اھم خبر ‼️
🚨🚨******🚨🚨
گوادر واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر بے بنیاد قیاس آرائیوں اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔ اصل حقائق یہ ہیں :
▪️ بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جس کیمپ کو نشانہ بنایا، وہ ایک تعمیراتی کمپنی کا پہلے سے خالی کردہ کیمپ تھا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
▪️ بی ایل اے کے دہشت گردوں نے سڑک پر کھڑے چند ٹرکوں کو آگ لگائی۔ یہ کارروائی ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ یہ دہشت گرد عام شہریوں، ان کے روزگار اور املاک کے دشمن ہیں۔
▪️ سیکیورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کے کسی دفتر یا کیمپ پر حملے کی اطلاعات درست نہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے دعوے بے بنیاد ہیں۔
گوادر واقعے کے بارے میں غیر مصدقہ اطلاعات اور دہشت گرد تنظیم کے پروپیگنڈے کو حقائق سمجھ کر آگے پھیلانے سے گریز کیا جائے ‼️
DSP شہید عمران الدین آخر تک دہشتگردوں سے لڑا۔ خیبر پختونخواہ پولیس کے اس بہادر بیٹے نے اپنے کیریئر میں بے شمار آپریشنز کئے۔ کئی بار جان خطرے میں ڈالی اور آج شہید ہوگیا۔ عمران الدین دہشتگردوں کے خلاف دہشت کی علامت تھا۔
شہید عمران الدین کو سب سے بڑا ایوارڈ نشان حیدر دینا چاہیے۔
پاکستانی طلبہ — انصاف کی آخری امید!
جب ناانصافی عام ہو جائے، جب نوجوانوں کی آواز دبائی جائے، اور جب حق مانگنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش ہو، تو طلبہ کا اتحاد ایک نئی امید بن سکتا ہے۔
شاہد خٹک کے بندوں کی افغانستان میں دیکھ بھال کا پیغام، طالبان کی ویڈیو نے کئی سوالات کھڑے کر دیے!
ویڈیو میں TTA کے افراد ملا یعقوب مجاہد سے شاہد خٹک کے بھیجے گئے افراد کی افغانستان میں دیکھ بھال کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ آخر شاہد خٹک کے ان مبینہ رابطوں کے پیچھے کیا کہانی ہے؟
#WhoRunsPTISocialMedia
محترم سلمان اکرم راجہ صاحب!
آپ کے حالیہ بیان پر افسوس ہوا۔ آپ پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں، اس لیے آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ کسی بھی حساس معاملے پر ٹویٹ کرنے سے پہلے حقائق کی مکمل تصدیق کریں، صوبائی پارلیمانی پارٹی سے رابطہ کریں اور متعلقہ ارکان کو اعتماد میں لے کر اپنا مؤقف پیش کریں۔ حقائق کی تصدیق کیے بغیر کسی معاملے کو اس انداز میں عوامی سطح پر اٹھانا مناسب نہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ کی نامزدگی، صوبائی صدر کی تبدیلی یا کسی دوسرے عہدے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اجلاس میں صرف یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت، اپوزیشن یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں خیبرپختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
یہ بات بھی واضح رہے کہ اس پارلیمانی اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان صاحب کو باقاعدہ دعوت دی گئی تھی، انہیں اعتماد میں لیا گیا تھا اور ان کی مشاورت سے اجلاس طے کیے گئے تھے۔ لہٰذا اس معاملے کو پارٹی قیادت کے علم اور مشاورت سے ہونے والی کارروائی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
اس فیصلے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران صوبائی پارلیمانی پارٹی کو مناسب مشاورت میں شامل کرنے اور اعتماد میں لینے کا فقدان رہا، جس کے باعث صوبے کے مؤقف اور مفادات کی مؤثر ترجمانی نہیں ہو سکی اور ہمیں سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی تناظر میں صوبائی پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ آئندہ مذاکرات میں اس کی نمائندگی بھی یقینی بنائی جائے، تاکہ خیبرپختونخوا کے حقوق، عوامی مینڈیٹ اور صوبائی مفادات کا بھرپور دفاع کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ مذاکرات میں صوبے کی مؤثر نمائندگی سے متعلق تھا، نہ کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نامزدگی یا صوبائی صدر کی تبدیلی سے متعلق۔
سلمان اکرم راجہ صاحب! اختلافِ رائے یا کسی معاملے پر وضاحت طلب کرنا الگ بات ہے، لیکن حقائق کی مکمل تصدیق کے بغیر پارٹی کے اندرونی معاملات کو عوامی سطح پر اس انداز میں پیش کرنا غیرضروری ابہام اور غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے۔
آپ سے گزارش ہے کہ آئندہ ایسے حساس معاملات پر ٹویٹ کرنے سے پہلے صوبائی پارلیمانی پارٹی اور متعلقہ قیادت سے براہِ راست رابطہ کرکے حقائق کی تصدیق ضرور کریں۔ پارٹی کے اہم معاملات میں باہمی مشاورت، اعتماد اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ناگزیر ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی اصل طاقت عمران خان کی قیادت، کارکنوں کی قربانیوں اور عوامی اعتماد میں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پارٹی کے اندرونی معاملات باہمی مشاورت سے حل کیے جائیں اور غیرضروری غلط فہمیوں سے گریز کیا جائے۔
ہم سب کو عمران خان کے وژن کے مطابق متحد رہتے ہوئے پارٹی کے اتحاد، خیبرپختونخوا کے عوامی مینڈیٹ اور صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم
#PTI #KhyberPakhtunkhwa #SalmanAkramRaja #ImranKhan
@salmanAraja