لاہور کے DIG آپریشنز فیصل کامران کے مطابق یہ سارا معاملہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے وعدے سے شروع ہوا تھا یہ معاملہ پاکستان کے باہر سے شروع ہوا
جب یہ دونوں غیر ملکی خواتین مرکزی ملزم سے سنگاپور میں کاروبار کے سلسلے میں ملیں وہاں ان دونوں پارٹیوں کے درمیان کرپٹو میں سرمایہ کاری کے لیے بات چیت ہوئی مرکزی ملزم اور اس کے دوست نے مل کر ڈالرز میں لڑکیوں کے ساتھ سرمایہ کاری کی اور ان کے درمیان یہ طے پایا کہ اس سرمایہ کاری سے آنے والا منافع آپس میں تقسیم ہوگا جس کے بعد یہ لڑکے پاکستان آگئے ان خواتین نے ملزمان کو منافع کی رقم نہیں دی اور ان کے ’فون کالز اور مسیجز کا جواب دینا بند کر دیا
یہ خواتین مبینہ طور پر مزید سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کرنے پاکستان آئی تھیں اور انھیں تین جولائی کو پاکستان سے واپس جانا تھا
دو تین دن یہ خواتین اور ملزمان مختلف شہروں میں گھوتے پھرتے رہے جس میں لاہور، اسلام آباد اور مری بھی شامل ہیں وہاں انھوں نے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کی کھانے وغیرہ کھائے
ان خواتین کی واپسی تین جولائی کو تھی اس لیے یہ لاہور واپس آگئیں جیسے ہی یہ واپس لاہور پہنچیں تو ان میں سے ایک ملزم نے کہا ’میں تو اپنے پیسے واپس لیے بغیر ان لڑکیوں کو پاکستان سے نہیں جانے دوں گا
جس کے بعد اس نے اپنے دوست کی مدد سے کرائے پر گھر لیا اور اس کے دوست نے دو غنڈے بلا کر لڑکیوں کو اغوا کروایا اور پھر ان کے باپ کو کال کرکے اغوا برائے تعاوان کے لیے پیسے مانگے
ڈی آئی جی فیصل کامرن کہتے ہیں کہ ’بےشک یہ لین دین کا معاملہ ہو لیکن پیسوں کی واپسی کے لئے کسی کو اغوا تو نہیں کیا جاسکتا
اب یہاں پر اس معاملے کو یوتھڑز یوٹیوبر اسے علی ڈار کےساتھ جوڑ رہے ہیں جبکہ FIR میں محمد رضا ڈار کا نام درج ہے چار ملزمان گرفتار ہیں ایک دو باقی ہیں CCD انہیں پار لگا دے
شہباز شریف کا بنایا PKLI کسی نعمت سے کم نہیں💕
دوست کے 2 سال کے بھتیجے کا ٹرانسپلانٹ ھوا علاج کا 80٪ 55 لاکھ حکومت پنجاب نے دیا باقی کا دوست کی فیملی نے برداشت کیا اگر یہ PKLI نا بنا ھوتا تو اس بچے کی زندگی نہیں بچنی تھی
پاکستان میں جو شخص تھوڑی سی طاقت رکھتا ہو وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ھے۔
لاہور اسلام پورہ تہہ خانے میں تشدد کرنے والے چاند قصائی عرف چاند بٹ کی ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی۔
آخر یہ بدمعاش کس حثیت سے شہریوں کو ہتھکڑیاں لگا کر ٹارچر روم میں تشدد کر رہا ھے؟؟
یہ منظر صومالیا، موغادیشو یا کینیا کے نہیں،
یہ مناظر آج پشاور کے ہیں۔
آپ کو جگہ جگہ عمران خان کا پھیلایا ہوا شعور نظر آ رہا ہے۔
جب حکومتیں کام کرنے کی بجائے نک دا کوکا پر ناچنا شروع کردیں تو شہروں کا یہی حال ہوتا ہے
سیالکوٹ کی نشست سے چوہدری اسحاق صاحب کو ٹکٹ نہیں ملی تو انہوں نے آزاد کھڑے ہونے کی بجائے قائد مسلم لیگ ن کے فیصلے کا احترام کیا اور اپنے کاغزات واپس لئے۔ شاباش، یہ ہوتا ہے اصل لیگی
اس وقت پورے ملک میں بجلی بحران کی وحہ یہ ہے کہ تقریبا پون صدی سے رائج بجلی کا تقسیم کاری کا نظام جدید سولر سسٹم کو اپنا حلیف سمجھتا ہے اور اس کے منصوبہ ساز اور پالیسی ساز سولر کی نئی ابھرتی حقیقت کو ماننے کو تیار نہیں ہیں، جب تک سورج چمکتا رہتا ہے تو یہ سولر نظام اپنی بجلی بناتا ہے، صارف استعمال کرتے ہیں اور یوں یہ حکومتی تقسیم کار کے نظام کو سلائے رکھتا ہے۔ جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے، یہ سارا سولر والا وزن بجلی کے قومی تقسیم کار کے نظام پر منتقل ہو جاتا ہے اور سولر خود سو جاتا ہے۔ اب قومی نظام پر وہ سارا بوجھ پڑ جاتا ہے جو دن میں نہیں پڑا ہوتا اور الحمد للہ پلاننگ کمیشن سے لے کر واپڈا ہاوس تک ایسے ذینی بانجھ بیٹھے ہوئے ہیں کہ وہ بجلی کے نظام کے اس روئیے کے ساتھ نہیں چل پا رہے۔ تو نتیجہ یہ ہے کہ جیسے ہی شام ہوتا ہے، ملک کا پورا نظام مختلف جگہوں پر ٹرپ کرنا شروع کردیتا ہے۔ تیل اور پانی سے بجلی بنانے والے نظام کو نئی حقیقتوں کا ادراک کرکے، فیصلہ سازوں کو نئی ضروریات کے مطابق تقسیم کاری کا نظام بنانا ہو گا ورنہ یہ پوری معیشت اور معاشرت کو لے کر بیٹھ جائے گا۔
آپ کا کیا خیال ہے؟