Mr @A_Qadir_Patel
سارا خزانہ تو آپکی پارٹی لوٹ لے گئی۔ پیچھے بچا کتنا ہے جس سے ملک چلائیں اور کوئی کام کریں۔ نہ ہی آپ لوگ یا آپ کے لوگ ٹیکس پورا دیتے ہیں۔
اس پہ شرم نہیں آتی؟
آپ نے تنخواہ دار کی تنخواہ 39 ہزار سے بڑھا کر 41 ہزار کر دی ہے تو ملازمین کو ایک ایک تجوری بھی فراہم کریں وہ یہ خزانہ رکھیں گے کہاں؟
رہنما پیپلز پارٹی قادر پٹیل
@capricorn_lhr@RaoAdvocate Exactly.
ہمارے پاس کافی حد تک مکمل آئین ہے، تو جو آئین ہے پہلے اس پہ تو اچھے سے عمل کروا لیں۔ عمل ہے کوئی نہیں تو پھر بیشک لاکھوں رولز ریگولیشنز، لاز، ڈپارٹمنٹس بنالیں، ٹکے کا فائدہ نہیں ہونا۔
@RaoAdvocate یہی باتیں پنجاب حکومت کو سمجھ میں نہیں آ رہی
انگریز کے دور سے تمام محکمے موجود ہیں
میں سمجھتا ہوں
ان محکموں کے بجٹ اور دوسرے مسائل حل کئے جائیں
اور ان سے بدلے میں کارکردگی مانگی جائے
ان پر سخت نگرانی رکھی جائے
تو کوئی وجہ نہیں
وہ پرفارم نہ کریں
نئے محکمے بنانے کی ضرورت ہی نہیں ہے
یقین کریں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا ایک ایک ممبر نیشنل اسمبلی نہ صرف پڑھا لکھا ہے بلکہ اسمبلی کے قانون و طریقہ کار کو اچھی طرح سمجھتا ہے ۔ جبکہ پی ٹی آئی کے کچھ ممبران کو انگلیوں پر گنوا سکتی ہوں کہ نہ صرف بد تمیز ، قانون سے نا بلد ، لچر ، لفننگے تھڑے باز ، ان پڑھ نظر آتے ہیں ۔ پی ٹی آئی میں چند اچھے لوگ ہیں تجربہ کار سلجھے ہوئے ان سے اکثر منہ پر پوچھ لیتی ہوں آپ کیا کر رہے ہیں اس ٹولے میں ، کہاں پھنس گئے ہیں ؟ وہ آگے سے مسکرا دیتے بے بسی سے۔
@itsshahgold اس وقت کار مارکیٹ میں درجنوں فراڈئے موجود ہیں
جو چند گاڑیاں چین سے منگواتے ہیں
ان کی خوب ایڈورٹائزمنٹ کرتے ہیں
بھاری بکنگ اٹھاتے ہیں
ایسوں میں سے کئی بھاگ جائیں گے
میں بار بار لکھ رہا ہوں
اور جب یہ سب ہونا ہے
پھر بکنگ کروانے والوں اور حکومت کو ہوش آنی ہے
@pakistanipeeeps I am noon leagui, and still i dont give a damn to either their crediting or discrediting. They can all go to 🔥 for me. I won't care. 😂
پنشنرز ہمارے سینئر سٹیزنز ہوتے ہیں۔ عمر کے آخری حصے میں ان کی عزت، سہولت اور مالی تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
مہنگائی کے اس دور میں پنجاب کے بجٹ میں پنشن میں فقط ساڑھے تین فیصد اضافہ کرنا اُنکے ساتھ ناانصافی اور زیادتی ہوگی۔ پنجاب حکومت کو اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے!
ایک جاننے والے کے پاس بیٹھا ہوں جسکی آج دوکان سیل کی گئی تھی بوجہ ایک سال کا ٹیکس نہیں دیا
کیونکہ ٹیکس کا چالان نہیں آیا تھا۔
اب ٹیکس انسپکٹر کی واردات دیکھیں
ان کو سالانہ ٹیکس 1100 روپے آتا تھا جو کہ اس دفعہ نہیں آیا اور دوکان سیل کی گئی
جب ٹیکس آفس گئے تو اس نے ان کو گیارہ ہزار کا پیپر دے دیا کہ یہ جمع کرواو
انھوں نے پوچھا کیوں اتنا کیوں
ہم تو ہر سال 1100 ٹیکس جمع کرواتے ہیں
قصہ مختصر
چھ ہزار دے کر بات رفع دفع ہو گئی
ٹیکس انسپکٹر نے 1100 سے ٹیکس بڑھا کر 2300 کر دیا اب
اوریجنل ٹیکس 2300 جمع کروا دے گا باقی اپنی جیب میں ڈالے گا
اور یہ واردات آج سیالکوٹ کے FBR کے دفتر میں ہوئی
پھر کہتے ٹیکس جمع نہیں ہوتا
دو دن پہلے لکھا تھا کریڈٹ کی جنگ شروع ہونے والی ہے۔ ہمارے نالائق صحافی اور نام نہاد سیاستدان کریڈٹ کی جنگ میں شہباز شریف کو ڈس کریڈٹ دینے کی گیم کھیل رہے ہیں۔