ضلع خیبر میں عمران خان کے کارکنوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھا لیں، لیکن سہیل آفریدی کے بھائی، کزن اور رشتہ دار سب غائب ہیں۔ جن رشتہ داروں نے کوئی ٹھیکہ نہیں چھوڑا، آج وقت آیا تو کارکن مزاحمت کر رہے ہیں۔ 💔
باہر نکلو، بزدلو! 😡😡😡
آج عرفان سلیم کی جانب سے پشاور ہشتنگری میں پرامن احتجاج کا اعلان کیا گیا، امید ہے سہیل خان اور علی امین گنڈاپور کے دور حکومت میں ٹھیکے، سرکاری گاڑیاں، مفت پٹرول اور مال کمانے والے ISF عہدیداران ہزاروں سٹوڈنٹس کے ہمراہ شرکت کرینگے۔
نر اور دہ خزے بہ اوس پہ میدان پتہ لگی!!!
اس وقت جو گورنر راج کی بات کر رہے ہیں، اس سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے، لگانا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ، بالکل گورنر راج لگانی ہے، یا ایمرجنسی لگانی ہے۔ ویسے بھی صوبائی حکومت اور اسمبلی کا جو مینڈیٹ ہوتا ہے، حکومت کے پاس جو اختیار ہوتا ہے، وہ تو ویسے بھی چھینا گیا ہے، زبردستی چھینا گیا ہے۔ کیا اس طرح ہوتا ہے کہ اراکین اسمبلی اغوا ہوتے ہیں، اس طرح ہوتا ہے کہ پولیس بالکل بے بس ہو جاتی ہے، صوبائی حکومت کے کسی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوتا، احکامات کہاں سے ہوتے ہیں، آرڈر کہاں سے ملتے ہیں؟ ویسے بھی عملاً انہوں نے اپنا راج قائم کیا ہوا ہے۔ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کریں لیکن ایک بات یاد رکھیں، گورنر راج کے لیے جو ماحول بنانا چاہتے ہیں، جو ڈرامہ رچانا چاہتے ہیں، تو بلوچستان میں کیا حال ہے، وہاں کیا ریشو ہے، آزاد کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟ پھر تو پورے ملک میں ایمرجنسی ڈکلیئر کریں گے، ادھر پنجاب میں جو کچے کے ڈاکوؤں کی حکمرانی ہے۔انہوں نے ویسے بھی ماورائے آئین سارے اقدامات کیے ہیں، لیکن گورنر راج شہباز شریف کی حکومت کو فارغ کرے گا، یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماریں گے۔ ہم ہر صورت میں اپنی جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔
”جب کہا جاتا ہے کہ کون بچائے گا پاکستان؟ تو عمران خان نہیں بچائے گا، آپ سب پاکستان کو بچائیں گے۔ آپ میرے ساتھ مل کر اِس مُلک کو آزاد کریں گے۔“
چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
درخواست بنام وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور وزیرِ اطلاعات شفیع جان!
پشاور پریس کلب کے سینئر صحافی ارشد عزیز ملک اور امجد عزیز ملک طویل عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ ارشد عزیز ملک کی جانب سے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور گورننس پر تنقید کی سزا ان کے بھائی امجد عزیز ملک کو دی جا رہی ہے، جو روزنامہ کسوٹی کے ایڈیٹر ہیں، جبکہ ارشد عزیز ملک روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر ہیں۔
محکمہ اطلاعات کی جانب سے صرف روزنامہ کسوٹی کے سرکاری اشتہارات بند کیے گئے ہیں، حالانکہ تنقید کرنا صحافت کا بنیادی حق ہے۔ کسوٹی روزانہ خیبرپختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ کے بیانات و کارکردگی عوام تک پہنچاتا ہے اور اس ادارے سے 26 ملازمین وابستہ ہیں۔
میری وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور وزیرِ اطلاعات شفیع جان سے درخواست ہے کہ روزنامہ کسوٹی کے اشتہارات فوری بحال کیے جائیں۔