ڈاکٹر عامر عزیز نہ صرف ایک ممتاز معالج ہیں بلکہ ایک باعمل مسلمان اور محبِ وطن پاکستانی بھی ہیں۔ وہ ہڈیوں کے عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر ہیں اور غریبوں کے لیے خصوصی دردِ دل رکھتے ہیں۔
پیغام سن کر آگے ضرور پہنچائیں۔
@Dr Amir Aziz
@Ghurki_Trust
مولانا نے طارق جمیل کے پیر کپتان کی پوری گاڑی کھول کے رکھ دی آپ ریاست مدینہ کے نعرے پہ خوش ہیں پہلے اس نعرے کو کھول کے تو دیکھیں وہ اس ریاست مدینہ کی بات کرتا ہے جس میں منافق یہودی اور مسلمان ساتھ رہتے تھے وہی یہودی جو مسلمانوں کے بیچ آستین کا سانپ تھے ۔۔۔۔
یہ یقیناً گلبرگ کا امتیاز سٹور ہوگا کیونکہ یہ کراچی کے کاروباری ہیں اور ان کو عادت کراچی کی لگی ہوئی ہے پیسے دو جان بچاؤ جو مرضی عوام کے ساتھ کرو لیکن یہ بھول گئے یہ سندھ نہیں پنجاب ہے یہاں مرتضیٰ وہاب نہیں سلمہ بٹ صاحبہ مریم نواز کی ہدایات پہ کام دیکھ رہی ہیں ۔۔۔۔
تکبر کا انجام
سلیم صافی
سادہ لوح لوگ پاکستانی ، عمران خان کو سیدھا سادہ سیاستدان سمجھتے تھے لیکن 1996میں میری یہ رائے بنی کہ وہ پاکستان کے چالاک ترین سیاستدان ہیں۔ ایک ایسے سیاستدان جن کے سینے میں دل نہیں، جو سراپا دماغ ہیں، جو سراسرخواہشات ہیں، جو دیگر سیاستدانوں کے تین چہروں کے برعکس چار چہرے لئے پھرتے ہیں اور جس کو جو چہرہ دکھانا چاہتے ہیں، دکھا دیتے ہیں۔ میری یہ رائے دور طالب علمی میں ان کو قریب سے دیکھنے کے بعد قائم ہوئی تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ بدلنے کی بجائے مزید پختہ ہوتی گئی۔ لوگ انہیں رحم دل لیکن میں سفاک ترین انسان سمجھتا رہا۔ لوگ انہیں سادگی کا نمونہ سمجھتے رہے لیکن میں انہیں تکبر کا مجسم پہاڑ سمجھتا رہا۔ لوگ انہیں انسانیت کیلئےتڑپنے والا قرار دیتے رہے لیکن میرا یقین رہا کہ ان کی سوچ ذات سے شروع ہوتی اور ذات پرہی ختم ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو مغرب کا مخالف مشہور کر رکھا تھا لیکن مجھے یقین تھا کہ انہیں مخصوص مغربی طاقتوں نے لانچ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چوبیس سال کے دوران میری صحافت ان کے بارے میں تنقید سے عبارت رہی ۔ انہوں نے خود بھی کوشش کی اوردرمیان میں کئی لوگ بھی پڑے کہ ہماری دوستی ہوجائے لیکن چونکہ میرا دل میرے دلائل کے ساتھ کھڑا تھا ، اسلئے مختلف شکلوں میں قیمت ادا کرنے کے باوجود اپنی رائے نہ بدلی۔ میرے بعض ساتھی تو کچھ برسوں سے گالیاں کھارہے ہیں لیکن میں گزشتہ بیس سال سےگالیاں برداشت کررہا ہوں۔ وہ پاکستان کی مقبول ترین سیلیبرٹی اورسیاستدان ہونے کے ناطے ٹی وی اینکرز کے شوز کی ریٹنگ کا موجب تھے لیکن 2012 میں ایک انٹرویو کے علاوہ انہوں نے پھر کبھی میرے سامنے بیٹھنے کی ہمت نہیں کی۔ 2010 کے بعد وہ مغربی طاقتوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی جرنیلوں کا پروجیکٹ بھی بنے تو مجھے ان جرنیلوں کے قہر کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ان کے سرپرست جرنیلوں نے میرے خلاف مختلف حربے استعمال کئے۔ ایک جرنیل تو اس حد تک گرے کہ 2014کے دھرنوں میں عمران خان کی شہہ پر مختلف خواتین کے ذریعے میرے ہنی ٹریپ کے منصوبے بھی بنائے۔ یہ جرنیل صاحبان کبھی مجھے پیار سے رام کرنے کی کوشش کرتے رہے اور کبھی دھمکیوں سے ۔ 2018 میں عمران خان کو اقتدار دلوانے کیلئے الیکشن کے نام پر فراڈ کا آغاز ہوا تو میں ان چند صحافیوں میں سے ایک تھا جو مزاحم بننے کی کوشش کرتے رہے ۔ چنانچہ میں بھی ان کے سرپرست جرنیلوں کے نمبرون نشانوں میں شامل ہوگیا۔ الیکشن ٹرانسمیشن سے اٹھوایا گیا اورمیں گھر سے اٹھائے جانےکیلئے حملے سے لے کر (واضح رہے کہ اس میں میرے سیکورٹی گارڈ شدید زخمی ہوئے ۔ اس کی ایف آئی آر اس وقت سے درج ہے لیکن عمران خان کے پورے اقتدار سے لے کر آج تک رتی بھر پیش رفت نہیں ہوئی) جنگ اور جیو کے مالکان پر میرے معاملے میں بدترین دبائو اور سنسرشپ جیسے حربے برداشت کرتا رہا۔ اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان نے پہلے ہفتے میں خفیہ اداروں اور ایف بی آر وغیرہ کو میرے خلاف متحرک کیا اور میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ صحافیوں میں سرکاری سطح پر اگر کسی کی ٹرولنگ پر سب سے زیادہ سرکار کا پیسہ خرچ ہوا تو وہ یہ عاجز ہی تھا۔ اس عمل میں کئی دوست بھی دشمن بنے لیکن اللہ گواہ ہے کہ میں بقا کی اس جنگ کو پوری خوش دلی کے ساتھ لڑتارہا کیونکہ میرا ضمیر مطمئن تھا اور میں ان کے بارے میں اپنی رائے پر ایمان کی حد تک یقین رکھتا رہا۔ کبھی فریاد کی اور نہ کبھی اپنا راستہ بدلنے کا سوچا۔بہت کمزور انسان ہوں لیکن والد ہ مرحومہ کی دعائوں اور اللّٰہ کے خصوصی کرم نے مجھے اس قابل بنائے رکھا کہ ان سب چیزوں کا مقابلہ ملک کے اندر رہ کر کروں۔ الحمدللّٰہ آج ایسا وقت آگیا کہ عمران خان کی حقیقت واضح ہوتی جارہی ہے حالانکہ بہت سارے لوگ اب بھی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔
آپ اقتدار سے عمران خان کی محرومی کے بعد ان کی حرکتوں کو دیکھ لیں تو اس عاجز کی رائے کی تصدیق کئے بغیر نہیں رہ سکیں گے ۔ مثلاً انہیں پوری طرح یقین تھا کہ ان کی حکومت گرانے میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں لیکن زلمے خلیل زاد کے ساتھ مل کر انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ یہ مشہور کریں گے کہ امریکہ نے انہیں اقتدار سے نکالا اور پھر ایک سائفر کو جواز بنا کر انہوں نے کئی ماہ تک اس جھوٹ کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلایا۔ آج وہ اسی امریکہ میں لابنگ فرمز کی خدمات کروڑوں ڈالروں کے عوض حاصل کرکے ان سے مدد مانگ رہے ہیں ۔ عمران خان کو اقتدار دلوا کر اور ان کیلئے ملکی اداروں کے وقار کو دائو پر لگا کر جنرل باجوہ نے اپنے اور ملک کے ساتھ بہت ظلم کیا،تاہم عمران خان کا اگر کوئی سب سے بڑا کوئی محسن ہے تو وہ جنرل باجوہ ہی ہیں۔ جنرل باجوہ وہ سب کچھ نہ کرتے تو عمران خان کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے تھے لیکن انہوں نے ان کے خلاف بول بول کرانہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اقتدار سے محرومی کے بعد وہ
کل فوڈ پانڈا سے آرڈر کیا تو یہ مسیج آیا ، جب وہ پارسل ڈلیور کرنے آیا تو بمشکل 18 سال کا تھا ، پسینے سے اس کی کمر گیلی تھی ، میں نے پانی کا پوچھا تو اس نے اشارے سے کہا ایک گلاس دے دیں ، وہ قوت گویائی سے بھی محروم تھا۔ میرے بیٹے نے اسے شربت کا گلاس پکڑایا ۔ آرڈر میں تین برگرز تھے ، ایک اسے آفر کیا مگر بارہا کہنے کے باوجود اس نے نہیں لیا۔ میں نے اسے کچھ Tip دی وہ بھی اس نے کافی جھجھکتے ہوئے رکھی۔ اور اشارے سے شکریہ کہہ کر چلا گیا ۔
یہ وہ لوگ جو عزت نفس کو قائم رکھ کر حلال روزی کے لیے نکلتے ہیں ۔ ورنہ ان سے جسمانی طور پر کئی گنا بہتر ہٹے کٹے مرد اور عورتیں بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ہم ان کی جھولیاں بھرتے بھی رہتے ہیں ۔ پٹرول مہنگا ہوگیا ہے ، پتا نہیں ان بائیکیا والوں کی روازنہ کتنی بچت ہوتی ہے ، اس گرمی میں کچھ بھی آرڈر کریں تو ان پر جتنی شفقت ہوسکتی ہے کریں ، لیٹ آرڈر پر سرزنش مت کریں ، ٹھنڈے پانی کا ضرور پوچھیں ، تھوڑا بہت بقایا ہو تو واپس مت لیں ، استطاعت ہو تو اضافی ٹپ دے دیں ۔ مسکرا کر ان کا شکریہ ادا کریں ۔ یہ نوجوان سفید پوش لڑکے پتا نہیں گھر کے کتنے افراد کا بوجھ کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں ۔۔ چھوٹی چھوٹی مدد سے ۔۔۔ یہ بوجھ بانٹ لیں ، ان محنت کشوں کے کندھے ہلکے ہونگے تو ہماری نیکیوں میں بھی اضافہ ہوگا ۔
نوازشریف واحد ایسے لیڈر ہیں جو تین دفعہ وزیراعظم بنے۔ اور وہ واضح مینڈیٹ لیکر 2 تہائی اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ اور یہ ایسے وزیراعظم تھے جنکے دور میں ریکارڈ ترقی ہوئی، لیکن بدقسمتی سے یہ ایکبار بھی اپنا 5 سالا دور مکمل نہیں کر پائے۔ پھر دل تو دکھتا ھے نہ....!!! منیب فاروق
نواز شریف اپنے شکوے کر رہے ہیں ؛
مجھ سے گلہ نہ کریں ۔میرے جیسے بندے کا دیس نکالا کیوں ہونے دیا، کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا، کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، قصور آپ کا بھی ہے ،مذید میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن سوچنے والی بات ہے
مجھے ٹیومر ہے اور میرا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ۔میں امت مسلمہ کے عظیم لیڈر عزت ماب جناب ولی عہد محمد بن سلمان صاحب سے مدد کی اپیل کرتا ھوں
میرے بابا میرا علاج بیرون ملک نہیں کروا سکتے کیونکہ میں ایک مزدور کا بیٹا ھوں
امید ھے آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے 🙏
@AmbassadorNawaf
چار سال سے بند نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جس کا آج بھی سرچارج بلوں میں لگا ہوا ہے، اور جس پر ہر سال ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، اس پر پلاننگ کمیشن کے اجلاس میں چئیرمین نیسپاک نے جو بریفنگ دی وہ "چیٹ جی بی ٹی" سے لکھوائی گئی تھی اور جس پر جناب پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال صاحب نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کروڑوں روپے میں تنخواہیں لے کر پندرہ ارب روپے کے پراجیکٹ کو سوا چھ سو ارب روپے میں مکمل کروانے والے نیسپاک کے حرام خوروں کا بھی کبھی احتساب ہو گا؟؟؟
پلاننگ کمیشن میں بیٹھے غدار، جنہوں نے بھارت کی سہولت کاری کرتے ہوئے اس منصوبے میں چار سالتاخیر کی، ان پر بات کرنے سے مسلم لیگ ن کو آگ لگ جاتی ہے۔
جب اس پراجیکٹ کی قوم کو ضرورت پڑی تو یہ بند پڑا ہے اور کوئی اس کا جواب دینے کو تیار نہیں۔
نریندر مودی نے عمران خان کو کشمیر کے بدلے 200 کروڑ روپے چندہ دیا : سومیت جین
-
عمران خان اس شخص کے خلاف مقدمہ چلائیں-یا ٹی وی پر آ کر کہیں میں نے کسی ہندوستانی سے کوئی پیسہ نہیں لیا
پی جے میر نے عمران خان اور نوازشریف کی دوستی کرائی،عمران خان اُس زمانے میں نوازشریف سے اس لئے حسد کرتا تھا بغض رکھتا تھا کیوں کہ نوازشریف نے سب سے مہنگی کرکٹ کِٹ پہنی ہوتی تھی،آپ عمران خان کے کسی سے اختلاف کی وجہ کا اندازہ لگالیں
عمران خان کے پاس اُس دور میں کرولا ہوتی تھی اور نوازشریف کے پاس مرسڈیز ہوا کرتی تھی
مریم نواز کا کمال دیکھیں وہ کچے کے ڈاکو جو لوٹ مار کرتے تھے،اغواء برائے تاوان کرتے تھے جنہوں نے ہتھیار ڈالے وہ عام شہری بن گئے،ان کے بچوں کیساتھ ڈی سی رحیم یار خان ظہیر انور جپہ نے پورا دن گزارا،پلے ایریاز لیکر گئے،کھیل کود،کھانا کھلایا،احساس دلایا کہ وہ سدھر کر محنت سے روزگار کماسکتے ہیں
یوم تکبیر
مبارک
28 مئی
🇵🇰😍🇵🇰
28 مئی 1998 کو پاکستان نے چاغی، بلوچستان میں کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کے 5 دھماکوں کا جواب دیا، اور دنیا کی ساتویں جبکہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا۔ اس تاریخی دن کو "یومِ تکبیر" کے طور پر منایا جاتا ہے، جو دفاعی خودمختاری اور قومی یکجہتی کی علامت ہے۔
آپ سب کو پاکستان ایٹمی طاقت کی صورت میں بہت بہت مبارک
🇵🇰🫡🇵🇰🫡🇵🇰🫡🇵🇰🫡🇵🇰
کیا شائستگی ہے باتوں میں کتنا دکھ تھا اپنا ملک چھوڑنے کا کیا دھیمہ لہجہ تھا ان کا مجھے ایک بھی ایسی عورت اپ پی ٹی ائی میں دکھا دے اب مشکل وقت میں عمران نیازی کی بہنیں بھی اس کا دفاع کر رہی ہیں لیکن ہر وقت ملک توڑنے کی اور ملک دشمنی پر باتیں کرتی ہیں کلثوم نواز صاحبہ نے بھی اپنے شوہر کے لیے جنگ لڑی تھی لیکن کبھی ان کے منہ سے پاکستان دشمنی کے الفاظ نہیں سنے تھے اللہ پاک کلثوم نواز صاحبہ کو جنت فردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے بہت ہی بہادر اور اچھی خاتون تھی
@MaryamNSharif