تعریفوں کے پل باندھنا تو سنا ہو گا۔ لیکن اس کے نیچے مطلب کی ندیوں کے متعلق نہیں جانتے ہوں گے۔
اب جان گے؟
مبارک ہو آپ کو خوشامد کی پرفیکٹ تعریف یاد ہو گئی ہے۔
عوام اتنی بے ہس ہے کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد میں تو اضافہ چاہتی ہے لیکن جوتے کھانے پر بالکل اعتراض نہیں کرتی ہے۔(ہم زندہ قوم ہیں)
آئ۔پی۔پیز کے بند بجلی گھروں کو نوازنے کی بجائے ان سے بجلی لی جائے اور 200 یونٹ والی پہیلی سے مظلوم صارف کو آزاد کیا جائے۔
بجلی کے بلوں کا حساب تو کوئی افلاطون/ ارسطو بھی نہیں سمجھ سکتا ہے۔ آئی۔پی۔پیز کو نوازنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا جا رہا!
اب ساتھ لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی وقفے وقفے سے دیا جا رہا ہے تاکہ بجلی کی فضیلت سے عوام آشنا رہیں۔
نماز، روزے و دیگر فرض عبادات اس لیے کرنی کہ جنت میں جایا جا سکے۔ لیکن اسی جنت کے سرداروں سے بغض رکھنا بھلا اپنے آپ سے دھوکہ نہیں تو کیا ہے!
#محرم_1448هـ
Absolutely an honest tweet.. problem is deeply rooted in management and bureaucratic setup, only way forward is modernising services by eliminating discretionary powers.. painful but necessary reform..
میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا۔ لیسکو کے ایک پرانے مہربان ceo کو فون کیا کے کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں ۔ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا اور 80000روپے لیے اور مرمت کردیا۔ گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو ادا کردیا۔ رسید کسی نے نہیں دی۔ باقی آپ اندازہ لگا سکتے ھیں ۔ یہ حال ھے کہ ایک سابق بجلی کا وزیر سفارشی ھو اور موجودہ کابینہ کا رکن بھی ھو اسکی سفارش پہ بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا۔ عام صارف کا کیا حال ھو گا۔ رقم کی باقاعدہ ادائیگی ھوئ ھے ۔ لیسکو رسید سے انکاری ھے
نالائق FBR کا بوجھ کب تک پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شکل میں عوام کو اٹھانا پڑے گا؟
وزارت خزانہ اور پاور ڈویزن کی وزارتیں خراب ترین کارکردگی کے باوجود ایک دوسرے کو خراج تحسین پیش کرتی نظر آ رہی ہیں۔ کہ عوام کو کہیں زیادہ ذلیل کر سکتے ہیں مگر پھر بھی ہم فلاں فلاں احسان کر رہے ہیں۔
مین سٹریم میڈیا پر نہ سہی مگر جس طرح سوشل میڈیا خصوصا X پر سابقہ و موجودہ حکومتی عہدیداروں کے بڑے بڑے مالیاتی سکینڈلز سامنے لائے جا رہے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ کھچڑی کو پکنے کے لئے باقاعدہ چولہے پر چڑھا دیا گیا ہے۔
موکلین کے بقول ایرانی قیادت خصوصا سپریم لیڈر کے مطالبے پر مرشد ان سے خود فزیکلی فیس ٹو فیس بات کر کے معاہدے کو حتمی شکل دینے گے ہیں۔
#حافظ_قوم_کا_محافظ
خواجہ آصف کا ٹویٹ X نے اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر ڈیلیٹ کیا۔ انہوں نے اسرائیل کو "انسانیت کا لعنت" اور "evil" قرار دیا تھا، جو پلیٹ فارم کے قواعد (جیسے نفرت انگیز مواد) کے تحت نہیں چلتا۔ اسرائیل کی طرف سے شدید ردعمل اور رپورٹس کے بعد یہ ہٹایا گیا۔ ان کا فیس بک پوسٹ اب بھی موجود ہے۔ X خودمختار طور پر ایسے مواد کو ہینڈل کرتا ہے۔