ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر۔
3 مارچ 1924ء کو تاریخِ اسلامی کا وہ اندوہناک حادثہ پیش آیا جب خلافتِ عثمانیہ شکست و ریخت کا شکار ہوگئی۔ حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی وہ اجتماعیت جو قریباً 1300 سال تک کسی نہ کسی شکل میں قائم رہی تھی اپنوں کی نادانی اور غیروں کی سازشوں کے باعث زمین بوس کر دی گئی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں کی اجتماعیت قائم رہی، طاغوتی قوتوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا باقاعدہ جواب دیا جاتا رہا۔ جس دور میں خلافتِ عثمانیہ حالتِ نزع میں تھی تب بھی اتنی طاقت اور غیرت تھی کہ یہودی فلسطین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ کر سکے۔ گویا اپنے آخری دور میں بھی خلافت عثمانیہ نے حرمتِ قرآن، ناموسِ رسالت ﷺ اور حرمتِ مسجد اقصیٰ پر چاق و چوبند رہ کر پہرہ دیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل کی بنیاد اُس وقت پڑی جب خلافتِ عثمانیہ کو ختم کر دیا گیا۔ اُس کے بعد امتِ مسلمہ قومی ریاستوں میں بٹتی چلی گئی اور مسلمانوں کی ہوا اُکھڑ گئی۔
تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر اُستوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر!
#Khilafah
#GazaGenocide
#IsraelIsATerroristState
#Islam
#Pakistan
3 مارچ 1924 تا 3 مارچ 2024
خلافت کے خاتمہ کے ایک سو سال !
امت مسلمہ کی کمزوری اور ذلت کے ایک سو سال !
طاغوت اور اسلام دشمنوں کی طاقت اور غلبے کے ایک سو سال !
وجہ:
خلافت کے بغیر عزت اور طاقت نہیں مسلمان کیلئے۔
ایک لمحہ فکریہ !
اللہ ہمیں اپنے حصہ کا کام کرنے کی توفیق دے اور اہل فلسطین کی نصرت فرمائے۔ آمین۔
انتخابات اور پھر PSL نے ہماری قوم کو اپنے اندر اتنا ملوث کردیا ہے کہ ہم فلسطین میں جاری نسل کشی کو بھول گئے ہیں۔
رفاح میں اسرائیلی درندگی پر مسلمان ممالک کی مجرمانہ خاموشی انتہائی شرمناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کا پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا فلسطینی مسلمانوں کے مسلسل قتل عام پر گواہ ہے۔ صیہونی فوج گزشتہ چار ماہ سے غزہ میں قیامت ڈھا رہی ہے۔ میڈیا میں بتائے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں صیہونی بمباری سے 29000 سے زائد شہادتیں ہو چکی ہیں، جن میں اکثریت بچوں، عورتوں اور بوڑھوں پر مشتمل ہے ۔ 80000 سے زائد افراد شدید زخمی ہیں اور تقریباً اتنے ہی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ غزہ کے سکولوں، ہسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری جاری ہے ۔ 80 فیصد گھر تباہ کر دیے گئے ہیں اور غزہ کی آبادی کا ایک بڑا حصہ شدیدموسم میں کھلے آسمان تلے موت کا انتظار کر رہا ہے ۔ مسلمان ممالک کے حکمرانوں اور مقتدر طبقات کی دینی غیرت اورحمیت کا تقاضا ہے کہ اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کریں اوریہ نہ بھولیں کہ اگر خدانخواستہ سقوطِ غزہ کا سانحہ رونما ہوگیا تو اسرائیل کا اگلا نشانہ مسلمان ممالک ہی ہوں گے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ وہ روزِ قیامت اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور مسلمان ممالک کے سربراہان کو صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی عطاء فرمائے ۔ آمین!
#GazaGenocide
#RafahUnderAttack
#ısraelCriminalWar