دونوں ممالک میں اب اسکرپٹ رائٹر بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہر اختلاف کرنے والے پر "بیرونی فنڈنگ" کا پرانا اور گھسا پٹا الزام اب نئی نسل کو متاثر نہیں کرسکتا ۔۔اور نہ خوفزدہ۔۔
مودی کے زوال کا آغاز ہوگیا ۔ انڈیا ایک بڑی تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے اور نوجوانوں کا انقلاب اس ظالمانہ برطانوی نوآبادیاتی نظام کو بہا لے جائے گا ۔ انڈیا میں مثبت تبدیلی کے پورے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے
انڈیا میں نوجوان انقلاب لے آئے،
نوجوانوں کو کاکروچ کا لقب سپریم کورٹ کے ایک دلال جج نے دیا جسے انڈین نوجوانوں نے دل پر لے لیا،
اور آج دیکھ لیں بھارتی فوجیوں کو بھی جوتیاں مار کر نوجوانوں نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔
عوام ہی کسی ملک کی مالک ہوتی ہے نا کہ سرکاری دلے۔
یہ بے شرم نورین نیازی پر تنقید کر رہے ہیں۔ ذرا یہ انٹرویو بھی دیکھیں، جو نواز شریف نے بھارتی میڈیا کو دیا تھا، جس میں اس نے پاک فوج کے خلاف زہر اگلا تھا۔ دونوں کو ملا کر دیکھیں، پھر فیصلہ کریں کہ اصل منافقت کس کی ہے۔
🚨🚨انڈین نوجوان نسل انٹرنیشل میڈیا کی لوگوں کو بتا رہے ہیں ۔
سٹوڈنٹ پوری تیاری سے دہلی ائے ہیں ۔اور رکاوٹیں توڑتے ہوئے پہنچ رہے ہیں ۔
ہمارے ہاں انٹر نیشنل لوگوں کو ملنے ہی نہیں دیا جاتا ۔اور پی ٹی آئی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہوتی ہے کوئی پریس کانفرنس کرے ۔
بھارت میں طالب علموں کا احتجاج ساری رکاوٹیں توڑ کر پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گیا ادھر ہمارے ہاں کسی سے راوی پار نہیں ہوتا تو کوئی 12 ضلعے پھلانگ کر گھر پہنچ جاتا ہے
مگر ۔۔۔
احتجاج کا رخ کبھی صحیح سمت میں شروع ہی کوئی نہیں کرتا
سب فیک ہے
مولانا فضل الرحمن کے سامنے تو ان سب کی سیٹی گم ہے۔ سارا زور اب نورین نیازی کے بیان پر لگایا جارہا ہے۔ وہ ایک خاتون ہے۔ساری عمر اس نے گھر کے اندر گزاری ہے۔اسے سیاست کا کیا علم ہے۔ میرا اپنا بھی ان سے اختلاف ہے۔عمران خان سے میرا اختلاف ہے۔نورین کی عمر ستر سال ہے۔ آپ نے اس کا اکلوتا بھائی اور اکلوتا بیٹا دس سال کے لیے جیل میں ڈال رکھا ہے۔ کیا وہ مشین کی بنی ہوئی ہے۔ وہ بھی گوشت پوست کی انسان ہے۔
سینئر تجزیہ کار حفیظ نیازی کا اپنی بیگم صاحبہ کے متنازعہ بیان کے حوالے سے ایک سخت اور جذباتی تبصرہ
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/NwDcNBm5Oh via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@NasrullahMalik1@RabeeaSK@hafeezullah_k
’میری بیٹی کو اپنے گاؤں کے بچوں کے مستقبل کی بڑی فکر رہتی تھی کیونکہ پورے علاقے میں ایک بھی سکول نہیں تھا۔ اس نے اپنی جمع پونجی سے گھر کے سامنے جھونپڑی بنا کر خود ہی بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ گذشتہ تین برسوں میں جھونپڑی نما سکول کے بچوں کی تعداد تین سو تک پہنچ گئی تھی، لیکن آج یہ سب بچے ایک بار پھر تعلیم سے محروم ہوگئے۔‘
یہ الفاظ بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے گیشکور کی رہائشی 22 سالہ نجمہ کے والد دلسرد بلوچ کے ہیں جن کی بیٹی نے 15 مئی کو گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی تھی ۔
دلسرد بلوچ کہتے ہیں کہ ان کی بیٹی کو اپنی جان لینے پر مجبور کیا گیا۔ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے۔ انہیں لیویز اہلکار اور ان کے دو ساتھی ہراساں کررہے تھے۔ ’میری بیٹی نے اپنی اور خاندان کی عزت بچانے کے لیے جان دی۔‘
میرے وطن میں اس طرح کے بے شمار واقعات ہر ہفتے رونما ہوتے ہیں مگر میڈیا پہ آنے سے پہلے ہی قصۂ پارینہ بن جاتے ہیں۔
اگر حالات اسی طرح چلتے رہے
تو مظلوموں کی آہیں سسکیاں اس ملک کو
کبھی پھلنے پھولنے نہیں دیں گی ۔
خدارا معصوم خاندانوں کو اُجڑنے سے بچا لیں ۔ 😭😢🙏
نوٹ :- یہ سچّا واقعہ 2023 کا ہے
دوبارہ شئیر کرنے کا مقصد صرف اس غاصب نظام ، عصبیت کو آئینہ دکھانا ہے ۔
اس نوجوان کو اپنا نام ساجد یاد ہے۔
ساجد کا کہنا ہے کہ میں چار یا پانچ سال کا تھا جب اپنے گھر کے باہر سے اغ*واء ہوا تھا۔
ساجد کا کہنا ہے ہم فلیٹ میں رہتے تھے۔میں ماں باپ کا اکلوتی اولاد تھا۔
امی نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ بیٹا نیچے مت جانا کوئی اٹھاکر لےجائےگا۔میں چیز لینے کے لئے لفٹ کے ذریعے نیچے اترا کسی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اسکے بعد مجھے ہوش نا رہا۔ جب ہوش میں آیا تو ٹرین میں تھا۔
وہ شخص مجھے لاہور لایا۔لاہور میں ایک جگہ رکھا تھا وہ ن*شہ کرتا تھا مجھے بہت مارتا تھا،مقامی لوگوں نے میری حالت دیکھ کر مجھے اس شخص سے چھین لیا۔
کسی فیملی نے اپنا بیٹا بنا لیا۔ پھر ان کے بعد مزید دو فیملیز نے رکھا۔ ابھی میں 23/24 سال کا ہوں۔میری شادی ہوچکی ہے۔ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں۔ امی ابو کی یاد نے مجھے کھوکھلا کردیا ہے۔ خدا کے لئے مجھے میرے گھر سے ملوائیں۔
ساجد کا کہنا ہے کہ مجھے لوگوں نے بتایا کہ تم جب شروع شروع میں آئے تھے بہت صاف شفاف اردو بولتے تھے۔ شاید میں کراچی سے ہوں۔
صاف اردو اور فلیٹ میں رہائش ممکن ہے کراچی سے ساجد اغو*اء ہوا ہو۔
لیکن یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی کا ہی ہو۔ جسکی وجہ سے ہمیں صرف کراچی نہیں پاکستان بھر میں اس پوسٹ کو پھیلانا ہے تاکہ ملک کے جس کونے میں ساجد کے خاندان والے پوسٹ دیکھیں تو رابطہ کریں۔
بچپن کی جو تصویر ہے یہ لاہور آنے کے ایک ساتھ بعد کی ہے امید ہے گھر والے پہچان لیں گے۔
شئیر کریں اور ڈھیروں نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
21 july 2026
#waliullahmaroof
ڈی ایچ کیو اوکاڑہ اور ٹی ایچ کیو رینالہ خورد میں درجہ چہارم کے ملازمین کا تین ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج
ہماری 37 ہزار تنخواہ ہے جس میں سے صرف 25 ہزار ملتا ہے اب وہ بھی نہیں مل رہا۔ ملازمین
اب تو نون لیگ کے اپنے رکن اسمبلی امجد علی جاوید بھی شرمندہ کر رہے کہ ایم اے ایم ایس سی کرنے والی بچیوں کو 8ہزار تنخواہ دے رہے یہ تو اس اسمبلی کے بنائے کم سے کم اجرت والے قانون کے بھی خلاف ہے
وزیرتعلیم کوئی شرم کوئی حیا ؟
آٹھ ہزار تنخواہ مذاق ہے
🚨انڈیا کی نوجوان نسل کالروچ پارٹی بنا کر دہلی کا گراؤ کر رہے ہیں ڈر اتنا پارلمنٹ کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں ۔راستے بند کیے جارہے ہیں ۔
بات وہی ہے عوام ایک ہو کر نکلے تو یہ چور بھاگ جاتے ہیں ۔
پاکستان کی نسل کب جاگے گی یا چھتر ہی کھاتی رہے گی ۔