یہ عمران خان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔۔انتقام لینے والے بزدل لوگ ہیں جو عمران خان سے بنیادی انسانی حقوق تک چھین لینا چاہتے ہیں۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں، وہ غیر انسانی ہے"
قاسم خان
علیمہ خان کی گفتگو 🚨
ہمیں پکا یقین ہو گیا ہے یہ کچھ چھپا رہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں عمران خان کا علاج کروائی جائے
آج خیبر پختونخواہ میں دو طرح کے مناظر دیکھنے کو ملے۔
ایک طرف پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے نوجوان اور کمسن بچے۔
اور دوسری طرف عوام کے خوف سے بھاگتے ہوئے پولیس اہلکار۔ پولیس آگے آگے، عوام پیچھے پیچھے۔
یہی دو مناظر عوام کی نظروں سے دور رکھنے کیلئے انہوں نے انٹرنیٹ بند کیے رکھا لیکن سچ سامنے آ ہی گیا۔
بابر سلیم سواتی اور سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر ہو چکی ہیں میں حیران ہوں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس بابر ستار کو کسی کیس میں کیوں نہیں بیٹھاتے۔
صدیق جان
ایسٹ انڈیا کی فوج میں ٹاپ پر سارے انگریز تھے جبکہ مقامی ہندوستانی سپاہیوں کو نچلے عہدوں تک محدود رکھا جاتا تھا۔
آج پاکستان کی فوج میں ٹاپ پر سب پنجابی جرنیل بھرے ہوئے ہیں یہ قومی فوج کم اور پنجاب پولیس زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
خبریں چلائی جا رہی ہیں کہ خیبرپختونخوا کو آٹے کی ترسیل شروع ہو چکی ہے سوال یہ ہے یہ آٹے کی ترسیل کس نے روکی تھی کیوں روکی تھی اگر اپنے مفاد کی حکومت ہو گی تو آٹا جانے دیں گے اگر اپنے مفاد کی حکومت نہیں ہو گی تو ہم آٹے تک کی ترسیل روک دیں گے یہ نہیں ہونا چاہیے سارے کا سارا کھیل معدنیات کا ہے۔
عمران ریاض خان
امریکہ خود گواہی دے رہا ہے کہ اسے خیبر پختونخواہ کی قیمتی معدنیات میں دلچسپی ہے جو 7 ٹریلین ڈالرز کی ہیں۔
امریکہ کو شرم آنی چاہئے ہمارے حکمرانوں پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے ہوئے۔
ہمارے سچے حکمرانوں نے بتایا ہےکہ پختونخواہ میں "دہشتگردی" کی وجہ سے ایمرجنسی لگائی ہے۔
بلوچستان میں 100 گنا زیادہ دہشتگردی ہے لیکن اس کی خیر ہے۔ وہاں ایمرجنسی لگانے کی ضرورت نہیں۔
ہم اس غیر آئینی گورنر جنرل اور ایمرجنسی کو نہیں مانیں گے، آج میں آپ سب کو لیڈ کروں گا، اور ہمارا احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک گورنر راج اور ایمرجنسی ختم نہیں کی جاتی، ایم پی اے عبد الغنی آفریدی
حبیب اکرام راجہ نے ساری گفتگو کو اس ایک جملے میں کمال خوبصورتی سے سمو دیا!
“لٹ جانے والا دہائی دے تو اسے مجرم اور لوٹنے والے کو کامیاب قرار نہیں دیا جا سکتا ۔”
عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی ہی یہ ہے کہ وہ صرف عوام کو جوابدہ ہونے کے علمبردار بن کر ابھرے ہیں۔
عمران خان نے طاقت کے اس ڈھانچے کو عام آدمی کے لیے کھول کر رکھ دیا ہے۔
پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا ذکر ان سے پہلے بھی ہوتا تھا۔ سیاسی کارکن مزاحمت کرتے تھے اور سیاسی جماعتیں اسکی قیمت ادا کرتی تھیں ۔ مگر عمران خان نے اسے عوامی سوال میں بدل دیا ہے کہ حکومتیں بظاہر کسی اور کے پاس نظر آتی ہیں لیکن فیصلہ کرنے کا اختیار کسی اور کے پاس ہے۔ یہی سوال سہیل آفریدی نے اٹھایا تو انکی حکومت ختم کر دی گئی ۔