👈 *ازدواجی زندگی اور نبوی نسخے
1۔ نبی ﷺ امی عائشہ رضی اللہ عنہا کی ران پر سر مبارک رکھ کر سو جایا کرتے تھے۔ (بخاری:334 سنن نسائی:338)
2۔ نبی ﷺ گھر کے کام کاج میں اپنی بیویوں کا ھاتھ بٹاتے تھے۔ (بخاری:676)
3۔ نبی ﷺ اپنی بیویوں کی کڑوی کسیلی باتیں اور طرز عمل خندہ پیشانی سے برداشت کرتے تھے۔ (بخاری:2581)
4۔ نبی ﷺ امی عائشہ رضی اللہ عنہا کو Nick Name عائش سے پکارتے تھے۔ (بخاری:3768)
5۔ نبی ﷺ اپنی بیویوں کی بیماری میں بیمار پرسی کرتے تھے۔ (بخاری:4141)
6۔ ایک مرتبہ ایک سفر میں آپ ﷺ کی بیویاں بھی آپ کے ہمراہ تھیں. حدی خوان اونٹوں کو تیز تیز ہانکنے لگا تو آپ نے اسے حکم دیا: آہستہ چلو, آبگینے/شیشے ٹوٹنے نہ پائیں گویا آپ ﷺ نے عورتوں کی نرمی کے لیۓ آبگینے کا استعارہ استعمال کیا۔
(بخاری:6149, 6161, 6210, 6211)
7۔ نبی ﷺ جب گھر تشریف لاتے تو سب سے پہلے مسواک کرتے۔ (تاکہ بیوی کے لیۓ باعث طہارت ہو) (مسلم:591)
8۔ برتن میں جس جگہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا ہونٹ لگا کر پانی پیتیں آپ ﷺ بھی اسی جگہ ہونٹ مبارک لگا کر پانی پیتے۔
(مسلم:692)
9۔ ایک مرتبہ عید کے دن نبی ﷺ نے امی عائشہ رضی اللہ عنہا کا دل بہلانے کے لیۓ اپنے جسم مبارک کے پردہ کی اوٹ سے حبشیوں کے کرتب (نیزہ بازی وغیرہ) دکھاۓ۔ (مسلم:2064 , 2066)
10۔ نبی ﷺ نے کسی کھانے میں کبھی عیب نہیں نکالا۔ (مسلم:5380)
11۔ نبی ﷺ نے کسی بیوی یا خادم کو کبھی نہیں مارا (مسلم:6050 ابن ماجہ:1984)
نبی ﷺ امی خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد بھی ان کی بزرگ سہیلیوں سے حسن_ سلوک فرماتے اور ان کو تحائف بھجواتے.
(ترمذی:2017)
نبی ﷺ نے تفنن طبع کے لیۓ زندگی میں دو مرتبہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوڑ لگائی.
پہلی مرتبہ امی عائشہ جیت گئیں اور دوسری مرتبہ آپ ﷺ جیت گئے۔ جب آپ ﷺ دوسری بار جیت گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! حساب برابر ہو گیا۔
(ابوداؤد:2578 السلسلہ الصحیحہ:1945)
جب نبی ﷺ دنیا سے تشریف لے جا رہے تھے اس وقت آپ کا سر مبارک امی عائشہ کی گود میں تھا۔ (بخاری:2741 مسلم:4231)
نبی ﷺ نے فرمایا: بیوی بچوں پر خرچ کرنا بھی باعث_ثواب ہے۔ (بخاری:55)
بیوی کے منہ میں کھانے کا لقمہ ڈالنا بھی باعث_ثواب ہے۔ (بخاری:56)
نبی ﷺ اس بات کو پسند فرماتے کہ مومن اپنی بیوی کے ساتھ ہنسے اور کھیل کود کرے۔
(بخاری:6387)
التماسِ دعا:
اَللّٰهُمَّ صَلِ٘ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَّمَدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرٰھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاهِيمَ اِنَّکَ حٓمِیٌدٌ م٘ٓجِیُد۔
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّد ٍوَّعَلٰی آلِ مُحَّمَدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاهِيمَ اِنَّکَ حٓمِیٌدٌ م٘ٓجِیُد۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا:
(معراج کی رات) میرے پاس براق لایا گیا، وہ ایک سفید رنگ کا لمبا چوپایہ ہے، گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا، اپنا سم وہاں رکھتا ہے جہاں اس کی نظر کی آخری حد ہے پھر فرمایا: میں اس پر سوار ہوا حتی کہ بیت المقدس آیا۔
{صحیح مسلم۔۴۱۱}
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے ۔ وہ جس کو چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے ، اور اللہ بہت بخشنے ، والا بڑا مہربان ہے ۔
(سورۃ آل عمران : 129)
حضرت جابر ﷺ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
انسان کی سعادت مندی میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی عمر زیادہ ہو ، اور اللہ تعالیٰ اس کو توبہ کی توفیق دے ۔
(المستدرک : 7602)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یوں فرمایا کرتے:
’’ اے اللہ ! میں نکمے پن ‘ بے جا سستی ‘ شدید بڑھاپے ‘ کنجوسی اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ نیز قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘
(سنن نسائی،۵۴۵۴)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
بے حیائی جس چیز میں بھی ہو، اسے بدنما کر دیتی ہے. اور حیاء جس چیز میں بھی ہو، اسے خوشنما کر دیتی ہے.
ماجہ 4185
(ترمذی 1974؛ مسند احمد 9225؛ مشکوٰۃ 4854)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اگر لوگ جان لیں جو ثواب نماز کے لیے جلدی آنے میں ہے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھیں اور اگر عشاء اور صبح کی نماز کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے ضرور آئیں خواہ سرین کے بل آنا پڑے اور اگر پہلی صف کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے قرعہ اندازی کریں۔
(بخاری،۷۲۱)
حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
الْقَائِلُ الْفَاحِشَةَ، وَالَّذِي يُشِيعُ بِهَا، فِي الإِثْمِ سَوَاءٌ
بے حیائی کی بات کرنے والا، اور جو اس کو پھیلاتا ہے (شیئر کرتا ہے)، دونوں گناہ میں برابر ہیں.
الادب المفرد للبخاری 324
آپ ﷺغزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو علیؓ کومدینہ میں اپنا نائب بنایا۔علیؓ نےعرض کیا کہ آپؐ مجھے بچوں اورعورتوں میں چھوڑےجا رہے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا، کیاتم اس پرخوش نہیں ہوکہ میرے لیے تم ایسے ہوجیسے موسیٰ کےلیے ہارون تھے۔لیکن فرق یہ ہےکہ میرےبعدکوئی نبی نہیں ہوگا۔
(بخاری،۴۴۱۶)
حدیث قدسی:
اے آدم کے بیٹے! میری عبادت کے لئے فارغ ہوجا، میں تیرے دل کو استغنا (بے نیازی) سے بھر دوں گا اور تیرا فقر (محتاجی) دور کردوں گا. اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے دل کو مصروفیت سے بھر دوں گا، اور تیرا فقر دور نہیں کروں گا.
ماجہ 4107
(ترمذی 2466؛ مشکوٰۃ 5172)