یہ کیسا پبلک کو ریلیف ہے عجیب معاملہ ہے حکومت نے جو بائیک والوں کو فیول ریلیف دیا ہے اس کی رجسٹریشن کے لیے بائیکرز جو میسج کر رہے ہیں اس کے پانچ چھ روپے کٹ رہے ہیں
یہ کیا ہوا ؟؟
میسج ہر کٹوتی کیوں ؟؟؟
حالت دیکھیں
ایک دوست بتا رہے ہیں انہوں نے 100 روپے کا بیلنس کرایا 20 روپے کمپنی نے کاٹ لئے فیول ریلیف کی سہولت کے لیے 11 کوششیں کیں ابھی تک رجسٹریشن ہوئی نہیں اب 8 روپے بیلنس رہ گیا ہے مزید کوشش کے لئے مزید بیلنس کرنا پڑے گا
کون لوگ او تساں ؟؟؟
آج پھر فرعون صفت حکومت نے 6 روپے لیٹر اور پیٹرول پانچ لیٹر پیٹرول بڑھا دیا ہے اب ڈیزل کی نئی قیمت 410 روپے اور پییٹرول 380 روپے لیٹر ہو جائے گا اگلے چند دن میں پیٹرول بھی 400 روپے لیٹر ہو جائے گا
عوام مکمل تباہ ہو جائیں گے یہی شہباز شریف کا ایجنڈا ہے
اندازہ کریں ۔۔ جنگ عروج پر تھی 7 مارچ کو پٹرول 266 روپے سے بڑھا کر 321 روپے کیا گیا تو اچانک ملک میں لوگوں نے بچتیں کرنا شروع کر دیں
4 اپریل کو 378 پر پٹرول پہنچ گیا تھا تو لاک ڈاؤن اقدامات اٹھائے جانے لگے ایک دن کے لیے 3 اپریل کو 458 تک پٹرول گیا تھا
اب 371 تک پہنچا چکا وزیر اعظم سکون میں حکومت سکون میں ہے کسی کو کچھ نہیں عوام پر کیا بیت رہی ہے
17 جولائی سے روزانہ بڑھاتے بڑھاتے 60 روپے پٹرول بڑھا چکے ہیں
میں حیران ہوتا ایک سیاسی جماعت کس طرح عوام کی حالت سے اس قدر لاتعلق رہ سکتی ہے ایک تو پیٹرول روز مہنگا کرتے پھر مہنگی ترین بجلی اس پر ہزار ٹیکس اور بل وصول کر کے بھی لوگوں کو بجلی نہی دیتے لوڈ شیڈنگ کرتے ہیں
شہباز شریف اور نون لیگ کی کیا پلان ہیں وہ ووٹ کس سے مانگیں گے ؟
"ہر تین میں سے ایک پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہا ہے، دنیا کے 8 ارب انسانوں کو چینی 100 روپے جبکہ پاکستانیوں کو 200 روپے کلو ملتی ہے تاکہ درجنوں شوگر ملز مالکان کی جیبیں مزید بھری جائیں، پاکستانی معیشت ریورس Robin Hood ہے جہاں غریب سے پیسہ نکال کر بجلی، چینی اور آٹا مافیا سمیت باقیوں کی جیب بھری جاتی ہے، پاکستان میں غربت اور بیروزگاری خدا نے نہیں دی بلکہ ہماری پالیسیوں کا نتیجہ ہے"
ماہر معیشت @SaleemFarrukh@DRTPakistan
پاکستان کی 79 سالہ تاریخ میں کسی حکمران نے پیٹرول کی قیمت میں اتنا اضافہ نہی کیا جتنا شہباز شریف نے کیا ہے پاکستان کے تمام حکمرانوں کے دور میں پیٹرول 150 روپے لیٹر تک پہنچا شہباز شریف نے صرف چار سال میں اسے 365 روپے تک پہنچا دیا شہباز شریف حکومت نے پیٹرول میں 215 روپے اضافہ کیا جو پاکستان کے تمام حکمرانوں کے مجموعی اضافے سے بھی زیادہ ہے اور دعوی یہ کہ ہم تجربہ کار ہیں ہم ملک بہتر چلا سکتے ہیں
گزشتہ چار روزکے دوران ڈیزل کی قیمت میں 44روپے اضافہ کیا گیا۔ایک ساتھ اتنا اضافہ ہوتا تو خبر بنتی لیکن اس اضافے پر زیادہ بات نہیں ہوئی۔ آپ بھی دیکھیں کیسے موجودہ حکمرانوں کو اپوزیشن میں 150کا پٹرول، چینی ، آٹا،مہنگا لگتا تھا،قیمتوں میں دو سےتین گناہ اضافہ ہوچکاہے،اب خاموشی کیوں؟
کوئی محترمہ کو بھیجو بل اور کہو یہ لو جھوٹو اپنا ووٹ
آٹے کی تھیلی بھیجو
کنستر رکھو جاتی امرا کے سامنے
اور کہو یہ لو جھوٹو اپنا ووٹ
کتنے بے شرم حکمران ہیں یہ
پیٹرول مہنگا ہے تو عوامی لاک ڈاؤن لگا ہوا ہے.
معیشت تباہ ہو گئی ہے کیونکہ انویسٹمنیٹ نہیں ہے.
روزگار نہیں ہے اور مہنگائی ڈبل ٹرپل قیمتوں پر ہے.
استاد تنخواہ 15000 جبکہ ستھرا پنجاب والوں کو کئی ماہ نہیں ملتی.
مگر پنجاب میں 2000 ججز کو مہنگی گاڑیاں صرف 250,000/350,000 میں ملیں گی.
تین اپریل کو پٹرول 137 روپے مہنگا ہوا تھا تب آئل کمپنیز کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں آیا تھا ۔۔ اب قیمتیں بین الاقوامی قیمت کے مطابق کرنے پر ان کو مسئلہ ہو رہا ہے
بجلی کے بلوں کی وجہ سے آئیندہ نون لیگ کو پنجاب سے تو کسی نے ووٹ نہی دینا ہے جتنے مرضی اشتہارات دے لو یا راتب خور بھرتی کر لو جس جس گھر میں تباہ کن بجلی بل جا رہے وہ ایسے ایسے طبرے تول رہے کہ لکھنا ممکن نہی ہے
اویس لغاری نے نون کے ساتھ وہ کر دیکھایا جو مشرف کا مارشل لا نا کر سکا
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں زمین بوس ہو چکی ہیں اور برینٹ کروڈ جنگ سے پہلے والی سطح سے بھی نیچے آ گیا ہے، مگر پاکستان میں عوام آج بھی تقریباً 300 روپے فی لیٹر پٹرول خریدنے پر مجبور ہیں۔
حکومت کو موجودہ عالمی قیمتوں کے تناظر میں پٹرول تقریباً 180 روپے فی لیٹر فراہم کرنا چاہیے