کیا اب مولانا کے تنسیخ نکاح کا مقدمہ ہو گا یا پھر کوئی مدرسہ کی زمیں کا کیس نیب میں فائل کیا جاے گا؟ NCCIA کا نوٹس نکلے گا یا پھر انکے کسی بھانجے کو فوجی عدالت سے سزا سنائی جاے گی؟
کیا انکی جماعت کو کسی قاضی سے بین کروایا جاے گا یا پھر پھر انکی کابینہ کے لوگوں کی قطار در قطار پریس کانفرنسز ہونگی جس میں وہ مولانا سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے؟؟؟
ویسے سوال سارے ہی غور طلب ہیں @OfficialDGISPR
ستلج مووی کو انڈیا بھر میں بین کر دیا گیا ہے،
نیٹ فلیکس سے ہٹا دیا گیا ہے،
ستلج مووی 1995ء میں مشرقی پنجاب (انڈین پنجاب) کے سکھوں پر ہوئے ظلم و ستم کے خلاف بنی ہے،
مگر ڈیڑھ منٹ کا کلپ دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ پاکستانی حالات کا عکس ہوں۔
اس سے بڑی زیادتی اور عدلیہ کے لئے باعث شرم بات کیا ہو گی کہ ایک ٹویٹ پر ایمان مزاری کو سترہ سال کے لئے قید میں ڈال دیا۔ کیا کسی کو محض ایک ٹویٹ پر اس کے زندگی کی قیمتی سال ضائع کرنے چاہئیں؟ اس خاتون کے جو پڑھی لکھی ہے غریبوں کی ہمدرد وکیل ہے۔ دنیا میں پاکستان کاایک روشن چہرہ ہے.
عمران خان کی رہائی کے لئے جلد سے جلد PTI لیڈرشپ، سلمان اکرم راجہ ، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس مزاحمتی تحریک کا اعلان کریں۔
اگر نہیں تو عہدے اور مراعات چھوڑ کر استعفی دو
🚨 Repost, copy, post it again
ہم بالکل موروثی ہیں ہم اپنے بھائی کے لیے کھڑے ہوں گے! دو سال سے کھڑے ہیں موروثی ہیں تو کھڑے ہیں.
عمران خان اکیلا نہیں ہے ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں....
ہم خاندان ہیں....اور اسی کو موروثی کہتے ہیں
دکھ ہوتا ہے کہ کبھی صرف آپ کی تقریر سن کر ہم نے آپکو لیڈر لیڈر سمجھ لیا تھا۔
خود تو آپ لوگ کچھ کر نا سکے،ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی اپنی زندگی گزار رہے ہیںاور عمران خان وہاں 8/10 کے کمرے میں سخت گرمی میں اپنی زندگی قربان کر رہا ہے، اب اسکے گھر سے کوئی صرف ریلی کے لئیے باہر نکلا ہے تو آپ کو موروثیت یاد آگئی۔
حد ہے ویسے اتنا خوف۔
آپ لوگوں نے کچھ کیا ہوتا تو عورتوں کو یہ جنگ لڑنی ہی نا پڑتی،چھوڑیں موروثیت۔
کبھی تختی ہٹاتے ہیں کبھی تصویر چھپاتے ہیں۔۔ بھلا ایسے بھی کبھی تاریخ سے نام مٹاۓ جا سکتے ہیں۔ کبھی قانون قدرت کے خلاف بھی چلا جا سکتا ہے۔۔ حقیقت تو یہی ہے کہ وہ اس ملک کی تاریخ کا چمکتا دمکتا ستارہ ہے۔۔ اور رہے گا۔۔ باقی اپنا منہ کسی کو لال کرنا ہے تو شوق سے کرتا پھرے۔
کیا اتنی سی بات کہنے سے ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے کہ یہ ہندوستان کررہاہے؟؟
کیا اس بیان کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ہندوستان کو روکنے میں ناکام ہوگئے ہیں؟؟؟
کیا یہ ٹوٹل سیکورٹی/انٹیلیجنس ناکامی نہیں ہے؟؟
کیا اس بدترین دہشتگردی پر پارلیمنٹ کا مشترک اجلاس بلایا جائے گا؟؟؟
جب حقیقی حکومت کے بجائے فارم 47 کے جعلی حکمران ہونگے تو صورتحال اسی طرح بے قابو رہے گی۔
بلوچستان کا پشتون، بلوچ دونوں بیلٹ میں رٹ آف دی گورنمنٹ ختم ہوچکی ہے۔
خدارا بیانات سے،بلند بانگ دعووں سے آآگے بڑھ کر ملک کو بچائیے ،عوام کو امن دینے کیلئے کوئی حقیقی، ٹھوس، جامع پلان دیجئے۔
سیاسی انتقام، عدالتوں، پارلیمنٹ کو فتح کرنے ،میڈیا اور اختلافی آوازوں کو دبانے سے واپس ہوجائیے۔
کیا پنجاب حکومت نے جرمنی سے 4 بلٹ/بم پروف "Mercedes S-Class Guard" منگوائی ہیں؟کیا 4 گاڑیوں کی تیاری کا کوئی آرڈر پچھلے سال جون 2025 میں دیا گیا تھا؟ان میں سے ایک گاڑی مبینہ طور پر جون 2026میں کراچی پورٹ پر پہنچی دوسری چند دنوں میں آنے والی ہے۔ ایک گاڑی کی قیمت لگ بھگ 25 کروڑ کے آس پاس پڑتی ہے.
@AzmaBokhariPMLN@Marriyum_A@CS_Punjab
متاثرہ خاتون آسٹریڈ گیبرئیل کا 164 کا بیان۔۔!!
میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بنیادی طور پر وہی تھا جو اسٹیفنی نے بیان کیا، تاہم گھر میں قیام کے دوران مختلف واقعات بھی پیش آئے، پہلی رات جب 4 مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے تو اُنہوں نے اُنہیں باندھ کر ایک کمرے میں بند کر دیا، سیاہ لباس پہنے ہوئے ایک شخص نے ان کے جسم کو نامناسب انداز میں چھونا شروع کیا اور کئی مرتبہ چہرے پر مکے مارے، اس شخص نے اُن کے جوتے بھی پہن لئے، بعد میں جب اسٹیفنی کو کمرے سے باہر لے جایا گیا تو سیاہ لباس والے شخص نے اُن کے ساتھ جنسی نوعیت کی زبردستی کی اور اُن کے جسم کو نامناسب انداز میں چھوتا رہا، اس کے بعد رضا ڈار نامی شخص آیا اور کمپیوٹر اور رقم کے بارے میں پوچھا، خاتون نے بتایا کہ کمپیوٹر سبز رنگ کے بیگ میں ہے، پھر وہ کمپیوٹر لے آئے اور رقم اور پاس ورڈ کے بارے میں سوالات کرنے لگے، جب وجہ پوچھی تو مسلح افراد نے اُن کے سر پر زور سے مکا مارا، اس کے بعد اُنہیں دوسرے کمرے میں منتقل کیا گیا، جہاں ایک اور شخص موجود تھا جو دوسروں سے مختلف تھا، اس کے پاس بھی اسلحہ تھا اور وہ انگریزی روانی سے بول سکتا تھا، میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا وہ انہیں قتل کرنے والے ہیں؟، اس شخص نے جواب دیا کہ اگر وہ رقم دے دیں تو انہیں زندہ چھوڑ دیا جائے گا، ورنہ انہیں قتل کر دیا جائے گا، بعد ازاں وہ شخص نیچے چلا گیا اور 3 دیگر افراد کمرے میں آئے، اُن میں سے ایک کے پاس رائفل تھی، اس نے باقی 2 افراد کو میرے پاس رہنے کا کہا، خاتون کے مطابق اس کے بعد سیاہ لباس والے شخص نے دوبارہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی، بعد میں ایک اور شخص بھی کمرے میں آیا، وہ آپس میں صرف اردو میں بات کر رہے تھے، انگریزی استعمال نہیں کر رہے تھے، ہنس رہے تھے اور جنسی تعلق قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، میں نے متعدد مرتبہ انکار کیا، اس کے بعد سیاہ لباس والا شخص اُنہیں دوسری منزل کے ایک دوسرے کمرے میں لے گیا، تھپڑ مارا، خاموش رہنے کو کہا اور پھر ان کے ساتھ زبردستی جنسی زیادتی کی،اس دوران اُنہیں شدید جسمانی تکلیف ہوئی، وہ چیختی رہیں، بعد میں دوبارہ کپڑے پہنائے گئے اور پہلے والے کمرے میں واپس لے جایا گیا، جہاں موجود افراد ہنس رہے تھے اور مسلسل ان سے جنسی مطالبات کر رہے تھے۔۔!!
آپ کی آنکھوں پر ، دل پر ، ضمیر پر کون سے قفل پڑے تھے یا پردے گرے تھے ، جو آپ کو فارم پینتالیس اور ٹی وی اسکرینز پر چلنے والی ہار نظر نہیں آ رہی تھی۔ آپ مان گئے تھے؟
آپکی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ پچھلے سال یہ سوال کرنے والے سینئر صحافی ثنا اللہ ڈان نیوز چینل سے وابستہ تھے۔ اس سوال کے کچھ عرصے کے بعد انہیں ڈان نیوز کی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا ۔
اڑھائی منٹ کی اس ویڈیو میں عمر نزیر کشمیری نے ایجنسیوں کے کالے چینل کا نفرت انگیز پراپیگنڈا تباہ کر دیا۔ غور سے سنیے ہمارے کشمیری بھائی کیا کہہ رہے ہیں۔ باقی ظلم کے شکار ناراض لوگ پاکستان میں بھی سخت شکوے کرتے رہتے ہیں۔
ہو سکتا ہے عمرہ کر کے واپس اکر میاں صاحب لاہور این اے 130 والی سیٹ ڈاکٹر یاسمین راشد کو واپس کر دیں ۔۔
اپ بھی اپنی 3 ماسٹرز کی ڈگریاں عوام کو دکھا دیں ۔۔
میاں صاحب آپکو مری میں ایک حادثے پہ تو افسوس ہے لیکن ادھر کشمیر میں آپکی جماعت کے تعاون سے درجنوں شہریوں کو شہید کر دیا گیا، دو لاکھ سے زائد لوگ دھرنا دیے بیٹھے ہیں پورا کشمیر ایک سیکٹر کمانڈر اور ذہنی مریض پولیس والے کے حوالے ہے۔ کیا آپکو ایک قومی اور سینیر لیڈر ہونے کا ثبوت دیتے ہوے اپنی سوئز یاترا ترک کر کے پاکستان واپس نہیں آنا چاہیے؟؟
آپکو تو فوری طور پہ مظفر آباد جا کر ایک سینیر لیڈر کا کردار ادا کرنا چاہیے! الٹا آپکی جماعت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی کردار جو کے ایجنسیوں کے ایجنڈے پہ ہے اسے بھیج دیتی ہے۔
آپ اکثر پوچھتے ہیں مجھے کیوں نکالا؟ لیکن آپ بھول جاتے ہیں جب جب قوم نے آپ موقع دیا آپ یا تو جدہ یا لندن یا جنیوا چلے جاتے ہیں
سب سے زیادہ آپ اس بات سے آگاہ ہیں کہ آپکے بھائی میں کسی فوجی کو نا کرنے کی ہمت تک نہیں پھر بھی اسے آگے کیا ہوا ہے
چلیں اور کچھ نہیں کم از کم جنیوا سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی ہی کر دیجیے
پرویز رشید صاحب بھی شاید آپ کو اب ایسی باتیں نہیں بتاتے!