اے میرے مالک 15, 20 گاڑیوں کے پروٹوکول کیساتھ اور 10کروڑ کی لینڈ کروزر میں بیٹھ کر گورنر پنجاب کی طرح پیاز (وسل ) کے ساتھ روٹی کھانے کی سادگی ہر پاکستانی کو نصیب فرما۔
تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ اپنے بجٹ کو تہس نہس کر دینے والے ناجائز بجلی بلز کے خلاف سوشل میڈیا پر عوامی احتجاج میں بھرپور حصہ لیا جائے تمام دوست اس ہیش ٹیگ کو استعمال کریں
#بھتہ_خور_آئی_پی_پیز_نامنظور
@ia_rajpoot@_Ms786 اسرار صاحب آپ کو اگر 15000سیلری دینے والے سکولز سے متعلق کچھ تفصیلات درکار ہیں تو میں آپ کو حقائق سے آگاہ کر سکتا ہوں۔بلکہ جس کو بھی جان کاری چاہیے وہ 0334 6783637 میرے نمبر پر مجھ سے رابطہ کرکے معلومات لیکر پوسٹ لگائیں
@ibnehussain03 آؤٹ سورس سکولز کو صرف 1200 روپے فی بچہ ادا کیا جا رہا ہے۔پیف سکولز کو 750 روپے فی بچہ ادا کیے جاتے ہیں۔اس میں سٹاف اور بچوں کو پک اینڈ ڈراپ دینے پر بہت سا فنڈ خرچ ہوجاتا ہے
باقی اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔آپ ان سکولز کی فنڈنگ میں اضافے کی آواز بلند کریں تاکہ یہ سکولز سیلری بہتر کریں
@ibnehussain03 جناب آپ صرف ایک رخ ہی دیکھ رہے ہیں۔آؤٹ سورس سکولز شہروں سے باہر دیہاتی علاقوں میں ہیں جہاں سے بمشکل میٹرک پاس ٹیچنگ اسٹاف ملتا ہے۔سکولز اسٹاف شہر سے لیکر جاتے ہیں جس پر دس سے بارہ ہزار فی ٹیچر خرچ ہوتا ہے۔سکولز کو ملنے والا بجٹ آپ نے دیکھا ہی نہیں ہے۔اکثر سکولز مالی مشکلات میں ہی
وزیرخزانہ صاحب آئندہ بجٹ میں اس پر نیا ٹیکس لگانا بہت ضروری ہے، ورنہ اسکی عیاشیاں اور بڑھ جائیگی۔
یہ بوڑھا مزدور ایک مرچ سے بھی کام چلا سکتا تھا۔ دوسری مرچ لگژری ھے۔
@RanaSikandarH پیماء کے ماتحت ہزاروں سکولز گزشتہ 3 ماہ سے معاوضوں کی عدم ادائیگی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ یاد رہے کہ 2018 تک ادائیگیاں باقاعدگی سے ہوتی ۔
*یہ کیا پڑھیئے*
بھارتی پنجاب کےوزیراعلی نے11 ارب کا تھرمل پاورپلانٹ خرید کر600 یونٹ تک بجلی فری کردی صوبےمیں
جس سےتقریبا80 فیصدگھروں کابل مفت ہوگیا ہے۔ہماری وزیر اعلیٰ نے 11 ارب کا جہاز لےکرباقی صوبوں کو مات دے دی۔کسان ہرفصل پرروتاہے، ٹیکسکی وصولی کےلیےنئی نئی فورسزبنائی ہوئی ہیں
ظلم کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے
کل کراچی سہراب گوٹھ اڈے پر ایک منظر دیکھا جو دل کو اندر تک ہلا گیا۔ دو مسافر آئے تھے باپ اور بیٹا۔ چہرے پر غربت کے آثار، آنکھوں میں گھر جانے کی خوشی مگر جیب میں ٹوٹے خواب۔
وہ عید اپنے گھر والوں کے ساتھ منانے کے لیے ٹکٹ لینے آئے تھے، مگر جب کرایہ سنا تو جیسے امید ہی دم توڑ گئی۔
کراچی سے ڈیرہ اسماعیل خان
نان اے سی بس کا کرایہ 5000 روپے اور اے سی کا 8000
اروپے
اور بس مالکان نے کہا کہ کل تک نان اےسی کا کرایہ 8000 روپے اور اےسی کا کرایہ 10000 ہوگا۔
یہ سن کر وہ دونوں خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر کھڑے رہے، پھر نظریں جھکا کر بغیر ٹکٹ لیے واپس چل دیے۔ نہ شکایت، نہ آواز… بس ایک بے بسی جو دل چیر گئی۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ کون سا نظام ہے جہاں خوشیاں بھی پیسوں کی محتاج ہو جائیں؟
کیا غریب کا عید منانا بھی اب ایک خواب بن چکا ہے؟
کیا حکومت اور متعلقہ ادارے اس مہنگائی اور بے رحم کرایوں سے واقعی بے خبر ہیں یا سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں؟
یہ صرف دو افراد کی کہانی نہیں یہ ہر اس غریب کی کہانی ہے جو اپنے گھر، اپنے بچوں اور اپنی ماں کی مسکراہٹ کے لیے ترستا ہے۔
آپ تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو جنگل میں آگ طرح پھلا دیں تاکہ ہمارے افسران بالا جو کہ گونگے بہرے اور اندھے ہو چکے ہیں انکو کچھ تھوڑی سی شرم آجائے۔
اللہ اس ملک کے حالات بہتر فرمائے، اور ہر مظلوم کو اس کا حق نصیب کرے۔ آمین
اپوزیشن کی کل سیاست کا محور آجکل صرف مولانا فضل الرحمن ہیں وہ چاہیں گے تو اپوزیشن میدان گرم کر سکے کی انکی ہاں میں سب کی ہاں اور انکی نا میں سبکی نا ہوگی پھر کہتے ہیں مولوی کا سیاست سے کیا لینا دینا