مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست سے اختلاف رکھنے والوں کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ کسی سیاسی رہنما کے خلاف الزامات کا فیصلہ سوشل میڈیا کی مہمات نہیں بلکہ حقائق اور شواہد کرتے ہیں۔ ملک کے اصل مسائل پر گفتگو کیجیے، بلوچستان میں امن کے لیے عملی اقدامات کیجیے اور قومی وسائل کے استعمال پر جواب دہی یقینی بنائیے۔
#اسی_فیصدبجٹ_کہاں
#رہزن_چوکیدار
#پالشی_حکومتی_ٹولہ
#بوٹ_کو_عزت_دو
#رہبرامت_مولانا
پیف اساتذہ اور پارٹنرز محدود وسائل میں بھی بہترین تعلیمی نتائج دے رہے ہیں۔ چیئرمین پیف اور @RanaSikandarH صاحب سے گزارش ہے کہ فی بچہ گرانٹ میں معقول اضافہ فرما کر تعلیمی مشن کو مزید مضبوط بنائیں۔
@PEFOfficial#کلاس_روم_سے_دنیا_تک#PEFFamily
پنجم اور ہشتم کے امتحانات: واضح پالیسی آخر کب آئے گی؟
تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے امتحانات کا شفاف اور منظم ہونا ضروری ہے، لیکن جب امتحانی پالیسی ہی واضح نہ ہو تو اساتذہ، طلبہ اور والدین کے لیے مشکلات پیدا ہونا فطری بات ہے۔
گزشتہ سال پیکٹا (PECTAA) نے جماعت ہشتم کے امتحانات منعقد کیے، جن میں چار مضامین کا امتحان لیا گیا۔ تاہم ایک اہم سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جماعت پنجم اور ہشتم کے امتحانات میں کتنے مضامین شامل ہوں گے؟ اس حوالے سے واضح اور بروقت پالیسی سامنے نہ آنے کی صورت میں تعلیمی اداروں کو تیاری اور منصوبہ بندی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ انہیں پہلے سے معلوم ہو کہ بچوں کو کن مضامین کی تیاری کروانی ہے، امتحانی طریقۂ کار کیا ہوگا اور نصاب کے کن حصوں پر خصوصی توجہ دینی ہے۔ والدین بھی اسی غیر یقینی صورتِ حال میں پریشان رہتے ہیں کہ ان کے بچوں کا امتحانی معیار کیا ہوگا۔
پیکٹا کے ذمہ داران سے گزارش ہے کہ جماعت پنجم اور ہشتم کے امتحانات کے حوالے سے واضح، جامع اور تحریری پالیسی جاری کی جائے۔ اس میں مضامین کی تعداد، امتحانی طریقۂ کار اور نصاب کی تفصیلات صاف طور پر بیان کی جائیں، تاکہ سکولوں کو بروقت رہنمائی مل سکے۔
تعلیم میں بہتری صرف امتحان لینے سے نہیں، بلکہ واضح منصوبہ بندی اور مستقل پالیسی سے ممکن ہے۔ طلبہ کا مستقبل غیر یقینی فیصلوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پیکٹا تعلیمی اداروں کو بروقت اعتماد میں لے اور ایسی پالیسی دے جس سے اساتذہ یکسوئی کے ساتھ تدریسی عمل جاری رکھ سکیں۔
#PEFFamily
@RanaSikandarH@Shahid_farid19@PECTAAOfficial
پیف پارٹنر سکولوں کی ادائیگیوں میں کٹوتی: شفاف نظام وقت کی اہم ضرورت
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے تحت چلنے والے پارٹنر سکولوں کو ہر ماہ ملنے والی ادائیگی میں مختلف وجوہات کی بنا پر کٹوتی ہو جاتی ہے، لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ اکثر سکول مالکان کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کی رقم کیوں اور کس مد میں کاٹی گئی ہے۔ ادائیگی کم موصول ہوتی ہے تو سکول انتظامیہ کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کٹوتی کس وجہ سے کی گئی ہے۔
کیا پارٹنر سکولوں کو یہ جاننے کا حق نہیں کہ ان کی ادائیگی میں کتنی رقم اور کس وجہ سے کاٹی گئی؟
پیف انتظامیہ کو چاہیے کہ ایک شفاف اور مؤثر نظام متعارف کروائے، جس کے تحت ہر سکول کے آن لائن پورٹل یا سیل میں ادائیگی کی مکمل تفصیلات ظاہر کی جائیں۔ اس میں منظور شدہ رقم، اصل موصول ہونے والی رقم، کٹوتی کی مجموعی مقدار اور ہر کٹوتی کی واضح وجہ درج ہو۔ اگر کسی سکول پر کوئی جرمانہ یا دوسری کٹوتی عائد کی گئی ہے تو اس کی تفصیل بھی تحریری طور پر فراہم کی جائے۔
اس نظام سے نہ صرف پارٹنر سکولوں کی پریشانی کم ہوگی بلکہ غلطیوں کی نشاندہی اور شکایات کے ازالے میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ اگر کسی سکول کو کٹوتی پر اعتراض ہو تو اسے اپیل کرنے اور وضاحت حاصل کرنے کا موقع بھی ملنا چاہیے۔
پیف پارٹنرز حکومت کے تعلیمی مشن میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ مالی معاملات میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پیف انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ ادائیگیوں میں کٹوتی کی وجوہات واضح کرنے کے لیے فوری طور پر باقاعدہ نظام بنایا جائے، تاکہ ہر پارٹنر سکول کو معلوم ہو کہ اسے کتنی رقم ملی، کتنی کٹی اور کیوں کٹی
#PEFFamily
@Shahid_farid19@PEFPUNJAB@RanaSikandarH@MaryamNSharif@Malik__jameel@farooq_juglani
پیف سکولوں کو ہر ماہ 20 تاریخ کو ادائیگی ملنا لمحۂ فکریہ
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے تحت چلنے والے نجی سکولوں کو ہر ماہ 20 تاریخ کو ادائیگی ملنا ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ تعلیمی اداروں کو اپنے اخراجات پورے کرنے، اساتذہ کی تنخواہیں ادا کرنے اور تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے بروقت فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ادائیگی مہینے کی 20 تاریخ تک پہنچتی ہے تو سکول مالکان کے لیے مالی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔
مہنگائی کے اس دور میں بجلی کے بل، کرایے، اسٹیشنری اور دیگر اخراجات پورے کرنا پہلے ہی مشکل ہو چکا ہے۔ دوسری طرف اساتذہ بھی اپنے گھریلو اخراجات اور بچوں کی ضروریات کے لیے تنخواہوں کے منتظر رہتے ہیں۔ آخر اساتذہ کب تک انتظار کریں؟
پیف حکام کو چاہیے کہ ادائیگیوں کے نظام پر نظرثانی کریں اور پارٹنر سکولوں کو ماہ کے آغاز میں فنڈز فراہم کرنے کا مستقل نظام بنائیں۔ یاد رہے کہ بروقت ادائیگی صرف سکول مالکان کا مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں اساتذہ کے معاشی تحفظ اور بچوں کے مستقبل کا معاملہ بھی ہے
#PEFFamily
@Shahid_farid19@RanaSikandarH@MaryamNSharif@PEFPUNJAB
گورنمنٹ کو سکول پرائیویٹ کرنے بھت شوق ہے لیکن تین تین ماہ بعد پیمنٹ دینا یہ کہاں کا انصاف ہے بے روزگاری ختم نھی ھوئی بلکہ بڑھی ہے سکول مالکان پیمنٹ لگا کر خالی ہاتھ بیٹھے ہیں کب پیمنٹ آئے گی یہ نظام ناکام ھوچکا آنے والا وقت تعلیم کی تباہی ثابت ھوگا
@shamshergondal@NabilaPM
پیف پارٹنرز کی ادائیگیاں کہاں گئیں؟ اساتذہ پریشان، گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے کا خدشہ!
اساتذہ قوم کے معمار ہیں، مگر جب انہی کے گھروں میں معاشی پریشانی دستک دے تو تعلیمی نظام کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے ساتھ منسلک پارٹنر سکولوں کے مالکان اور ان میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ ان دنوں شدید ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ پیف پارٹنرز کو تاحال ادائیگی نہ ہونے کے باعث سکولوں کا مالی نظام متاثر ہو رہا ہے، جبکہ عملہ اپنی تنخواہوں کا منتظر ہے۔ یہ محض چند سکول مالکان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ان ہزاروں خاندانوں کی پریشانی ہے جن کا روزگار تعلیم کے اس نظام سے وابستہ ہے۔
ذرا تصور کیجیے! ایک استاد پورا مہینہ بچوں کو پڑھاتا ہے، انہیں علم کی روشنی دیتا ہے، ان کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہے، مگر جب مہینے کے آخر میں اپنے گھر لوٹتا ہے تو اس کے سامنے بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، راشن اور دیگر ضروری اخراجات منہ کھولے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر تنخواہ نہ ملے تو وہ کس سے فریاد کرے؟ کس کو اپنی مجبوری بتائے؟ اور اپنے بچوں کو کیا جواب دے کہ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسے کیوں نہیں ہیں؟
کیا ایک استاد کی محنت کا صلہ صرف انتظار، بے یقینی اور پریشانی ہونا چاہیے؟
یہ سوال آج ہر اس شخص کے ضمیر کو جھنجھوڑنا چاہیے جو تعلیم کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔
پیف پارٹنرز بھی آخر انسان ہیں۔ وہ سکول چلانے کے لیے عمارتوں کے کرائے ادا کرتے ہیں، بجلی کے بل بھرتے ہیں، تدریسی عملے کی تنخواہوں کا بندوبست کرتے ہیں اور بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے لیے مسلسل مالی دباؤ برداشت کرتے ہیں۔ جب ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں تو اس کے اثرات صرف سکول مالکان تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اساتذہ، دیگر ملازمین اور ان کے زیر کفالت خاندان بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ایک طرف مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہے، دوسری طرف تنخواہوں کی غیر یقینی صورت حال نے اساتذہ کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں کسی استاد کے لیے اپنے گھر کا بجٹ بنانا بھی ایک مشکل امتحان بن جاتا ہے۔ وہ اپنے فرائض انجام دے یا گھر کی ضروریات پوری کرنے کی فکر میں مبتلا رہے؟
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ پیف پارٹنرز کوئی خیرات نہیں مانگ رہے، بلکہ اپنے تعلیمی اداروں کو چلانے کے لیے واجب الادا ادائیگیوں کے منتظر ہیں۔ ان ادائیگیوں سے نہ صرف سکولوں کے انتظامی اخراجات پورے ہوتے ہیں بلکہ اساتذہ اور دیگر ملازمین کے روزگار کا پہیہ بھی چلتا ہے۔
اگر یہی صورت حال طویل ہوتی رہی تو خدشہ ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں گی، اساتذہ کی حوصلہ شکنی بڑھے گی اور بالآخر اس کا نقصان ان بچوں کو بھی پہنچ سکتا ہے جن کے روشن مستقبل کے لیے یہ سکول کام کر رہے ہیں۔
حکومت پنجاب اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی انتظامیہ کو اس معاملے کی سنگینی کا احساس کرنا ہوگا۔ محض اعلانات اور یقین دہانیاں کافی نہیں؛ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادائیگیوں کی صورت حال واضح کی جائے، زیر التوا رقوم کی ادائیگی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور آئندہ کے لیے ایسا مؤثر نظام بنایا جائے جس میں پارٹنرز اور اساتذہ کو بار بار اپنی جائز ضروریات کے لیے انتظار نہ کرنا پڑے۔
حکومت کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ تعلیمی میدان میں خدمات انجام دینے والے ان لوگوں کو مالی بے یقینی سے کیسے بچایا جا سکتا ہے۔ اساتذہ کو بروقت تنخواہ ملنا کوئی احسان نہیں، بلکہ ان کی محنت، وقت اور پیشہ ورانہ خدمات کا بنیادی تقاضا ہے۔
یاد رکھیے! استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، وہ نسلوں کا مستقبل بناتا ہے۔ لیکن جو استاد خود معاشی پریشانیوں میں گھرا ہو، اس کے لیے یکسوئی اور اطمینان کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینا کتنا مشکل ہوگا؟
پیف پارٹنرز کی ادائیگیوں کا معاملہ محض مالی لین دین نہیں، بلکہ اس سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کے معاشی تحفظ اور بچوں کے تعلیمی مستقبل کا سوال ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اس آواز کو سنیں، مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور اساتذہ کو مزید غیر یقینی صورت حال سے بچائیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پیف پارٹنرز کی پریشانی کو کاغذی کارروائیوں میں گم نہ ہونے دیا جائے۔ ان کی ادائیگیوں کے بارے میں واضح مؤقف سامنے لایا جائے اور اساتذہ کو ان کی تنخواہیں دلوانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
کیونکہ جب استاد پریشان ہوتا ہے تو اس کی پریشانی صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتی؛ اس کے اثرات پورے تعلیمی ماحول پر پڑتے ہیں۔
حکومت اور متعلقہ حکام سے سوال ہے: پیف پارٹنرز کی ادائیگیاں کب جاری ہوں گی، اور اساتذہ کو اپنی محنت کی کمائی کے لیے مزید کتنا انتظار کرنا پڑے گا؟
#PEFFamily
@RanaSikandarH@MaryamNSharif@Shahid_farid19
پیف پارٹنرز علم دوست لوگوں کے پرزور مطالبے
تعلیم دوست شخصیات کی خدمات کا اعتراف اور تعلیمی اصلاحات وقت کی ضرورت
تعلیم قومی ترقی کی بنیاد ہے، اس لیے تعلیمی خدمات انجام دینے والی شخصیات کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ پیف پارٹنرز نے رانا سکندر حیات اور شاہد فرید، ایم ڈی پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن، کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں قومی ایوارڈ دینے کا مطالبہ کیا ہے اور ان کی تعلیمی اصلاحات کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
تاہم تعلیمی اقدامات کی کامیابی کے لیے پیف پارٹنرز کے مسائل حل کرنا بھی ناگزیر ہے۔ یہ ادارے محدود وسائل میں ہزاروں بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں، مگر مہنگائی، بڑھتے اخراجات اور ادائیگیوں میں تاخیر سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے، جس سے اساتذہ کی تنخواہوں اور تعلیمی معیار متاثر ہو سکتے ہیں۔
لہٰذا خدمات کے اعتراف کے ساتھ پیف پارٹنرز کے جائز مطالبات پورے کیے جائیں، ادائیگیاں بروقت ہوں اور فیسوں میں مناسب اضافہ کیا جائے۔
حقیقی تعلیمی انقلاب نعروں اور اعزازات سے نہیں، بلکہ اساتذہ کے احترام، اداروں کے استحکام اور ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی سے ممکن ہے۔
#PEFFamily
@Shahid_farid19@RanaSikandarH@PEFPUNJAB@farooq_juglani
@RanaSikandarH@MaryamNSharif محترم @RanaSikandarH صاحب! آپ نے چند ماہ پہلے پیف پارٹنرز کی پیمنٹ میں اضافے کا جو وعدہ فرمایا تھا، اس کی تکمیل کے لیے ہم منتظر ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں اسکول چلاتے اساتذہ کے لیے یہ فیصلہ انتہائی ضروری ہے۔ امید ہے آپ جلد خوشخبری سنائیں گے۔
#کلاس_روم_سے_دنیا_تک#PEFFamily
#PEFFamily
پیف پارٹنرز وقت پر فنڈز کے عدم اجراء سے شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔پیف کا کامیاب ماڈل فنڈز کے بروقت جاری نہ ہونے سے شدید مالی بحران کا شکار ہو کر ناکامی سے دوچار نہ یو جائے
آج 9 اکتوبر ہو گئی ہے ابھی تک پیف سکولوں کو پےمنٹس نہیں ملی سٹاف تنخواہیں مانگ رہا ہے پےمنٹ کی کوئی ایک تاریخ مقرر کردیں تاکہ سٹاف کو پتا ہو کہ فلاں تاریخ کو تنخواہ ملے گی قلیل تنخواہ پر گزارا کرنے والے سٹاف پر ترس کھائیں جو تھوڑی بہت پےمنٹس ملتی ہے ٹائم پر دیں تاکہ سٹاف کو ٹائم پر تنخواہیں دی جا سکیں
#PEFFamily
@MaryamNSharif@RanaSikandarH@Shahid_farid19@PEFPUNJAB
پردیس میں دو سال گزرنے کے بعد اگر اس طرح آپ کا خیرمقدم ہو جائے
جب اپنے ملک والے ایسے ہو تو اوروں سے کیا گلا
"یہ وطن تمہارا ہے، ہم ہیں خواہ مخواہ اس میں۔"
📢 حکومتِ پنجاب سے پیف پارٹنرز کا دوٹوک مطالبہ
پیف پارٹنرز گزشتہ کئی سال سے محدود وسائل میں لاکھوں بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب مہنگائی اور تعلیمی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
لہٰذا حکومتِ پنجاب سے ہمارا واضح اور پُرزور مطالبہ ہے کہ پیف پارٹنرز کی فی بچہ سبسڈی میں فوری، مناسب اور مہنگائی کے تناسب سے خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔
📌 بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مقابلے میں موجودہ سبسڈی ناکافی ہے؛ پیف پارٹنرز کو حقیقی اور پائیدار مالی سہارا دیا جائے تاکہ معیاری تعلیم کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔
پیف پارٹنرز کو ریلیف دیں، تعلیم کو مضبوط بنائیں۔
#PEFFamily
@RanaSikandarH@MaryamNSharif@AzmaBokhariPMLN
پیف کے رولز 👇
بیمار بچے کی پیمنٹ نی ملے گی (صرف صحت مند بچوں کی پیمنٹ ملے گی)
2:بچے گھر شادی ہے فنکشن ہے پیمنٹ نی ملے گی
3. اگر بچے کے گھر فوتگی ہوگئی تو بھی پیمنٹ نہیں ملے گی۔
4:بچے کا ب فارم اگر والدہ نے بنوایا ہے تو بھی پیمنٹ نی ملے گی۔۔۔
بیشک بچہ موجود ہے پڑھ رہا وزٹ پہ بھی حاضر ہے ۔انھیں باتوں کی وجہ سے پھر دل ٹوٹ جاتا انسان کا محنت کرنے کو دل نہی کرتا ۔۔۔۔یہ کس دنیا میں ہے ایسا ؟
#PEFFamily
بہت اچھا قدم ہے
بس اب تھوڑی سی نظر کرم پیف پارٹنرز اسکولز کی فی بچہ فیس میں 2000 روپے کا اضافہ فرما دیں تو میڈم مریم نواز صاحبہ کی محبت ہوگی
#PEFFamily