اسلام آباد میں اسٹامپ فروشوں کی لوٹ مار
آج مجھے بچے کے اسکول کی جانب سے ایک تیار شدہ انڈرٹیکنگ (بیانِ حلفی) کا متن ملا، جسے 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر پرنٹ کروا کر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ میں آبپارہ مارکیٹ کے ایک اسٹامپ فروش کے پاس گیا، جس نے 5 منٹ میں آن لائن اسٹامپ پیپر نکال کر پرنٹ دے دیا۔
میرا خیال تھا کہ 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر وہ زیادہ سے زیادہ 100 روپے سروس چارجز لے گا، لیکن جب میں نے بل پوچھا تو اس نے کہا کہ 1000 روپے بنتے ہیں۔ میں حیران رہ گیا اور پوچھا، "1000 روپے؟" جواب ملا، "جی ہاں!" میں نے کہا کہ یہ تو کھلی ناانصافی ہے، مواد میں نے خود فراہم کیا ہے، آپ نے تو صرف پرنٹ نکالا ہے۔ خیر، بحث و تکرار کے بعد اس نے 100 روپے کم کر کے 900 روپے طلب کیے۔ جب میں نے پکی رسید مانگی تو اس نے کارڈ پر اضافی سروسز درج کر کے 1000 روپے کی رسید میرے حوالے کر دی۔ میں نے یہ رسید اس نیت سے اپنے پاس رکھ لی کہ اس معاملے کو کم از کم حکومت کے نوٹس میں لایا جائے۔
دو روز قبل، میرے سالے سے بھی صرف ایک صفحے کے بیانِ حلفی کی تیاری کے لیے 2500 روپے وصول کیے گئے تھے۔
ہم خوش تھے کہ حکومت نے اسٹامپ پیپر آن لائن کر دیے ہیں، جس سے سائلین کا فائدہ ہوگا اور فیس براہِ راست سرکاری خزانے میں منتقل ہوگی۔ مگر حکومت نے اسٹامپ فروشوں کو اس لوٹ مار سے روکنے کے لیے کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا اور نہ ہی اسٹامپ کی قیمت کے ساتھ سروس چارجز مقرر کیے ہیں۔
سرکار سے اپیل ہے کہ اسٹامپ پیپر کی فیس کے ساتھ اس کے مناسب سروس چارجز بھی مقرر کیے جائیں تاکہ اس کرپشن اور ناجائز منافع خوری کا قلع قمع ہو سکے۔
@ICT_Police@dcislamabad