🔴 میں آج ایک بھاری دل کے ساتھ اپنی زندگی کے ایک نہایت تکلیف دہ باب کو آپ سب کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔
میری پیدائش آج سے 37 سال پہلے پاکستان میں ہوئی۔ میری پوری زندگی وہیں گزری۔ میں نے ہمیشہ خود کو ایک ذمہ دار شہری سمجھا، اور بطور ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہمیشہ ظلم، ناانصافی اور جرائم کے خلاف آواز بلند کی اور عام لوگوں کے حقوق کی بات کی۔ میری زندگی کا مقصد کبھی ذاتی فائدہ نہیں تھا بلکہ سچ کہنا اور اپنے ضمیر کے مطابق کھڑے رہنا تھا۔
میں نے اپنی پوری زندگی محنت اور ایمانداری سے گزاری۔ نہ کسی حکومت سے کوئی سہولت ملی، نہ کسی ادارے سے کوئی مدد حاصل ہوئی۔ میں نے اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت صرف اپنی محنت سے کی، قدم قدم پر مشکلات برداشت کیں، مگر ہمیشہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھا اور اسی کو اپنی شناخت جانا۔
مگر جس طرح میرے خاندان کو پہلے پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، اور بعد میں جس انداز سے مجھے بھی ا��غانستان ڈیپورٹ کیا گیا، وہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ اور ناقابلِ بیان تجربہ تھا۔ اپنی پوری زندگی کی محنت، کمائی، یادیں، اور بنائی ہوئی بنیادیں سب کچھ پیچھے چھوڑ کر خالی ہاتھ نکلنا میرے لیے ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔ 💔
یہ کہنا آسان ہے کہ پہلے ہی پاکستان چھوڑنے کا کہا گیا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے لیے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ میری زندگی کا سب سے مشکل اور تکلیف دہ فیصلہ تھا۔ میری پیدائش، میری پرورش، میری جدوجہد، میری یادیں—سب کچھ پاکستان سے وابستہ تھا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن مجھے یوں سب کچھ چھوڑ کر جانا پڑے گا۔
میں نے پہلے اپنے خاندان کے ساتھ ہونے والے رویے کا ذکر کیا تھا کہ کس طرح انہیں بے دردی کے ساتھ پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ لیکن میرے ساتھ آخری ایک م��ہ کے دوران جو کچھ ہوا اور جس طریقے سے مجھے پاکستان سے نکالا گیا، وہ میں فی الحال پاکستانی عوام کی عزت اور احترام کی خاطر بیان نہیں کرنا چاہتا۔ 🙏
اب جو کچھ ہو چکا ہے، اسے میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ بھی اللہ پر چھوڑ دیا، اور اب ایک نئے ملک میں نئی زندگی شروع کرنے کا معاملہ بھی اسی کے حوالے ہے۔ اللہ بہترین رزق دینے والا ہے اور اسی پر ہمارا یقین ہے۔ 🤲
میری صرف ایک آخری اور بنیادی خواہش ہے کہ میں نے پاکستان میں جو کچھ اپنی محنت سے بنایا، کم از کم مجھے یہ حق دیا جائے کہ میں اسے close کر سکوں یا اپنی محنت کا حاصل اپنے ساتھ لا سکوں۔ خالی ہاتھ افغانستان آ کر نئی زندگی شروع کرنا میرے لیے بے حد مشکل ہے، خاص طور پر اس وقت جب میرے ساتھ میرا خاندان اور میرے بچے ہیں، اور یہاں نہ اپنا گھر ہے، نہ کاروبار، نہ کوئی مستقل آمدن۔
میری حکومتِ پاکستان سے صرف اتنی گزارش ہے کہ مجھے اتنی اجازت دی جائے کہ میں پاکستان میں اپنی چھوڑی ہوئی محنت اور معاملات کو قانونی طور پر مکمل کر سکوں۔ یہ میرا بنیادی حق ہے، اور مجھے امید ہے کہ اس انسانی اور جائز درخواست پر غور کیا جائے گا۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور ہمیں عزت اور سکون کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔ 🤍
I love this video of Khan Sahab. A simple cake you'd find in your neighborhood bakery. Cuts it, takes his piece, picks the part that fell on the table, and he's already finished it by the time the camera pans back to him.
Nothing extravagant. From the people, for the people.
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
When Barrister Salman Safdar submitted IK’s medical report to the SC, tears welled up in my eyes.
IK covered one of his eyes with his hand and looked at Salman Safdar with the affected eye, saying, “Salman, I cannot see you.”
He has lost 85% of his vision.
– Aleema Khan
The treatment of Imran Khan at the hands of the Pakistani government is an international outrage.
Today Peers across the House urged the UK Foreign minister to step up
@ImranKhanPTI
سلیمان اور قاسم عمران خان کے بیٹے برطانوی شہری ہیں۔ وہ اپنے والد سے ملنا چاہتے ہیں۔عمران کو عدالتی احکامات کےباوجود میڈیکل کییر نہیں ملی۔میں نوبل لیڈی سےدرخواست کروں گاکہ عمران کے بیٹوں کی ان سےملاقات کیلئے اپنے آفس کا استعمال کریں۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ طارق کی حکومت سے اپیل
🚨دو ٹوک
ہمیں کوئی آفر نہیں کروائی گئی ہمیں صرف ایک یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال لے جایا جائے گا اور وہاں فیملی اور ذاتی معالجین ساتھ ہوں گے
یہ یقین دہانی پی ٹی آئی کی طرف سے آئی تھی اور اس کے بعد کوئی بات نہیں ہوئی، علیمہ خان
🚨
ایک مرتبہ پھر سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں، فیملی اور ذاتی معالج کو آگاہ کیے بغیر ان کی غیر موجودگی میں دوسرے انجیکشن کے لیے رات کے اندھیرے میں چھپ کر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا جہاں عمران خان کی آنکھ کے علاج کے لیے متعلقہ ڈاکٹر اور سہولیات ہی موجود نہیں ہیں، جبکہ ہسپتال انتظامیہ کی پریس ریلیز کو عسکری و راتب خور صحافیوں کے زریعے جاری کیا گیا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش مزید بڑھ گئی ہے یہ کیا چھپانا چاہ رہے ہے؟
پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں شفٹ کر کے ان کے ذاتی معالج کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں علاج کروایا جائے اور یہ ان کا قانونی اور آئینی حق ہے۔
#ShiftKhanToShifaInternational
ساؤتھ افریقہ کے بڑے اسلامی اسکول گروپ کے CEO شیخ سعداللہ
نے جمعہ کے خطبہ میں عمران خان کے ساتھ ہو رہے غیرانسانی سلوک پر بھرپور آواز اٹھائی
اور
پاکستان کے علما کی غیرت جگانے کی ناکام کوشش کی
۔
“کہتے ہیں بطور سیاستدان نہیں تو بطور دنیا کے بہترین سپورٹس سلیبرٹی کی ہی لاج رکھ لو”
I have kept in touch with Imran Khan over the years. When I asked him why he was getting involved in politics, his exact words were, 'I want my country to be the country it can be.'
-Greg Chappell on Imran Khan
عمران خان ڈیل کیلئے تیار نہیں اور حکومت ان کی شرائط پورا نہیں کر سکتی۔ عمران خان سے دو دفعہ ابھی تک سنجیدہ مذاکرات کی کوشش کی گئی، ایک دفعہ علی امین اور محسن نقوی کے ذرایعے 26 نومبر دے پہلے اور بعد میں ،دوسری دفعہ دسمبر 2024 میں بیرون ملک سے آئے لوگوں نے کی، رانا ثناءاللہ
ہمیں بے وقوف بنانے کی کوشش نہ کرے!
اگر خان صاحب کی صحت بالکل ٹھیک ہے جیسا کہ حکومت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے، تو پھر ان کی فیملی کو ان سے ملاقات کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟
ان کے ذاتی معالجین کو ان سے ملنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟
Stop playing with the life of #ImranKhan !
It takes so much for a person like Imran Khan to bring something about himself. For all we know, he has always put himself on the very last but now telling his sisters that his health isn't okay is something which shouldn't be taken lightly. This is really concerning.
جیل قوانین کے مطابق جیل میں قیدی ہفتہ وار پی سی او سے اپنے اہلخانہ سے بات کرسکتے ہیں اور 5 لوگوں سے مل سکتے ہیں،جیل میں واحد قیدی عمران خان ہے جس کو یہ سہولت بھی میسر نہیں ہے۔
It is deeply shocking and irresponsible that a respected newspaper like Dawn published a planted report from a FAKE account falsely attributed to Noreen Niazi on its front page, without any verification from her. This raises extremely serious concerns for us and further undermines our trust in the government’s intentions and the information being circulated. Please note that my sister’s real account on X is @Noreen_KhanPK , please report all other accounts as they are all fake.
Our position has been clear and consistent. Imran Khan must be urgently admitted to Shifa International Hospital (Islamabad) for proper examination and treatment. His personal doctors have already provided the government with several acceptable specialist options. Any tests and treatment are only acceptable to our family if conducted in the physical presence and supervision of his personal doctor, Dr Asim Yusuf and Dr Nausherwan Burki representing the family. We had previously nominated Dr Uzma Khan to represent our family, but we were informed that none of Imran Khan’s sisters would be allowed to be present. Therefore, we have complete faith and trust in Dr Nausherwan Burki, who is like an elder brother to us, to represent our family.
It is extremely concerning and unacceptable that the government is resisting the presence of Imran Khan’s personal doctor and family representative during his examination and treatment. Without the physical presence of both his personal doctor and family representative, we categorically REJECT any claims made by the government regarding his examination, treatment, or medical condition.