رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے۔ (صحیح بخاری، ۱۸۹۴)
اپنے نفس اور شیطان کے شر سے پناہ کی دعا
أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ
( اے اللہ ) میں اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں شیطان کے شر اور اس کی دعوت
ِشرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
{جامع ترمذی۔۳۳۹۲}
عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول الله ﷺ جب کسی پسندیدہ چیز یا کام کو دیکھتے تو فرماتے
*اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ*
تمام تعریفات اس اللہ سبحانه کے لئے جس کے نعمت سے اچّھے کام پورے ہوتے ہیں
السلسلہ صحیحہ حدیث ٢٨٨٧
المستدرك على الصحيحين ١٧٧٣ -حسن
للبيهقي ٤٠٦٠ - حسن
@QalaRasulullah سبحان اللہ
بیشک اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ وہ انسان کو تخلیق کرنے والا ہے اور ایک بنانے والا ہی اپنی بنائی ہوئی چیز کے متعلق صحیح جانتا اور انسان کی زندگی کے سفر میں صحیح معنوں میں راہنمائی کر سکتا ہے جیسا کہ خالق حقیقی نے فرمایا
" کیا وہ نہ جانے گا جس نے بنایا"
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۱؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ۲؎، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے“۔
سنن نسائی جلد ۲ ۱۳۷۲ صحیح
تم میں سے کوئی چپکے سے بات کرے یا زور سے، کوئی رات کے وقت چھپا ہوا ہو، یا دن کے وقت چل پھر رہا ہو، وہ سب (اللہ کے علم کے لحاظ سے) برابر ہیں۔
﴿سورۃ الرعد، ۱۰﴾
سب سے اچھی بات کتاب اللہ اور سب سے اچھا طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور سب سے بری نئی بات (بدعت) پیدا کرنا ہے(دین میں) اور بلاشبہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ آ کر رہے گی اور تم پروردگار سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔
(صحیح بخاری، ۷۲۷۷)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ عشاء اور فجر کی نماز میں کتنا اجر ہے، تو وہ ان کے لیے گھسٹتے ہوئے بھی حاضر ہوں گے
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 615)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لعنت فرمائی ہے
گودنا گودنے والی، گودوانے والی، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی، اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
(سنن نسائي - 5102)