میں حلفاً کہتا ہوں کہ نہ ہی ہم نے کبھی گستاخ صحابہ کا دفاع کیا ہے اور نہ ہی کریں گے،لیکن تکلیف ہمیں صرف اس بات سے ہے کہ جو مسئلہ افہام وتفہیم سے حل کیا جاسکتا ہو،اسے اندر کا بغض نکالنے کیلئے گالیوں،فحش کلمات،طعن و تشنیع سے حل کرنا دشمن کیلئے تو راہ ہموار کرسکتا ہے نہ کہ مسئلے کا حل۔۔لہذا ایک بینچ پر بیٹھ کر مسئلہ حل کیا جائے نہ کہ گالیوں سے۔۔۔🙏🙏🙏🙏
1/10/2026 مرکزی عیدگاہ سرگودھا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام 39 سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے شاہین جمعیت محافظ ختم نبوت حضرت مولانا حافظ حمداللہ صاحب کا خطاب
فرزانہ ایک ذہین ، بہادر اور پیشہ ور صحافی ہے اگر اسے نوکری سے نکلوا دیا گیا ہے تو باقی سب خیر منائیں۔ مجھے یقین ہے فرزانہ کی آواز جدید پلیٹ فارمز بھرپور انداز میں اجاگر کرتے رہیں گے ۔
فرزانہ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ آپ کو نوکری سے نکلوا کر کسی نے اپنی نوکری پکی کرنا ہوگی مگر جس کسی نے بھی ایسا کیا ہے اسے آپکا پتہ نہیں۔ آپ کے لیے بہت دعائیں اور نیک تمنائیں
کسی نے درست کہا تھا کہ صحافت ایک thankless job ہے۔ آپ کے ساتھ جو ہوا قابل مذمت ہے۔ اس طرح اور صحافیوں کے ساتھ بھی ہوتا رہا ہے۔ افسوس ہے کہ صحافتی اداروں نے غلامی قبول کی ہے۔ تمام سرنڈر کرچکے ہیں۔ ایک میں بھی جرات نہیں رہی کہ اپنے حقوق اور آزادی اظہار رائے کی بات کرے
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ امن و سلامتی کے سب سے بڑے علمبردار، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر پر حوثیوں کے حملے کی خبر سے دل رنجیدہ اور زخمی ہے۔ مدینۃ الرسول پر حملہ صرف ایک شہر پر حملہ نہیں، بلکہ عالمِ اسلام کے دلوں اور عقیدے پر حملہ ہے۔
مسلم حکمرانوں اور امتِ مسلمہ کو مصلحتیں بالائے طاق رکھتے ہوئے یکجا ہو کر حملہ آوروں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ آج اگر حرمین شریفین کے لیے متحد نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے؟ حرمین شریفین ہماری وحدت کی علامت ہیں، جن کی حرمت کے لیے اپنی جان، مال اور اولاد کی قربانی کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ یہی چیزیں جمعیت علماء اسلام کے اغراض و مقاصد کا حصہ ہیں۔
مملکتِ سعودیہ کے عوام، خادم الحرمین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ حملہ صرف آپ کے شہر اور ملک پر نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ پر حملہ ہے۔ امتِ مسلمہ، اور بالخصوص پاکستان کے عوام، حرمین شریفین کے تحفظ و حرمت کے لیے مملکتِ سعودیہ اور عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
امن و سلامتی کے سب سے بڑے علمبردار سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر پر حوثیوں کے حملے کی خبر سے دل رنجیدہ اور زخمی ہے،مدینۃ الرسول پر حملہ ایک شہر پر نہیں بلکہ عالم اسلام کے دلوں اور عقیدے پر حملہ ہے۔
مسلم حکمرانوں اور امت مسلمہ کو مصلحتیں بالائے طاق رکھتے ہوئے یکجاں ہوکر حملہ آوروں کا مقابلہ کرنا ہوگا،آج اگر حرمین شریفین کے لئے متحد نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے،حرمین شریفین ہماری وحدت کی علامت ہیں،جس کی حرمت کے لئے اپنی جان و مال اور اولاد کی قربانی کو باعث فخر سمجھتے ہیں،یہی چیزیں جمعیۃ علماء اسلام کے اغراض و مقاصد کا حصہ ہیں۔
مملکت سعودیہ کے عوام،خادم الحرمین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ حملہ صرف آپ کے شہر اور ملک پر نہیں،امت مسلمہ پر حملہ ہے،امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستان کے عوام حرمین شریفین کے تحفظ و حرمت کے لئے مملکت سعودیہ اور عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
Onların gücünü kırdın, sancaklarını indirdin.
Liderlerine boyun eğdirdin, gururlarını yerle bir ettin.
Ve senin asan hiç kırılmadı ey Yahya!
Ey Yiğitlerin efendisi... 🇵🇸☝🏻
خیبرپختونخوا پولیس کا مسئلہ کہاں ہے؟
پختونوں کو کیوں بدنام کیا جا رہا ہے؟
جمہور کی آواز نہیں سنی جا رہی
نظریات کو قید کرنے کی کوشش اور اس کا انجام
سابق آئی جی اور ہوم سیکریٹری اختر علی شاہ کی ’’فرنٹ لائن پاکستان‘‘ میں گفتگو
#FrontLinePakistan@farzanaalispark
خیبرپختونخوا پولیس کا مسئلہ کہاں ہے؟
پختونوں کو کیوں بدنام کیا جا رہا ہے؟
جمہور کی آواز نہیں سنی جا رہی
نظریات کو قید کرنے کی کوشش اور اس کا انجام
سابق آئی جی اور ہوم سیکریٹری اختر علی شاہ کی ’’فرنٹ لائن پاکستان‘‘ میں گفتگو
احمد منصور صاحب ۔۔اچھا ہوتا کہ اپ اس معاملے میں نہ بولتے کیونکہ کہ آپکو پتہ نہیں کہ گذشتہ دو ماہ میں کیا کچھ ہوا ہے ابھی میں نے اگر ان ساری باتوں کی حقیقیت کھول دی کہ مجھے کس کس وقت میں کیسے کیسے دھمکایا گیا اور کس فون کال پر کیا کیا کہا گیا تو نہ آپ کے ہاتھ میں کچھ رہ جائے گا نہ آپکے مالکوں کے تو مہربانی کر کے میرے معاملے سے دور رہیں
A hilarious and timeless piano performance by the legendary Victor Borge, master of musical comedy and wit. This special video mix highlights his brilliant blend of humor, classical talent, and charm — proof that laughter and music make the perfect duet!
No doubt why India is becoming the cancer capital and diabetes capital of the world.
Look at what we eat every day compared to Europe:
•Chicken~
Europe banned antibiotics as growth promoters long ago.
In India, antibiotics are still widely used on poultry farms. This creates antibiotic-resistant bacteria and adds to long-term health risks.
•Eggs~
Same issue ~looser controls on antibiotics and residues than in Europe.
•Bread~
Europe banned several additives (like titanium dioxide) over safety concerns.
In India, many packaged breads still contain preservatives and chemicals that Europe does not allow or tightly restricts.
Same brands, different quality~
Big companies often sell higher-sugar, more artificial, lower-quality versions of the same products in India.
Europe also rejects hundreds of Indian food shipments every year because of high pesticide levels that are banned there.
We are eating what they have already banned or strictly controlled.
This is not a small difference.
This is a daily health cost.