رکھتا ہو گا۔ لیکن ملک کی معاشی حالت نے اسے مجبور کر رکھا ھے۔ ان شاءاللہ اچھے دن بھی آئیں گے۔
جعلی ڈگری کا الزام کوئی ایسی بات نہیں جس پر ایسی نامناسب گفتگو کی جاتی۔ بار رومز اور مال روڈ "گندا انڈا گندا خون' احسن بھون احسن بھون" کے نعروں سے گونجتی رہی ہیں اور وہ نعرے وکلاء لگاتے تھے۔ تب آپ نے کتنے وکلاء کو گریبان سے پکڑا تھا؟
افسوس ہوا آپکی گفتگو سن کر @miandawoodadv
بچہ تم نا ایران کونٹرا اسکینڈل پڑھ لو تمہیں اپنے آباء و اجداد کے ایسے ایسے قصے پڑھنے کو ملیں گے کہ منہ چھپاتا پھرے گا کہ یہاں تو 1980 کے بعد امریکہ سے کیا اسرائیل سے بھی تعلقات تھے جو عراق خلاف ایرانڈوز کو اسلحہ بھی دیتے رہے اور امریکہ سے ڈالرز پکڑے
اور ناظرین آج ایک عجیب و غریب وقوعہ رونما ہوا جس کی تفصیل آپ تکر پہنچانی نہایت ضروری تھی اور ہوا کچھ یوں کہ اٹلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیزا بازی کے ایونٹ کا انعقاد ہوا جس میں فرانس سپین اور یورپ کے دیگر ممالک سے ٹیمیں شریک ہوئی چونکہ مورخ کبڈی والی بال کا شوقین ہے اور نیزابازی سے خاص دلچسپی نہیں ہے لیکن ہم نوالے ہم پیالے مورخ کو میدان میں لے گئے اور وہاں گھوڑوں اور گھوڑیوں کی لائن لگی ہوئی تھی اور مورخ بھی ایک تمبو کنات میں کرسی پر بیٹھ کر مالبرو کے سوٹے لگا رہا تھا کہ اچانک یہ اعلان کانوں نے سنا کہ فرانس سے ائے سردار دلجیت سنگھ کی گھوڑی جمائما نے “ کلا “ پُٹ لیا ہے اس پر مورخ فورا سٹیج کے تمبو سے اترا اور سردار جی کی تلاش شروع کردی چونکہ رش بہت تھا بندے اوتے بندہ چڑھا ہوا تھا لیکن مورخ بھی ہجوم کو پھلانگتے ہوئے سردار جی کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ آپکی گھوڑی کا نام کیا ہے جس پر سردار جی نے گھوڑی کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا “ جمائما “ جس پر مورخ نے سر نیم پوچھا تو مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہنے لگے گھوڑوں گھوڑیوں میں سر نیم نہیں ہوتا اور پھر لمی آہ بھری اور کہا اس گھوڑی کے دو بچے بھی اسی ریس میں شریک ہیں اور اس گھوڑی کا کمال یہ ہے کہ اسے کھڑا ہوا کلہ دور سے ایفل ٹاور کی طرح دکھائی دیتا ہے اور آج تک اس گھوڑی نے اپنے کسی سوار کو نہیں گرایا بس ایک مرتبہ ایک اناڑی سوار گر کر لت تڑوا بیٹھا ہے اور اس کے بعد سردار جی کو ان کے گروپ کپتان نے آواز لگائی اور وہ جمائما کی لگام تھامے نظروں سے اوجھل ہو گئے
پتہ نہیں یہ واقعہ آپ کیلئے حیرت کا سامان بن سکا ہے کہ نہیں
حملہ آور افغان شہری تھا جو قانونی طور پر رہ رہا تھا جبکہ ابھی ہماری عدالتیں فیصلہ دے چکی کہ غیر قانونی بغیر ویزے والے افغان بھی واپس نا بھیجیں ان کو پاکستان رکھیں تاکہ وہ پاکستان کے شہروں اور مسجدوں میں پھٹ کر ہمارے بچے مار سکیں اگر کوئی افغان پکڑ لیں تو نسل پرست اسے نسل پرستی کا مسلہ بنا کر احتجاج شروع کر دیتے اخے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے انسانوں پر پھٹنے والوں کے انسانی حقوق ؟ کیسا مذاق ہے
ہمارے یہاں لنڈے کے ارسطو کہتے ہیں کے انکو میڈیکل کالج سے مت نکالو۔ پاکستان میں انکو روزگار کرنے دو، رہنے کو جگہ دو۔۔ یہ کُل افغان ملک کی ذہنیت ہے۔۔۔
پاکستان دشمن ہے یہ بات عوامی سطح پہ ہو رہی ہے۔ افغانستان میں لوگوں کی زیادہ تعداد پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتی ہے.
میرا وطن سب سے مقدم ہے۔۔۔
اور ناظرین جمائما گولڈ سمتھ کا ایک اور جھوٹ پکڑا گیا ہے چونکہ عمران خان کا ہر حمایتی جھوٹ پروپیگنڈہ ڈس انفارمیشن پھیلانے میں یدطولیٰ رکھتا ہے اور یہاں جمائما گولڈ سمتھ خواجہ آصف سے سینگ پھنسانے سے پہلےپچھلے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنا بھول گئی
کوہاٹ میں دھماکہ افسوس ناک ہے،پختون مصیبت میں ہیں،شہید ہورہے ہیں،صوبے کے انتطام جن کے ہاتھ میں ہیں وہ انتشاری لانگ مارچ اور دوسرے صوبوں میں تحریک کے چکر میں فرار ہیں،صد افسوس صوبے کا کوئی وارث نہیں