صحت کا انصاف آکسیجن سلنڈر سمیت سڑکوں پر رلنے لگا
ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی ایم آر آئی مشین پچھلے دو ماہ سے پھر خراب پڑی ہے۔ جس کی وجہ سے ہسپتال میں آکسیجن پر زیرعلاج مریضوں کو ایم آر آئی کیلئے ہسپتال کے باہر سٹریچروں پر بھیجا جاتا جو کہ ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا
کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا
#ویلکم_بیک_شفقت_چوہدری
ماشاءاللہ ❣️، بہت بہت مبارک ہو استاد محترم کو آخر کار اللہ تعالیٰ نے رہائی نصیب فرمائی۔
حق کے تمام اسیران کے لئیے دعا ہے کہ وہ بھی بہت جلد رہا ہوں۔ آمین۔
@MalikUmvi صاحب کا بہت بہت شکریہ
عمران خان، بشریٰ بی بی اور تقریباً ایک ہزار دیگر افراد غیر قانونی طور پر قید ہیں۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران 40,000 سے زائد افراد کو قید کیا گیا اور بعد ازاں ضمانت پر رہا کیا گیا۔ جو لوگ ضمانت پر ہیں، انہیں پورے پاکستان میں جھوٹے مقدمات اور جعلی ٹرائلز کا سامنا ہے۔
جب ججوں نے انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی تو اس غیر قانونی حکومت اور ان کے آقاؤں نے 26ویں آئینی ترمیم منظور کر دی۔ اس ترمیم نے انہیں یہ آزادی دے دی کہ وہ ان ججوں کو ہٹا سکیں یا نظر انداز کر سکیں جو اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنا چاہتے تھے۔ اس ترمیم نے سینیارٹی کے اصول کو ختم کر دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو چُن کر اس عہدے پر لایا گیا۔ انہیں یہ یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ضمانت نہ مل سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان کی ضمانت کی درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا انتخاب بھی سینیارٹی کے اصول کے برخلاف کیا گیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ کے ان تین ججوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا جنہوں نے حکم دیا تھا کہ عمران خان کو آزادانہ طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
گزشتہ روز، 16 ستمبر 2026 کو، ہم نے سپریم کورٹ کا انہدام دیکھا، جب انہی ججوں نے حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کو آگے نہیں بڑھایا۔ اٹارنی جنرل نے تو توہینِ عدالت کی سماعت میں پیش ہونے کی زحمت تک نہیں کی!
2007 میں وکلا نے آمر جنرل مشرف کو اس وقت جھکنے پر مجبور کر دیا تھا جب وہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہونے اور قانون کی حکمرانی کے دفاع کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ 2007 میں آمر مشرف نے بغیر قانونی تقاضے پورے کیے صرف چیف جسٹس کو عہدے سے ہٹایا تھا۔
2026 میں پورا عدالتی نظام منہدم ہو چکا ہے۔ 2007 میں ہم سب چیف جسٹس آف پاکستان کی بحالی کے لیے وکلا کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ 2026 میں ہم پاکستان میں انصاف کی بحالی کے لیے وکلا کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
پاکستان انصاف لائرز فورم (ILF) کو فوری طور پر، بغیر کسی تاخیر کے، قیادت سنبھالنی چاہیے۔ عدالتی نظام کا انہدام ملک کو انتشار کی طرف لے جائے گا، اور پاکستان اس کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا!
یہ وقت انصاف، عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑے ہونے کا ہے!!!
کیسا کیسا ایسا ٹیلینت سڑکوں پر رل چکا ۔ اس کا قصور شاید یہ ہے کہ نام کے ساتھ خان نہیں لگا یا پھر یہ کہ یہ پاکستان اور پھر ملتان میں پیدا ہو گیا۔ یہی انڈیا ہوتا تو آج یقینی طور پر کلاسیکل میں بڑا نام ہوتا۔ خیر شکریہ اس " محترمہ " کا جس نے اس کی اتنی قدر تو کی ورنہ ہمارے ہاں
@SohailAfridiISF کامیابی نظر آ رہی ہے،نہ مضبوط تنظیم سازی ہو رہی ہے۔ میری رائے میں پارٹی کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے
اسی طرح بیرسٹر گوہر صاحب کو بھی فرنٹ لائن پر آنا چاہیے۔انہوں نے بہت مفاہمت کر لی،اب وقت ہے کہ انہیں بھی مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے عملی میدان میں قیادت کرنی چاہ
@SohailAfridiISF مشکل ہوگی۔
دوسری بات، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ سلمان اکرم راجہ صاحب کو اتنی بڑی پارٹی کا سیکرٹری جنرل کیوں بنایا گیا ہے؟ سی ایم صاحب دو دن لاہور میں موجود رہے لاہور انکا گھر ہے اور اس دوران وہ خود غائب رہے۔ نہ ان کی قیادت میں وکلاء اور عدالتوں کے محاذ پر کوئی نمایاں
1/3