آج کے دن 27 سال پہلے دو تہائی اکثریت والے وزیراعظم نواز شریف کو گرفتار کیا اور اسمبلی تحلیل۔ ان سیاست دانوں نےنا کچھ سیکھا ہے اور نہ سیکھنے کے ارادہ ہے۔ ایسے ہی باری باری رگڑا کھاتے رہیں گے۔ ان کی باری بھی دوبارہ آئے گی
پاکستان میں اب سٹار وییلو پر زندگی گزارنا ، ممکن نہیں رہا۔ عمران خان سے بڑا سٹار وہاں پیدا نہیں ہوا، جب اس کے ساتھ وہ ہو رہا ہے، جو ہو رہا ہے اس کےبعد بھی کوئی سوچے کہ وہ سٹار ہے یا بڑا عزت والا ہے تو اس کا ریفریشر کورس تو لازمی ہو گا تاکہ وہ زمین پر عاجز رہے۔یہ نظام کا احسان ہے۔
درست لکھا ہے ڈاکٹر مشتاق نے مگر ڈاکٹر صاحب جب ڈاکٹر قاضی کے ماتحت تھے تو ان دونوں نے اسی مرض اور مریض کا فوری علاج کرنے کی بجائے اُسے لاوارث لاش کی مانند ھسپتال کی راہداری میں چھوڑ دیا تھا۔ جسٹس وقار سیٹھ کی نہ تو سینیارٹی والی پٹیشن لگائی اور نہ ہی انٹرنمنٹ سینٹرز میں قیدیوں کی رہائی کے وقار سیٹھ کے فیصلے کیخلاف جاری سٹے ختم کیا اور نہ ہی اس کیس کا فیصلہ کیا۔
یا منافقت تیرا آسرا !
سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو سلام جنہوں نے سودے بازی نہیں کی، مڈل کلاس کے لوگ تھے جنہوں نے ضمیر نہیں بیچا مڈل کلاس میں تھوڑی ویلیوز ہوتی ہیں ارب پتی ہوتا تو بے ضمیر ہو چکا ہوتا
انیق ناجی
یہ ویڈیو تحریک انصاف کے پاس بڑا ثبوت ہے کہ کس طرح پولیس کو کہا گیا ہے کہ پرامن مظاہرین کو سیدھا سر پر گولی مار دیں، یہ ویڈیو کس کے حکم پر بنائی گئی اور یہ الفاظ کس کے حکم پر اس اہلکار سے کہلوائے گئے؟؟ اصل مجرم کو سامنے لانا ہوگا
ہمارے دانشوڑ ہمیں پچھلے 50 سال سے یہ ثابت کر رہے کہ پیپلز پارٹی ملک کی واحد جمہوریت پسند جماعت ہے جبکہ ایوب کو ڈیڈی کہنے سے لیکر، یحییٰ کے ساتھ ملکر مینڈیٹ تسلیم نہ کرنے تک ۔۔۔۔ کاکڑ فارمولا سے مشرف کے مارشل کا ویلکم کرنے سے لیکر این آر او تک ، باجوہ کو توسیع دینے سے لیکر فوجی عدالتوں کے قیام تک ۔۔۔ پیپلز پارٹی ہر غیر جمہوری اقدام کی بینیفشری رہی ہے۔۔
پاکستان کے سابق صدر غلام اسحاق خان کی نواسی، صوبہ سندھ کے سابق وزیر داخلہ عرفان اللہ خان مروت کی بیٹی، تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کی کزن اور مرحوم ہارون بلور کی بیوی ثمر ہارون بلور کو گورنر راج کے بعد پختونخوا کی نئی وزیر اطلاعات و نشریات نامزد کی گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان پاکستان پیپلز پارٹی کی عظمتیں بیان کرتے ہوئے۔۔۔!!
جب بھی کسی صوبے پر شب خون مارا پیپلز پارٹی اور آصف زرداری نے مارا، یہ تیسری یا چوتھی بار ہے، عجیب بات ہے یہ خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتے ہیں، مولانا فضل الرحمان